بالشتیوں کی سلطنت

مرزا ظفر بیگ  اتوار 18 اکتوبر 2020
چین کا تھیم پارک، جہاں پستہ قامت افراد بستے اور اپنے فنون کا مظاہرہ کرے ہیں۔ فوٹو : فائل

چین کا تھیم پارک، جہاں پستہ قامت افراد بستے اور اپنے فنون کا مظاہرہ کرے ہیں۔ فوٹو : فائل

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میںKunming کے قریب ’’بالشتیوں (بونوں) کی سلطنت‘‘ نامی ایک زبردست تھیم پارک واقع ہے۔

اس پارک میں بونے پن کی بیماری یا نقص میں مبتلا افراد زبردست قسم کی ناقابل یقین مزاحیہ پرفارمنس پیش کرتے ہیں اور خود کو اس معاشرے کا مفید اور کار آمد رکن بناکر یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ لوگ کسی بھی طرح ہمارے معاشرے پر بوجھ نہیں ہیں، بلکہ اپنی اعلیٰ ہنرمندی سے ایک طرف تو یہ معاشی ترقی کی راہیں کھول رہے ہیں اور دوسری جانب خود کو با صلاحیت پرفارمر بناکر بھی پیش کررہے ہیں۔

اس پارک کے منتظمین کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم اس پارک کے ذریعے اپنے ایسے افراد کے لیے روزگار کی فراہمی کو ممکن بناتے ہیں جنھیں بہ صورت دیگر کوئی کام یا روزگار نہیں مل سکتا اور وہ بے چارے بے روزگاری میں مبتلا ہوسکتے ہیں جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ ہمارا مقصد یہاں بے روزگاری پھیلانا نہیں ہے، بلکہ  ہم تو ان افراد کے ذریعے ایک طرف اپنی مملکت کو مستحکم مالی و معاشی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں اور دوسری جانب ساری دنیا سے ان حضرات کی ہنرمندانہ صلاحیتوں کا اعتراف بھی کروانا چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی ان منتظمین نے عام لوگوں کی اس تنقید کا بھی زبردست جواب دیتے ہوئے کہا جس کے مطابق بونوں یا بالشتیوں کو ان کے پستہ قد کی وجہ سے ایک ایسا مزاحیہ کردار بناکر دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے جس پر ساری دنیا ہنسے گی۔ ان حضرات کا یہ کہنا تھا کہ فن کار چھوٹے یا بڑے قد کا نہیں ہوتا، وہ صرف فن کار ہوتا ہے اور ہلکے پھلکے انداز میں اور باتوں ہی باتوں میں اپنے فن کے ذریعے مختلف معاشرتی مسائل کی نشان دہی کردیتا ہے۔

٭ملازمین:

2010 کے اعداد و شمار کے مطابق اس تھیم پارک میں 100 سے زیادہ ملازمین تھے جن کی عمریں 19 سال سے لے کر 48 سال کے درمیان تھیں۔ اس تھیم پارک کے لیے 51 انچ یعنی 130 سینٹی میٹرز سے بھی کم قد کے حامل فن کار درکار تھے۔ یہ سبھی ملازمین قریبی کالجز اور یونی ورسٹیوں کے ہاسٹلز میں رہتے ہیں جو اس انداز سے تعمیر کیے گئے ہیں کہ ان میں پستہ قد کے حامل افراد کو چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے یا دوسرے کاموں کی انجام دہی میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ یہاں ان کے کھانے پینے کے لیے بھی ایک شان دار میس بنایا گیا ہے جہاں یہ سب پستہ قد افراد آرام اور سکون سے کھانا کھاتے ہیں۔

اپنی پرفارمنس کے دوران یہ تمام ’’فن کار‘‘ یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے یہ چھوٹے چھوٹے اور مشروم کی شکل کے ننھے منے گھروں میں رہتے ہیں۔

٭پارک کا قیام:

یہ ’’بالشتیوں (بونوں) کی سلطنت‘‘ نامی تھیم پارک ستمبر 2009 میں ایک دولت مند ریئل اسٹیٹ سرمایہ کار  Chen Mingjing نے قائم کیا تھا۔ اصل میں اس کا جھیل Dian کے قریب Kunming کے مغربی علاقے میں اپنا ذاتی پورا کمپلیکس بنا ہوا تھا اور یہ مذکورہ تھیم پارک اسی کا حصہ تھا۔

اس میں World Butterfly Ecological Park بھی شامل تھا۔ حالانکہ اس پارک کو دیکھنے کے لیے آنے والے زیادہ وزیٹرز قریبی قصبوں اور شہروں کے اسٹوڈنٹس ہیں، مگر Chen Mingjing کو پوری امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں یہ تھیم پارک دنیا بھر سے چین آنے والے سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ مقام بن جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے ملازمین کی تربیت کے لیے انہیں انگریزی زبان سیکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کا اہتمام کیا ہے، تاکہ وہ سب غیرملکی سیاحوں کے ساتھ آسانی سے تبادلۂ خیال کرسکیں۔ Chen Mingjing نے اپنے اس خصوصی تھیم پارک میں dwarfism یعنی بونے پن میں مبتلا 1,000افراد کو ملازمتیں دینے کا ارادہ کیا ہے۔

٭ فن کاروں کی پرفارمنسز:

اس تھیم پارک میں اپنی پرفارمنس دکھانے والے فن کار گاتے بھی ہیں اور رقص بھی کرتے ہیں۔ یہ آنے والے سیاحوں کے سامنے اسٹیج پر پرفارم بھی کرتے ہیں۔ ان کی پرفارمنس میں پرانے چینی بادشاہوں کو بھی دکھایا جاتا ہے، پریوں کی کہانیاں بھی پیش کی جاتی ہیں اور Swan Lake بھی۔ یہ کبھی کبھار hip-hop ڈانس بھی کرتے ہیں۔ ان کی پرفارمنس میں اکثر ’’بونے بادشاہ‘‘ کو بھی دکھایا جاتا ہے۔

یہ بادشاہ صرف ایک میٹر (3.3 ft)  قد کا حامل ہوتا ہے، اپنی پرفارمنس کے دوران یہ عام طور سے ریشمی ہیٹ پہنتا ہے اور تین پہیوں والی موٹر سائیکل پر سوار ہوتا ہے۔

٭ پارک پر تنقید:

اس تھیم پارک پر متعدد عالمی تنظیموں نے اعتراض کیا ہے، جن میں Little People of America and Handicap International بھی شامل ہے، جس نے اس کے قیام کے مقصد سے اختلاف کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تھیم پارک ایک ’’انسانوں کا چڑیا گھر‘‘  لگتا ہے اور اس کی وجہ سے معذور افراد ہمارے معاشرے سے الگ تھلگ ہوکر رہ جائیں گے۔

دوسری جانب Chen کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ تھیم پارک متعدد با صلاحیت افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے جو دوسری صورت میں بے روزگار رہ جاتے۔ اس تھیم پارک کی وجہ سے ان حضرات کی self-respect بن رہی ہے۔

اس تھیم پارک کے متعدد ملازمین کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں اپنے جیسے دوسرے پستہ قد افراد کے ساتھ رہنا اچھا لگتا ہے ورنہ ہم اسی پارک میں بالکل تنہا ہوکر رہ جاتے۔ یہاں آنے سے پہلے ہم بہت اکیلے، بے روزگار اور بالکل تنہا تھے۔ بہرحال یہاں رہنے اور کام کرنے والے پستہ قد افراد یہاں بہت خوش اور مطمئن ہیں اور یہاں سے کہیں نہیں جانا چاہتے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔