نان جویں اور بازوئے حیدر

ڈاکٹر یونس حسنی  ہفتہ 10 اکتوبر 2020

پچھلے دنوں ہمارے کالم میں ہم نے فرانس میں مسلمانوں کی مرثیہ خوانی کی تھی اور فرانسیسی صدر عمانویل میکرون کے زہریلے اقدامات کی نشان دہی کی تھی۔ اس وقت صدر موصوف نے واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی طور مسلمانوں کے علیحدہ تشخص کو برداشت نہیں کریں گے اور مسلمانوں کی ’’تنگ نظری‘‘ اور ’’انتہا پسندی‘‘ کے خلاف جلد قانون سازی کریں گے۔

اب بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے اور فرانسیسی صدر نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ان اقدامات کی وضاحت کر دی ہے جو وہ کرنے جا رہے ہیں اور جن کے ذریعے وہ ایک روشن خیال، سیکولر فرانس کے تشخص کو کسی صورت مجروح نہیں ہونے دیں گے۔

موصوف کے جو اقدامات اخبارات کی زینت بنے ہیں اس نے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو سیکولرازم، اظہار رائے کی آزادی اور ہر شخص کے لیے اپنے طور پر زندگی گزارنے کی ان اقدار کے تابوت میں پہلی کیل ٹھونک دی ہے اور مغرب کی ساری روشن خیالی اور رواداری اور برداشت کی مصنوعی عمارت کو نہ صرف ڈھا دیا بلکہ اس کے ملبے تلے دبے مغرب کے مکروہ، عصبیت زدہ چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ روشن خیالی کے تمام دعوے نقش برآب ثابت ہوئے ہیں۔

جناب میکرون نے جو اقدامات تجویز کیے ہیں انھوں نے جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر کی یاد تازہ کر دی ہے اس سے قطع نظر کہ ہٹلر اتنا بڑا ڈکٹیٹر نہیں تھا جتنا شکست کے بعد اس کے مغربی مخالفین نے اسے بنا دیا ہے۔ اب خود صدر میکرون نے اپنے آپ کو اس سے بڑا ڈکٹیٹر بنا دیا ہے۔

اب فرانس کی تقریباً 66 ملین کی آبادی میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 6 ملین ہے۔ اتنی بڑی اقلیت کو اس کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے لیے صدر میکرون جو اقدامات کر رہے ہیں اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ صدر موصوف نے وضاحت کی کہ وہ فرانس جیسے سیکولر ملک میں مسلم انتہا پسندوں کی طرف سے ایک ’’متوازی معاشرے‘‘ کے قیام کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ شاتمِ رسول جریدے چارلی ہیبڈو کی وکالت کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان دراصل دہشتگرد اور علیحدگی پسند ہیں اور اب وہ پورے ملک میں ان انتہا پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں گے اور ان کی سوچ اور ان کے طرز فکر کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

نئی فرانسیسی پابندیوں کے نتیجے میں مدارس میں قرآنی اور عصری تعلیم پر پابندی عائد ہوگی۔ ملک بھر میں مسلم خواتین حجاب یا برقع نہیں پہن سکیں گی اور اب اس کا اطلاق نجی ملازمتوں پر بھی ہو گا۔ عقیدہ ختم نبوت کو فرانس میں ’’اظہار رائے کی آزادی‘‘ کے زیر اثر رکھا جائے گا۔ یعنی کوئی بھی شخص عقیدہ ختم نبوت کے خلاف مہم چلا سکے گا۔ پھر اسلام مخالف قوانین کے تحت لحم الخنزیر کے علاوہ حلال جانوروں کا غیر اسلامی ذبیحہ جائز قرار دیا جائے گا۔ مساجد اور اسلامی مراکز میں کسی انتہا پسند شخص کو ملازم نہ رکھا جا سکے گا۔

اس کے لیے ایک انٹرویو ہو گا جس میں اس منصب پر فائز ہونے والے شخص کو اپنے آپ کو ’’روشن خیال‘‘ اور سیکولر مزاج ثابت کرنا ہو گا۔ اس پروگرام کے تحت ایسے شخص کو تقرری کے وقت ہم جنس پرستی، شراب نوشی، عورت مرد کے آزادانہ اختلاط اور اس پر کسی قسم کے تردد کا اظہار نہ کرنا اور ان معاملات میں فرانسیسی نظریات پر عمل اور متعلقہ اداروں سے اس کی تصدیق لازمی ہو گی۔ اسی طرح ایسی عمارات اور عبادت گاہوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جن میں عورت اور مرد مخلوط عبادت کر سکیں۔ نیز یہ کہ بچوں کی تعلیم اور اماموں کی تربیت پر فرانسیسی حکومت نظر رکھے گی اور ان کی انفرادیت کو برقرار رکھنے کی ہر کوشش کی سرکوبی کی جائے گی۔

یہ ہے وہ نقشہ جو مستقبل کا فرانس اپنے لیے عمانویل میکرون کی امامت میں ترتیب دے رہا ہے۔ یہ چھ ملین مسلمانوں کو دفنانے کا مکمل انتظام ہے ہٹلر کی روح بھی لرزہ براندام ہوگی کہ مظالم ہائے میں بے وجہ بدنام ہوا۔

دراصل مسٹر میکرون یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ 6 ملین مسلمانوں کو دفن کر کے مغرب کی روشن خیالی، سیکولر جمہوریت کو حیات نو بخش رہے ہیں اور اپنے ہم خیال مغربی ممالک سے اس طرح خراج تحسین بھی وصول کر پائیں گے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ سب کچھ کر لیں مگر یاد رہے کہ یہ اقدام جو وہ اسلام کے خلاف کر رہے ہیں دراصل خود ان پر، ان کے ملک پر اور ان کے روشن خیال، سیکولر جمہوری معاشرے پر خودکش حملہ ہے۔

سیاسیات کا ادنیٰ طالب علم بھی اس بات سے بہ خوبی واقف ہوتا ہے کہ روشن خیالی کے کیا معنی ہیں، آزادی اظہار رائے کی حدود کیا ہیں اور وہ کہاں جا کر ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں۔ سیکولرازم کے معنی لادینیت یا مغربیت نہیں بلکہ اپنے اپنے مسلک اور طرز زندگی پر قائم رہنا سیکولرازم ہے۔

یہ بات بھی نہیں ہے کہ فرانسیسی صدر سیاسیات کی اس الف بے سے ناواقف ہیں جس کی ہم نے نشاندہی کی ہے۔ سچی بات یہی ہے کہ وہ بھولے نہیں کہ جب مسلمان اسپین میں مسلم حکومت قائم کر بیٹھے تو وہ فرانس کی زنجیر در بھی کھٹکھٹانے لگے تھے۔ اب جب کہ مسلمان نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں عمانویل میکرون بلاوجہ ان سے خوف زدہ ہیں ان کے دست و پا لرزاں ہیں اور وہ اس لرزش کو اپنے ظلم و جور سے دبانا اور چھپانا چاہتے ہیں لیکن خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اہل مغرب فرانسیسی جنون کا استقبال کیسے کرتے ہیں کیا وہ اپنی لادینی جمہوریت کو بچاتے ہیں یا پھر ظلم کی چکی چلا کر خود اپنے نظریات کو اپنے ہاتھوں موت کی نیند سلاتے ہیں۔

خیر یہ تو مغرب کا درد سر ہے ہم تو نہ جانے کب سے کہتے آئے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے غیر مسلم، ترقی یافتہ، جمہوری، سیکولر اور آزاد خیال ملکوں میں محض ’’نان جویں‘‘ کی خاطر بس رہنا دانش مندی نہیں ہاں اگر ان سے کچھ حاصل کرنا ہے تو وہ دانش ہے جو ان کی مادی ترقی کا باعث بنی ہے اور اس دانش کے حاصل کرنے میں بھی یہ خیال رکھنا پڑے گا کہ محض مادی ترقی مسلمان کا شعار نہیں۔ اس لیے اگر آپ وہاں نان جویں حاصل کر رہے ہیں تو بازوئے حیدر کو فراموش نہ کریں اگر یہ چوک ہو گئی تو آپ کا حشر ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ‘‘ ہو گا۔

کیا فرانس کا طاقتور صدر، فرعون، ہامان اور شداد سے زیادہ طاقتور ہو گا اگر آج کوئی ان کا نام لیوا نہیں تو کل عمانویل میکرون بھی بے نشان ہوں گے مگر یہ تو قدرت کی کاری گری ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان سخت قوانین کے خلاف 6 ملین مسلمانوں کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ آیا وہ ترک سکونت کرتے ہیں، حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں یا اسی تنخواہ پر کام کرنا گوارا کرتے ہیں۔

ہمیں علم نہیں کہ فرانس میں سکھ آبادی کا تناسب کیا ہے کیونکہ سکھ بھی اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہیں اور کڑا، کیس اور کرپان سے دستبردار نہیں ہوتے کیا فرانسیسی صدر اس بے ضرر ’’انفرادیت‘‘ کے اظہار کو پسند اور گوارا کر لیں گے یا اس کے لیے بھی قانون سازی ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔