سرپلس جانور اور پرندے پنجاب وائلڈ لائف کے لئے بوجھ بن گئے

آصف محمود  ہفتہ 26 ستمبر 2020
سرپلس جانوروں اورپرندوں کی نئی قیمتوں کے تعین میں ابھی ایک سال لگ سکتا ہے فوٹو: فائل

سرپلس جانوروں اورپرندوں کی نئی قیمتوں کے تعین میں ابھی ایک سال لگ سکتا ہے فوٹو: فائل

لاہور  : پنجاب میں سرکاری چڑیاگھروں، سفاری پارک اوروائلڈلائف پارکوں میں موجود سرپلس جانوروں اورپرندوں کی نئی قیمتوں کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے سرپلس جانوروں کی دیکھ بھال انتظامیہ کے لیے مسلہ بن گئی ہیں، نر جانوروں کی آپس میں لڑائیاں، بیماری کی وجہ سے اموات اورکسی وبا کی صورت میں زیادہ نقصان کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔

پنجاب وائلڈلائف کے پاس تین زولوجیکل گارڈن (چڑیا گھر)،ایک سفاری زو اور 16 وائلڈ لائف پارک و بریڈنگ سینٹرز ہیں جہاں اس وقت سیکڑوں جانور اور پرندے سرپلس ہیں اور انتظامیہ کے پاس انہیں ایس او پیز کے ساتھ سنبھال کر رکھنا مشکل ہوچکا ہے۔ تمام چڑیا گھروں، وائلڈلائف پارکوں اوربریڈنگ سینٹرز سے سرپلس جانوروں اور پرندوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں تاہم ان کی نئی قیمت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے انہیں فروخت نہیں کیا جاسکتا ہے۔

وائلڈ لائف ذرائع کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ تعداد ہاک ڈئیر، نیل گائے، مفلون شیب ، کالاہرن اور شیروں کی ہے۔ محکمے کے لئے ان جانوروں اورپرندوں کی خوراک کی فراہمی بھی مشکل ہوچکی ہے، وائلڈلائف پارک جلو اورسفاری پارک میں کئی ماہ سے خوراک فراہم کرنیوالے ٹھیکداروں کو ادائیگیاں نہیں ہوسکی ہیں۔

پنجاب وائلڈلائف حکام نےبتایا کہ اس وقت ہاک ڈئیرکے ایک جوڑے کی قیمت 75 ہزار روپے، نیل گائے کا جوڑا ایک لاکھ 20 ہزار، مفلون شیپ کا جوڑا 80 ہزار اورکالا ہرن کے جوڑے کی قیمت ایک لاکھ روپے تک ہے ۔ اسی طرح ایک شیرکی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے ہےجبکہ ٹائیگرکی کوئی سرکاری قیمت مقررنہیں ہے۔ لاہورسفاری پارک کے ذرائع نے بتایا کہ ان کے پاس اس وقت چالیس سے زیادہ شیر،ٹائیگراوربگ کیٹس ہیں، ایک بگ کیٹ کی یومیہ خوراک تقریبا 10 کلوگوشت ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرپلس جانوروں اورپرندوں کی نئی قیمتوں کے تعین میں ابھی ایک سال لگ سکتا ہے، چندروز قبل پنجاب وائلڈلائف بورڈکا اجلاس ہواتھا جس میں صوبائی وزیرجنگلی حیات سمیت دیگرحکام شریک ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں سرپلس جانوروں اورپرندوں کی نئی قیمتیں طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ محکمے کی طرف سے قیمیتوں کے تعین کے لئے کمیٹی بنائی جائیگی، جس کی سفارشات پرنئی قیمتوں کی سمری تیار کرکے منظوری کے لئے بورڈ اور وزیراعلی کوبھیجی جائیگی یہ ایک طویل پراسیس ہے۔

وائلڈلائف حکام نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ اگرسر پلس جانوروں اورپرندوں کو فوری فروخت کرنے کے حوالے سے اقدامات نہ اٹھائے گئے تونرجانوروں کی باہمی لڑائی کے نتیجے میں ان کے زخمی اور بیمار ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سردیوں میں خدانخواستہ کوئی آؤٹ بریک ہوتا ہے تو جانوروں اور پرندوں کی ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمے کے پاس سرپلس جانور اور پرندے خریدنے کے لئے درجنوں درخواستیں پینڈگ پڑی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔