محاذ آرائی کے بجائے اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت

ارشاد انصاری  بدھ 30 ستمبر 2020
ایک طرف سیاسی عدم استحکام کا چیلنج کے تو دوسری جانب معاشی چیلنج ہے۔فوٹو : فائل

ایک طرف سیاسی عدم استحکام کا چیلنج کے تو دوسری جانب معاشی چیلنج ہے۔فوٹو : فائل

 اسلام آباد:  اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں محمد نوازشریف کی تقریر کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ملک کا سیاسی درجہ حرارت لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ مسلم لیگ(ن)کے صدر میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد تو سیاسی میدان میں طبل جنگ بج چکا ہے لیکن اس سیاسی جنگ میں دونوں طرف سے ملک کے اہم ادارے نشانے پر ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آئی ہے اور ایسے وقت میں ملکی سرحدیں شعلہ اگل رہی ہوں اور دشمن چاروں طرف سے یلغار کیلئے  تیار ہو عالمی بالادستی کیلئے جاری جنگ سے تیسری جنگ کے خطرات منڈلارہے ہوں تو ایسے حالات میں قومی سلامتی کے اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ متنازعہ بنا کر کمزور کیا جائے اور اس کیلئے سب سے اہم ذمہ داری حکومت وقت کی ہوتی ہے اس کا فرض ہوتا ہے کہ حالات کو پوائنٹ آف نوریٹرن تک نہ جانے دیا جائے اور بات چیت کے ذریعے معاملات حل کئے جائیں۔

اب یہ سیاسی بلوغت کا فقدان ہے یا کج فہی ہے یا سیاسی پالیسی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے آپسی لڑائی میں اداروں کو سنٹر پوائنٹ بنادیا ہے جو کہ نہ صرف ملک کے جمہوری مستقبل کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے بلکہ ملک کے معاشی و سیاسی اور دفاعی مستقبل کیلئے بہت خطرناک ہے۔ تجزیہ کاروں کی جانب سے ملک کی عسکری قیادت کا فوج کے سیاسی عمل سے لاتعلقی کے اعلان کے دو روز بعد ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید کی جانب سے اپنائے جانے والے رویے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ شیخ رشید کو عسکری قیادت کے اعلان کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑنے کی ضروت کیوں پیش آئی۔

کیا یہ جذبات کی رو میں بہہ گئے تھے یا دانستہ طور پر ایسا کیا گیا کیونکہ شیخ رشید کے اس رویے نے عسکری قیادت کے سیاست میں کردار کو تمام ملکی و غیر ملکی حلقوں میں میں موضوع بحث بنا دیا ہے حالانکہ ملک جس نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔

ان حالات میں اداروں کی مضبوطی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتی ہے لیکن عسکری قیادت سے سیاستدانوں کی ملاقاتوں کے ٹی وی پر جس انداز سے چرچے کئے گئے اور پھر جواب میں اپوزیشن رہنماوں کے بیانیہ نے تو مشکلات کو بڑھا دیا ہے اس کے جواب میں سب سے سخت موقف مولانا فضل الرحمان اور انکی جماعت کے دوسرے سینئر رہنما عبدالغفور حیدری کا سامنے آیا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے تو آرمی چیف سے ملاقاتوں کے حوالے سے نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے اور اسکی ابھی تک کسی طرف سے تردید بھی سامنے نہیں آئی ہے۔

البتہ شیخ رشید کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کی وارننگ نے رنگ ضروردکھایا کہ شیخ رشید ٹھیک ایک دن بعد آرمی یا کسی بھی ادارے کی ترجمانی کے موقف سے یوٹرن لینے پر مجبور ہوگئے اور بیک فٹ پر چلے گئے لیکن اداروں کو متنازعہ بنانے سے متعلق شیخ رشید بارے  سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس صورتحال کے پیش نظر عام لوگ دو سوالوں کا جواب تلاش کرنے میں مصروف ہیں پہلا  یہ کہ شیخ رشید نے عسکری قیادت کی ہنڈیا کس کے کہنے پر پھوڑی؟ اور کس کے کہنے پر عسکری قیادت کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں دوسرا یہ کہ یہ ہنڈیا پھوڑ کر شیخ رشید نے کس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

ملک کی عسکری قیادت کو، سیاستدانوں کو یا پھر دونوں کو مگر ابھی بعض لوگ اسے حکومتی پالیسی سے تعبیر کر رہے ہیں اور انکا خیال ہے کہ حکومت اپنی ناقص کارکردگی کے باعث بری طرح ایکسپوژ ہوئی ہے اور پچھلے چند ہفتوں سے مہنگائی کا جو طوفان بڑھ رہا ہے اس سے عوام میں حکومت کے خلاف غصہ بڑھ رہا تھا ور پھر گلگت بلتستان کے انتخابات بھی سر پر آئے ہوئے ہیں ایسے میں سیاسی درجہ حرارت کو ہوا دینا حکومت کی بہترین حکمت عملی ہے اور اس سے مہنگائی، غربت و بے روزگاری اور آنے والے دنوں میں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کرنے کیلئے بجلی و گیس مہنگے کرنے سمیت دیگر تمام عوامی ایشوز اس سیاسی شورش میں دب کر رہ جائیں گے۔

بعض لوگ میاں نوازشریف کی تقریر کو سیاسی انڈرسٹینڈنگ سے تعبیر کر رہے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ نوازشریف کی تقریر سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے مردہ گھوڑے میں جان آگئی ہے اور اس سے تحریک انصاف کی حکومت کیلئے پانچ سال پورے کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے لیکن وہیں اس ساری صورتحال میں شیخ رشید جس طرح فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں۔

اس بارے میں بعض حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا شاہ محمود قریشی کے وزارت عظمی کی دوڑ سے آوٹ ہونے کے بعد شیخ رشید ان تو نہیں ہونے جا رہے اور کسی بھی قسم کی ممکنہ ان ہاوس تبدیلی کی صورت میں وزارت عظمی کا قرعہ ایک ووٹ کی پارٹی کے سربراہ شیخ رشید کے نام تو نہیں نکلنے والا یہ تو خیر آنے والا وقت بتائے گا لیکن اس وقت سیاسی صورتحال شدید قسم کے عدم استحکام کا شکار ہے اور آنے والے دنوں میں یہ ٹکراو و عدم استحکام مزید بڑھتا دکھائی دے رہا ہے جس کے ملکی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

اپوزیشن کے نئے قائم ہونے والے ڈیموکریٹک الائسن کا اجلاس بھی بلا لیا گیا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک اس کی تفصیلات بھی سامنے آجائیں گی کہ اپوزیشن کیا حکمت عملی وضع کرتی ہے مگر جو معاشی فرنٹ پر فوری ردعمل سامنے آٰیا ہے وہ کوئی اچھا نہیں ہے کیونکہ میاں شہباز شریف کی گرفتاری سے پیدا ہونیوالے سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ایک دن میں ملکی سٹاک مارکیٹ ساڑھے نو سو پوائنٹ سے زائد گری ہے جس سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

اگرچہ معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت اس تاثر کوزائل کرنے کیلئے اگلے چند روز میں ملکی سٹاک مارکیٹ کو اوپر اٹھانے کی کوشش کرے گی اور اس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے پیر کو ملکی سٹاک مارکیٹ کی بہتری کیلئے منظور کئے جانے والے تیس کروڑ ڈالر کے قرضے کی اچھی خبر کے بھی اثرات ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سیاسی عدم استحکام بڑھتا ہے تو کیا زیادہ دیر تک ملکی معیشت کو مصنوعی طور پر سنبھالادیا جا سکے گا جبکہ کورونا کے باعث ملکی معیشت پہلے ہی منفی میں جا چکی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں اور اب اگر حالات بگڑتے ہیں تو حکومت اور مقتدر حلقوں کیلئے سنبھالنا مشکل ہو جائیں گے کیونکہ چیلنجز بڑھتے جارہے ہیں۔

ایک طرف سیاسی عدم استحکام کا چیلنج کے تو دوسری جانب معاشی چیلنج ہے اور پھر میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد جس طرح کا ردعمل حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے سامنے آیا ہے وہ بہت پریشان کن ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ حکومتی حلقے میاں شہباز کو گرفتار کرکے بھی پریشان ہیں اورخود وزیراعظم عمران خان کی پیر کو اپنی تقاریر میں باڈی لینگوئج ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کی بڑی وجہ شائد مریم نواز کی پریس کانفرنس اور میاں نوازشریف کا ٹوئٹ،آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن سمیت دوسرے رہنماوں کا خلاف توقع شدید ردعمل ہے اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ میاں شہباز شریف کی گرفتاری سے شیخ رشید اور فیض الحسن چوہان کے ذریعے اپنائے جانے والے ن سے ش لیگ کے بیانیے کے غبارے سے بھی ہوا نکل گئی ہے اور پریشانی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک مسلم لیگ(ن)کے ووٹ بینک کو نہیں توڑا جا سکا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔