پنجاب روزگار اسکیم

مزمل سہروردی  پير 5 اکتوبر 2020
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

کورونا کے بعد ملک کی معاشی صورتحال تباہی کا شکار ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروبار بند ہو چکے ہیں۔ لوگوں کو اتنا نقصان ہو چکا ہے کہ وہ اب دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری میںاضافہ نظر آرہا ہے۔

یہ درست ہے کہ کورونا کے دوران سطح غربت سے نیچے رہنے والے لوگوں میں محدود وسائل کے ساتھ پیسے تقسیم کیے گئے ہیں۔ لیکن وہ اتنے پیسے نہیں تھے کہ اب کورونا کے بعد بھی لوگ ان پیسوں سے ہی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔ اس لیے ملک میں معاشی پہیہ کو دوبارہ چلانے کے لیے حکومت کو عوام کی مدد کے لیے آنا ہوگا ورنہ بے روزگاری بڑھتی جائے گی۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بہت مالی خود مختاری مل چکی ہے۔ لیکن پھر بھی ایک تاثر موجود ہے کہ جو بھی کرنا ہے وفاقی حکومت نے کرنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وفاقی حکومت کو دوبارہ اختیارات واپس لینے کی کوشش کے بجائے مزید اختیارات صوبوں کو دینے کی طرف کام کرنا چاہیے۔ بجلی اور گیس کی ترسیل ان کے بلوں کی ریکوری بھی وفاق کو صوبوں کو دینے کی کوشش کرنا چاہیے۔ہر صوبہ جو مرضی چاہے ریٹ رکھے اور جتنی مرضی چاہے سبسڈی دے۔ وہ بل لے نہ لے۔ یہ صوبہ کا اپنا معاملہ ہونا چاہیے۔ وفاق کو اس سردرد سے  باہر آنا چاہیے۔

وفاق صرف صوبوں کو یہ سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔ بہر حال کورونا کے بعد ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے پاکستان کی صوبائی حکومتیں ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ ایک عمومی رائے بن گئی ہے کہ جو کرنا ہے وفاق نے کرنا ہے۔ حالانکہ یہ سوچ اور حکمت عملی غلط ہے۔ جب وسائل صوبوں کے پاس ہیں تو سہولیات فراہم کرنے کی ذمے داری بھی صوبوں کی ہونی چاہیے۔

ویسے تو ناقدین پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پر جائز ناجائز تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ کچھ میڈیا نے بھی عثمان بزدار کے ساتھ زیادتی کی ہے اور کچھ تحریک انصاف کے دوست بھی ان کے ساتھ سوتیلے بھائی والا سلوک ہی کرتے ہیں ۔ ان کمی کوتاہی کو تو کئی گنا بڑھانے پر بہت محنت کی جاتی ہے جب کہ ان کے اچھے کاموں کو دبانے پر بھی اسی طرح محنت کی جاتی ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ کہیں تحریک انصاف کے کسی لیڈر کے منہ سے عثمان بزدار کے کسی اچھے کام کی کوئی تعریف نہ نکل جائے۔

اگر کورونا کا ہی موازنہ کیا جائے تو پنجاب کی کورونا بارے حکمت عملی سندھ سے بہتر رہی ہے۔ پنجاب کے نتائج سندھ سے آج بھی بہتر ہیں۔لیکن دوست ماننے کے لیے تیار نہیںہیں۔ کچھ دوستوں کو عثمان بزدار سے اللہ واسطے کا بیر ہے اور اس بیر میں وہ تمام حدود پار کر جاتے ہیں۔ اسی لیے گزشتہ ماہ تک دوست دوبارہ عثمان بزدار کو تبدیل کروانے کے درپے تھے۔ شراب کے ایک لائسنس کی کہانی کو ایسا موڑ دینے کی کوشش کی گئی کہ عثمان بزدار کو تبدیل کروایا جا سکے۔ میں نے تب بھی لکھا کہ عثمان بزدار اس معاملہ میں مکمل طور پر بے گناہ ہیں۔ اور وقت نے ان کی بے گناہی ثابت کر دی، عثمان بزدار کو کلین چٹ مل چکی ہے۔

کورونا کے بعد کی معاشی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ صوبائی حکومتیں مربوط معاشی حکمت عملی کے ساتھ آگے آئیں۔ اس ضمن میں عثمان بزدار نے قدم بڑھایا ہے ۔ انھوں نے پنجاب روزگار اسکیم کے تحت پنجاب بھر میں سولہ لاکھ سے زائد لوگوں کو 30ارب روپے کے آسان قرضوں کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم میں 20سے 50سال کی عمر کے مرد خواتین خواجہ سرا اور خصوصی افراد مستفید ہو سکیں گے۔

یونیورسٹی گر یجوایٹ اور کاروباری مہارت کے حامل ، ٹیکنیکل/ووکیشنل تربیت کے ڈپلومہ/سرٹیفکیٹ ہولڈر/ کے ساتھ موجودہ کاروباری افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ کاروباری افراد اپنے کاروبار کی بحالی اور اس کو از سر نو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اس کے تحت خوب فائدہ اٹھا سکیں گے۔ عثمان بزدار کی اس پنجاب روزگار اسکیم کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس میں یہ خصوصی شرط رکھی گئی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ کاروبار کو ترجیحی بنیادوں پر قرضے دیے جائیں گے۔

عثمان بزدار نے اس اسکیم کے تحت شرح سود بہت کم رکھی ہے تاکہ چھوٹے کاروبار کے لیے لوگ اس سے بھر پور فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ قرضے دو سال سے پانچ سال میں واپس کرنے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان قرضوں کی واپسی کی مدت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ واپسی کی مدت دس سال ہونی چاہیے تا کہ ماہانہ قسط مزید کم ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ شرح سود کو ختم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ بلا سود قرضے ہونے چاہیے۔ لوگ بے شک دس سال میں اصل رقم ہی واپس کر دیں تو بہت ہے۔ یقیناً ماہرین معیشت ان تجاویز کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ان کی رائے میں بلا سود قرضوں کی معیشت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بینک کیسے چلیں گے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ لوگ کیسے زندہ رہیں گے۔ یقیناً عثمان بزدار کی پنجاب روزگار میں دیے جانے والے قرضوں کی شرائط مارکیٹ میں ملنے والے دوسرے قرضوں کی نسبت بہت آسان ہیں۔یہ پر کشش قرضہ ہیں۔لوگ ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔ تیس ارب کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اگر پنجاب میں بے روزگاری کی شرح کو دیکھا جائے تو سولہ لاکھ سے کہیں زیادہ بے روزگار ہیں۔ اس سے زیادہ توکورونا میں بے روزگار ہوئے ہیں۔ نوکریاں ختم ہوئی ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ کورونا کے بعد اب جب زندگی دوبارہ معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ چاروں صوبائی حکومتوں کو پنجاب روزگار اسکیم کی طرز پر بڑے بڑے آسان قرضوں کے پروگرام شروع کرنے چاہییں ۔ کہیں نہ کہیں وفاقی حکومت کو بھی یہ احساس کرنا ہوگا کہ احساس پروگرام ملک کے تمام مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے آئین میں ایسی گنجائش نہیں ہے کہ وفاقی حکومت تمام مسائل کا حل کر سکے۔ صوبوں کا ساتھ لازمی ہے۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ صوبے اپنے وسائل وفاق کو دے دیں۔ اس لیے صوبوں کو اپنے پروگرام لانے ہونگے۔ جیسے عثمان بزدار پنجاب روزگار اسکیم کے تحت لائے ہیں۔ یہی درست سمت میں قدم ہے۔

اب ایسی صورتحال نہیں ہے کہ حکومت خود روزگار دے سکے۔ حکومت تو خود سرکاری ملازمین کم کرنے کا رونا رو رہی ہے۔ نوکریاں ختم کرنے کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔ سرکاری اداروں کی نج کاری کرنے کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔ اس لیے حکومت کو ایسے منصوبے لانا ہونگے جس سے پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریاں پیدا ہو سکیں، لوگ اپنا روزگار خود کمانے کے قابل ہو سکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔