مہاجر کیمپوں میں مقیم کشمیری کس حال میں ہیں؟

دانش ارشاد  اتوار 11 اکتوبر 2020
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و ستم سے تنگ آکر آزاد کشمیر کا رخ کرنے والے بے پناہ مسائل کی دلدل میں دھنس گئے۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و ستم سے تنگ آکر آزاد کشمیر کا رخ کرنے والے بے پناہ مسائل کی دلدل میں دھنس گئے۔ فوٹو: فائل

آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے امبور مہاجر کیمپ کے رہائشی نوجوان کی میت کی تدفین تین دن کے انتظار کے بعد ایک دیوار کے ساتھ کنکریٹ کے ذریعے قبر بنا کر کی گئی ۔ چنگیز ولد محمد صدیق نامی نوجوان ’امبور‘  مہاجر کیمپ کا رہائشی تھا اور دریائے جہلم میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ (لواحقین نے ڈوب جانے والے بچے کی ہلاکت کا ذمہ دار پولیس کو ٹھہرایا ہے اور ایف آئی آر بھی درج کروائی ہے) ۔

متوفی نوجوان کے والد محمد صدیق کے مطابق1990میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آزادکشمیر آنے والے مہاجرین کو قبرستان کی سہولت نہیں دی گئی ۔ جب انہوں نے اپنے بیٹے کی میت کی تدفین کیلئے سرکاری اراضی پر قبر کھودنے کی کوشش کی تو سرکاری اہلکاران نے انہیں روک دیا اور دو روز کے اندر قبر کیلئے اراضی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔ دو روز ہسپتال کے سرد خانے میں نعش رکھنے کے باوجود جب اراضی کا انتظام نہ ہو سکا تو مہاجر کیمپ کے قریب ہی ایک جگہ زمین کے ساتھ کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر کے قبر بنا کر تدفین کی گئی ۔

محمد صدیق کہتے ہیں کہ یہ محض ایک واقعہ ہے ، جس سے مہاجرین کی زندگیوں کو لاحق مسائل اور مصائب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اس طرح کے کئی دیگر مسائل ہیں جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں ۔ محمد صدیق بھارتی فورسز کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر 1990 میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے علاقے تریگام سے ہجرت کر کے مظفرآباد منتقل ہوئے تھے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہاں ان کی زمینیں تھیں اور بہتر انداز میں گزر بسر ہو رہا تھا تاہم بھارتی فورسز کے ظلم و ستم اور عزتوں کی حفاظت کے پیش نظر ان کے خاندان نے وہاں سے ہجرت کی تھی ۔

نوے کی دہائی میں جب وادی کشمیر میں عسکری تحریک شروع ہوئی تو ہندوستانی مظالم کے باعث ہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں نے لائن آف کنٹرول عبور کرتے ہوئے آزاد جموں کشمیر کی طرف ہجرت کی ۔ ان میں اکثریت لائن آف کنٹرول کے نزدیک رہنے والوں کی ہے جو اپنی زمینیں اور جائیدادیں چھوڑ کر آزاد کشمیر آئے۔ کئی امیدوں کے ساتھ آزاد کشمیر ہجرت کرنے والے کے دکھ اب بھی کم نہ ہو سکے ۔ نوے کی دہائی میں آزاد کشمیر منتقل ہونے والے کشمیریوں کے مسائل اور درد کو سمجھنے کیلئے حالیہ دنوں پیش آنے والا واقعہ کافی ہے ۔

امبور کیمپ کے صدر چوہدری جمال بتاتے ہیں کہ 1990 سے ابتک مہاجرین کی آبادکاری ممکن نہ ہو سکی ۔ تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات تو دور مردوںکو دفنانے کیلئے قبرستان تک میسر نہیں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اس سوچ کے ساتھ یہاں آئے تھے کہ ایک آزاد جگہ رہ کر بہتر انداز میں اپنے وطن کی آزادی کیلئے جدوجہد کریں گے لیکن ہمیں آباد کاری اور دوسرے مسائل میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ ہم اپنی اور بچوں کی ضرورتیں پوری کرنے سے قاصر ہیں ۔ ایسے میں آزادی کی جدوجہد کیسے کریں ؟

نوے کی دہائی میں بھارتی مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر منتقل ہونے والے آٹھ ہزار خاندانوں کی آبادی اس وقت تقریباً 45 ہزارنفوس پر مشتمل ہے ۔ ان کی آباد کاری کیلئے آزاد جموں کشمیر میں اس وقت 18کیمپ ہیں جن میں سے 8 مظفرآباد میں، 5 باغ میں، کوٹلی میں2 ، میرپور میں1،  ہجیرہ میں1 اورہٹیاں بالا میں1 کیمپ موجود ہے ۔ ان مہاجرین کو ماہانہ 2000 روپے (67 روپے یومیہ ) فی کس کے حساب سے گزارہ الاؤنس ملتا ہے ۔

ان کا سب سے بڑا مسئلہ آباد کاری کا ہے ۔1990 میں جب کیمپ لگائے گئے تھے تو بڑی فیملی کو40/27 فٹ اور چھوٹی فیملی کو 27/23کا پلاٹ دیا گیا تھا ۔ پہلے انہی پلاٹوں پر خیمے لگا کر رہتے رہے، بعد ازاں ان ہی پلاٹوں پر مکان بنا کر رہائش پذیر ہیں ۔ اب خاندانوں میں نفوس کی تعداد بڑھنے کے باعث ایک ایک کمرے میں بعض جگہ دس افراد کو گزارا کرنا پڑ رہا ہے ۔

مہاجر کیمپوں میں سیوریج کا کوئی نظام نہیں، جگہ کم ہونے کے باعث انتہائی تنگ گلیاں ہیں جن میں ایک فرد کا گزرنا بھی محال ہوتا ہے ۔ پینے کا صاف پانی کسی کیمپ میں دستیاب نہیں حتیٰ کہ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیںاور نہ ہی کسی کیمپ میں قبرستان کیلئے جگہ مختص کی گئی ہے ۔ آزاد کشمیر کی جریدہ اور غیر جریدہ ملازمتوں میں ان کیلئے چھ فیصد کوٹہ مختص ہے لیکن غیر جریدہ ملازمتوں میں کوٹے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے اکثریت بے روزگار ہے ۔

کیرن کی دوسری طرف سے ہجرت کر کے آنے والے گلفراز احمد بٹ کہتے ہیں:

ہمیں تقریباً آٹھ سال تک خیموں میں رکھا گیا اور آٹھ سال بعد ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت گھر بنانا شروع کئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد نے ان سمیت چار بیٹوں کے ہمراہ ہجرت کی اور ان کے والد کو دو کمروں کی جگہ ملی ۔ اب وہ چاروں بھائی شادی شدہ ہیں اور اسی دو کمرے کے مکان میں رہنے پر مجبور ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایسا معیار قائم کیا گیا ہے کہ رہنے کی جگہ صرف اسی کو ملے گی جس نے ہجرت کی ۔ اس کی اولادوں کے خاندانوں کو الگ جگہ نہیں دی جاتی ۔ وہ کہتے ہیں کہ مہاجر کیمپوں میں کسی کے ہاں اگر مہمان آجائے، پوری رات سوچتے گزر جاتی ہے اس کا بندوبست کہاں کیا جائے؟

ان کا کہنا ہے کہ چہلہ بانڈی میں تقریباً ایک ہزار خاندان آباد ہیں جن کو بنیادی سہولیات تک حاصل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں مہاجرین کی آباد کاری ایک بڑا مسئلہ ہے وہیں صحت اور تعلیم کی سہولیات بھی حاصل نہیں ہیں ۔ کسی مہاجر کیمپ میں کوئی سرکاری سکول اور ہسپتال نہیں ہیں ۔ اس کے علاوہ سرکار کی غیر جریدہ آسامیوں پر مہاجرین کے کوٹے پر عملدرآمد نہیں ہوتا ۔ ان کو مشتہر کئے بغیر سیاسی بنیادوں پر تقرریاں کر دی جاتی ہیں ۔ انہوں نے آزاد حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ بیس سالوں میں مہاجرین کے کوٹے پر 5 ہزار غیر مہاجر افراد کی تقرریاں کی گئیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کے باعث مہاجر کیمپوں کے نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت اگر چاہتی تو مہاجرین کی بہتر انداز میں آباد کاری ہو سکتی تھی لیکن حکومت پاکستان اور آزاد حکومت نے 90 کی دہائی میں آنے والے مہاجرین کیلئے کوئی کام نہیں کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں حکومتوں نے کوئی کام نہیں کیا وہیں آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں موجود حریت کانفرنس کے نمائندوں نے بھی ان کے مسائل کے حل کیلئے کوئی آواز بلند نہ کی ۔

حریت کانفرنس جہاں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی نمائندگی کرتی ہے وہیں نوے کی دہائی میں آنے والے مہاجرین کی نمائندگی بھی کرتی ہے لیکن وہ ہمارے مسائل کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے ایک این جی او نے مہاجرین کیلئے ایک کالونی بنائی ہے جس میں تقریباً چار سو خاندان آباد ہے لیکن وہ مکان بھی دو کمروں پر مشتمل ہیں اور ایک بڑے خاندان کے رہنے کیلئے ناکافی ہیں ۔

آزاد کشمیر میں موجود مہاجرین کی آباد کاری اور مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کمشنر بحالیات آزاد کشمیر چوہدری فرید کا کہنا ہے کہ مہاجر کیمپوں کیلئے قبرستانوں کیلئے زمینیں مختص کی جا چکی ہیں لیکن وہ کیمپوں سے دور ہونے کی وجہ سے میت کو دفنانے وہاں نہیں جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپوں کے قریب جہاں اس نعش کو دفنایا گیا وہاں زمین کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ قبر بنانے کیلئے ایک طرف دیوار بنانی پڑتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے جہاں انہوں نے پہلے قبر بنانے کی کوشش کی وہ کسی ادارے کی زمین تھی جس نے انہیں روکا ۔ اب ہر جگہ زمینوں پر قبضہ نہیں کرنے دیا جا سکتا ۔

کمشنر بحالیات کا کہنا ہے کہ مہاجر کیمپوں کے مسائل سے انکار نہیں لیکن حکومت آزاد جموں کشمیر ان کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ٹھوٹھہ مہاجر کیمپ کو دیکھ لیں اسے آزاد حکومت نے بہتر انداز میں تیار کیا ہے ، ان کو پانی کی فراہمی اور بجلی کے میٹر تک حکومت کی جانب سے دئے گئے ہیں اور وہاں 400 کے قریب خاندان آباد ہیں ۔ تاہم ابھی تک بجلی کے بلوں کے سب سے زیادہ بقایا جات انہی کیمپوں کی جانب ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد حکومت اسی طرح آہستہ آہستہ دوسرے کیمپوں کی بہتری کیلئے بھی کام کر رہی ہے ۔

چوہدری فرید کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں ملازمتوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو نوے کی دہائی میں آنے والے مہاجرین کو آزاد کشمیر کے شہریوں سے زیادہ بہتر انداز میں ایڈجسٹ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع حویلی اور نیلم کا کوٹہ دو دو فیصد ہے جن کی آبادی لاکھوں میں ہے لیکن مہاجرین کی آبادی 45 ہزار کے لگ بھگ ہے اور ان کو 6 فیصد کوٹہ دیا گیا ہے ۔

غیر جریدہ آسامیوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس میںمہاجرین کیلئے پاکستان میں مقیم مہاجرین کے 25 فیصد کوٹے سے 6 فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے اور اس پر جب کوئی آسامی آتی ہے تو اس میں یہ اپلائی کر سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد حکومت نوے کی دہائی میں آنے والے مہاجرین کو آزاد کشمیر کے شہریوں سے زیادہ سہولیات دی رہی ہے ۔ ان کو فی کس دو ہزار روپے ماہانہ الاؤنس ملتا ہے جو آزاد کشمیر میں کسی کو نہیں ملتا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر زندگی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔