کراچی سمیت سندھ بھرمیں 7 ماہ کی بندش کے بعد تعلیمی سرگرمیاں مکمل بحال

ویب ڈیسک  پير 28 ستمبر 2020
طویل چھٹیوں کے بعد اسکول آنے پر چند بچے انتہائی خوش تو چند افسردہ دکھائی دیے: فوٹو: فائل

طویل چھٹیوں کے بعد اسکول آنے پر چند بچے انتہائی خوش تو چند افسردہ دکھائی دیے: فوٹو: فائل

 کراچی: شہرقائد سمیت سندھ بھرمیں سات ماہ کی طویل بندش کے بعد تعلیمی سرگرمیاں مکمل بحال ہوگئیں۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق سندھ بھرمیں تدریسی عمل کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا، کورونا وباء کے پیش نظر طویل بندش کے بعد کراچی سمیت صوبے بھر میں نجی و سرکاری تعلیمی ادارے مکمل طور پر کھول دئیے گئے، پری پرائمری سے مڈل کلاسز کے طلبہ بھی والدین کے ہمراہ فیس ماسک پہن کر اسکول پہنچے، طویل چھٹیوں کے بعد اسکول آنے پر چند بچے انتہائی خوش تو چند افسردہ دکھائی دیے، کلاسوں میں بچوں کی حاضری 30 سے 40 فیصد رہی ہے۔

اسکول انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے بھرپور انتظامات کئے گئے، اسکول میں داخل ہونے سے قبل طالبعلموں، اساتزہ اور دیگرعملے کا تھرمل گن سے درجہ حرارت چیک کیا گیا، ہاتھوں کو سینیٹائز کیا گیا، جبکہ فیس ماسک پہننے کے بعد اسکول میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، اسکول کی کلاسوں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے سمیت صفائی ستھرائی کا بھی خاص خیال رکھا گیا، کرسی، میز اور فرش کو جراثیم کش اسپرے کرکے ڈس انفیکٹ کیا گیا۔

اساتذہ کا کہنا تھا کہ طالبعلموں سے اسکول میں کورونا ایس او پیزپرعملدرآمد کروانے سمیت انہیں ایس او پیز کے حوالے سے آگاہی بھی فراہم کی جارہی ہے جبکہ والدین کو بھی خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ بچوں کوماسک پہننے اور سینیٹائزر کے استعمال کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتے رہیں، جن طالبعلموں اور عملے کو بخار ہے انکو واپس گھر بھیجا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ بھر میں 15 ستمبر کو نویں دسویں جماعت، کالجز اورجامعات کھول دی گئیں تھیں، صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز سامنے آنے پر 21 ستمبر کو چھٹی سے آٹھویں جماعتوں میں دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں کے آغازکوایک ہفتے کے لئے مؤخرکیا تھا جسے 28 ستمبر سے دوبارہ بحال کردیا گیا ہے، محکمہ تعلیم سندھ سعید غنی کے احکامات کے مطابق تمام تعلیمی ادروں کوایس او پیزپرعمل کرنا ہوگا، بیمارطلبا یا اساتذہ اسکول نہیں آئیں گے جبکہ احتیاطی تدابیر پرعمل نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔