نواز شریف کو دھکا کس نے دیا؟

واصب امداد  منگل 6 اکتوبر 2020
نواز شریف پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

نواز شریف پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کہانی کے سبھی کردار کھل کر سامنے آچکے ہیں۔ سیاسی اکھاڑے سج چکے اور عجب رسہ کشی کا سماں پیش کررہے ہیں۔ مقابلے کا فاتح کون ہوگا؟ یعنی گرد بیٹھنے کے بعد آخر میں کون کھڑا نظر آئے گا، اسے نصیب اور آنے والے وقت پر چھوڑتے ہیں۔ ہم تماشائیوں نے مگر ایک ایک کردار پر نظر رکھنی ہے۔ فیٹف کے قوانین پاس ہوچکے ہیں، یعنی اگر کوئی ’لے دے‘ ہونا تھی تو اس کا آخری موقع بھی چلا گیا ہے اور اب جو منظر ہے وہ لینے والے ہاتھ کی دینے والے ہاتھ سے لڑائی کا ہے۔ یعنی ایسا ہے کہ کچھ ملنے کی امید میں خاموش اور خاموشی کے بدلے میں امیدیں دلانے والے دونوں آپس میں دست و گریباں ہیں۔

عمران خان کا اعتماد غیر متزلزل ہے اور اپنا قلعہ مضبوط کیے بیٹھے ہیں۔ وہ پاکستان پر حکمرانی کا گُر جان چکے ہیں۔ یعنی انہیں سمجھ آگئی ہے کہ ملک میں صاحب اقتدار رہنا ہے تو طاقت کے اصل مرکز سے جڑے رہنا ہوگا۔ وہ یہ کام خوب کررہے ہیں۔ جو اس بات کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں وہ ان کا آخری انٹرویو اور اس میں میزبان کی جانب سے پوچھے گئے سوال ’’سول اور عسکری قیادت میں سے حقیقی باس کون ہے؟‘‘ پر عمران خان کا گول مول جواب سن لیجئے۔ عمران خان کو فی الحال دور دور تک اپنے اقتدار کو کوئی خطرہ دکھائی نہیں دے رہا۔ اول اول تو مجھ جیسے کئی سیاسیات کے طالب علموں کی یہ رائے تھی کہ عمران خان چونکہ فطرتاً انا پرست ہیں شاید پس دیوار کے قصے سرِ دیوار کہہ دیں اور چلتے بنیں۔ مگر ابھی تک کی کہانی کچھ اور بتاتی ہے۔

نواز شریف لندن اور شہباز شریف جیل میں ہیں۔ یہ جملہ لکھتے وقت مجھے کسی قسم کی کوفت اس لیے نہیں ہوئی کہ دونوں، یعنی نواز شریف اور شہباز شریف جہاں ہیں، وہیں ہونا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کے بیانیے کے ساتھ نہیں چلنا چاہتے تھے تو انہوں نے اپنے آپ کو پابندِ سلاسل کرنے میں ہی عافیت جانی۔ نواز شریف مگر پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکے ہیں۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ لندن سے کسی سویلین بالادستی کی تحریک کی قیادت کریں گے تو ایسا نہیں ہونے والا۔ نواز شریف عمران خان کو پانچ سال اقتدار میں رہنے دینے کی اپنی دی ہوئی گارنٹی چاہے بھول چکے ہوں، ایک مصلحت کے تحت خودساختہ خاموشی چاہے ختم کرچکے ہوں، مگر ایک فیصلے پر قائم ہیں اور وہ یہ کہ اب وہ پاکستان کسی صورت نہیں آئیں گے۔ جو لوگ اس بات کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ مشرف دور میں بھی ایسا ہی تھا کہ وہ گئے، خاموش رہے، پھر بولے اور واپس آئے۔ واپسی پر پہلے ملک کے سب سے بڑے صوبے اور پھر وزارتِ عظمیٰ پر براجمان ہوئے تو وہ میری طرف سے کسی شاعر کا یہ مصرعہ قبول کریں اور اس میں پنہاں وقت کی بے رحمی کو سمجھیں کہ ’’اب نہ وہ عمر، نہ وہ موسم، نہ وہ رستے کہ وہ پلٹیں‘‘۔

وقت وقت کی بات ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن، جنہوں نے صدرِ پاکستان بننے کےلیے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا تھا، وہ آج محض پی ڈی ایم یعنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر بن کر خوش ہیں۔ ان کےلیے جو بات اسمبلی اعتماد کا ووٹ لیتے وقت حقیقی اور جائز تھی، آج اپنی جگہ نہ ہونے پر ناجائز ہے۔ انھیں اے پی سی میں اپنی تقریر کے نشر نہ ہونے کی تذلیل بھلے بھول چکی ہو، ان کا دل اسلام آباد دھرنے میں ساتھی لیڈران کی بیوفائی بھلے دفنا چکا ہو، مگر نیب میں طلبی اور اثاثوں کی تفصیلات سامنے آنے کا غم ان کا دل شاید ہی جانے دے۔ وہ بھی کھل کر ملکی اداروں کے خلاف بول رہے ہیں۔ مگر سیاسی داؤ پیچ کے یہ پرانے کھلاڑی جانتے ہیں کہ مٹی کتنی گیلی ہے اور اس پر کتنا وزن ڈالنا ہے۔ لہٰذا مولانا کی لڑائی حقیقتاً صرف عمران خان سے اپنے حصے کےلیے ہے اور وہ صرف ان ہی کے اقتدار کا خاتمہ چاہتے ہیں اور یہ بات کوئی اتنی پریشان کن نہیں ہے۔

نگاہ مگر آصف علی زرداری کے کردار پر رکھیے۔ حیرت ہے کہ نواز شریف اپنی اے پی سی کی تقریر کے بعد تین اور تقاریر کر بیٹھے مگر آصف علی زرداری کا ایک بھی بیان اپنے پی ڈی ایم کے دیرینہ دوست کے حق میں نہیں آیا۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر جب ان سے نواز شریف کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے محض مسکرانے اور انشاء اللہ کہنے پر ہی اکتفا کیا۔ دیکھا جائے تو آصف علی ذرداری کی ڈھلتی صحت انھیں ان پر بنے بیالیس کیسز کا مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی، جس کے باعث انہوں نے اب کی بار کوئی اور چال چلنے کا فیصلہ کیا۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ نواز شریف کی تقریر کے بعد مفاہمت کے بادشاہ نے اسے اپنی سچائی ثابت کرنے کےلیے استعمال بھی کیا اور کہیں صلح کا پیغام بھی بھجوایا۔ نواز شریف کچھ عرصے بعد جب سوچیں گے کہ اب کی بار انھیں دھکا کس نے دیا تو انھیں خیال آئے گا کہ وہ بلاول بھٹو ہی تھے جنہوں نے انھیں اے پی سی میں تقریر کرنے کےلیے بلایا تھا۔ تھوڑا اور سوچیں گے تو انھیں زرداری صاحب کے ’’اینٹ سے اینٹ بجانے‘‘ والے بیان پر اپنی خاموشی یاد آئے گی اور مزید سوچنے پر ان کے کانوں میں زرداری صاحب ہی کا جملہ ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘ گونجے گا کہ آخر آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان ان ہی کے کہنے پر تو دیا تھا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

واصب امداد

واصب امداد

بلاگر میڈیا کے طالب علم ہونے کے ساتھ ریڈیو براڈ کاسٹر ہیں۔ ملکی سیاست اور انٹرنیشنل افیئرز میں دلچسپی کے ساتھ لکھنے کا بھی شوق ہے۔ ان سے ٹویٹر آئی ڈی [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔