گلگت: بھاشا ڈیم کی حدود کا تنازع شدید، فریقین مورچہ زن

نمائندہ ایکسپریس  جمعـء 20 دسمبر 2013
صوبائی حکومتوں کی انتظامیہ اور پولیس حرکت میں آگئی اور پولیس کی بھاری نفری سرحد پر تعینات کردی گئی ۔فوٹو:فائل

صوبائی حکومتوں کی انتظامیہ اور پولیس حرکت میں آگئی اور پولیس کی بھاری نفری سرحد پر تعینات کردی گئی ۔فوٹو:فائل

اسلام آباد / چلاس: گلگت بلتستان کے ضلع غذر اورکوہستان کے مابین سرحدی حدود کاتنازع شدت اختیار کرگیا۔

فریقین کا 8 کلومیٹر حدود پر ملکیت کادعویٰ ہے،قبضہ کیلئے دونوں طرف سے ایک دوسرے پردھاوا بولنے کی تیاری کی جارہی ہے اور مسلح افراد پہاڑیوں پر مورچہ زن ہوگئے ہیں،کے پی کے اورگلگت بلتستان پولیس کی بھاری نفری بھی طلب کر لی گئی،خطرے کے پیش نظر شاہراہ قراقرم کو ہر قسم کی ٹریفک کیلیے بند اورگلگت بلتستان میں تین روز سے موبائل سروس بھی معطل کررکھی ہے جس کے باعث عوام اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 photo 8_zps6b520b89.jpg

گلگت بلتستان اور کوہستان کے مابین بھاشا ڈیم کی رائلٹی کے حوالے سے کافی عرصے سے شدیداختلافات کی باتیں سامنے آرہی تھی لیکن دو روز قبل معاملے نے اس وقت شدت اختیار کی جب کوہستان کے ہربن داس کے لوگوں نے گلگت بلتستان کی موجودہ حدود میں آٹھ کلو میٹر پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے وہاں پولیس چیک پوسٹ کو ہٹانے کی کوشش کی اور دھمکی دی کہ اگر دو روز میں اس چوکی کو یہاں سے نہ ہٹایاگیا تو اسے زبردستی ہٹایا جائیگا،اس پر چلاس کے سرحدی گائوں تھورکے لوگ مزاحمت کیلئے تیار ہوگئے،حالات کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومتوں کی انتظامیہ اور پولیس حرکت میں آگئی اور پولیس کی بھاری نفری سرحد پر تعینات کردی گئی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔