پاکستان کا مظاہرین کی دھمکیوں کے بعد بنگلا دیش سے سفارتی عملے کی سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ

ویب ڈیسک  جمعـء 20 دسمبر 2013
20 گھنٹے میں بنگلا دیش کی حکومت پاکستان سے سفارتی تعلقات ختم کرے، مظاہرین کا مطالبہ  فوٹو: رائٹرز

20 گھنٹے میں بنگلا دیش کی حکومت پاکستان سے سفارتی تعلقات ختم کرے، مظاہرین کا مطالبہ فوٹو: رائٹرز

ڈھاکا: بنگلادیش میں مظاہرین کی جانب سے پاکستانی سفارتی عملے اور عمارت کو نقصان پہنچانے کی دھمکی کے بعد پاکستان نے ہائی کمیشن کی سیکورٹی بڑھانے کے لیے بنگلادیشی حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کی عمارت کے باہر آج تیسرے روز بھی احتجاج کاسلسلہ جاری رہا۔ عوامی لیگ کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے بنگلا دیشیوں کےدلوں میں پاکستان کےخلاف نفرت کی جوچنگاری سلگائی گئی تھی اس کی آگ آج پورے ملک میں بھڑک رہی ہے اور مظاہرین کےحوصلےاتنےبڑھ گئے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی ہائی کمشن کوگھیرے میں لےکرمطالبہ کیاہےکہ 20 گھنٹےمیں پاکستان کےساتھ سفارتی تعلقات ختم کئےجائیں۔ ایسانہ کرنےکی صورت میں مظاہرین نے ہائی کمیشن کی عمارت کو نقصان پہنچانےکی کھلی دھمکی دے دی ہے۔

پاکستانی ہائی کمیشن نے بنگلا دیشی حکومت سے تحریری درخواست میں کہا ہے کہ سفارت کاروں کواضافی سیکیورٹی دی جائے جب کہ دفترخارجہ نے پاکستانی سفارت کاروں کوڈھاکا میں غیرضروری سفرکرنےسےبھی روک دیا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش کی حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے متنازع نام نہاد ٹربیونل کے حکم پر 1971 میں پاکستان کی حمایت کرنے کی پاداش میں جماعت اسلامی بنگلا دیش کے رہنما ملا عبدالقادر کو پھانسی دے دی گئی تھی جس کے خلاف پاکستانی قومی اسمبلی میں قرار داد منظور کی گئی  تاہم اس قرار داد کے خلاف بنگلا دیش کے دفترخارجہ خارجہ نے نہ صرف پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا بلکہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے  زہر اگلتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حمایت کرنے والوں کی ان کے ملک میں کوئی جگہ نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔