پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا پودا تناور درخت بننے لگا

اسپورٹس رپورٹر  ہفتہ 17 اکتوبر 2020
 عمومی اور بائیو سیکیورٹی سمیت مختلف معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے حتمی فیصلہ کریں گے،کورونا کی صورتحال کو خاص طور پر مدنظر رکھا جائے گا، انگلش بورڈ۔ فوٹو: فائل

عمومی اور بائیو سیکیورٹی سمیت مختلف معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے حتمی فیصلہ کریں گے،کورونا کی صورتحال کو خاص طور پر مدنظر رکھا جائے گا، انگلش بورڈ۔ فوٹو: فائل

 لاہور: پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا پودا تناور درخت بننے لگا تاہم 13 سے 20 جنوری تک کی ونڈو میں 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی باضابطہ دعوت دینے والے پی سی بی کو انگلینڈ سے مثبت جواب کی امید ہے۔

2009میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی سرگرمیاں معطل رہیں،2015میں زمبابوین ٹیم کی آمد بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد سے بحالی کا عمل بتدریج آگے بڑھ رہا ہے،2017 میں انٹرنیشنل الیون نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، پی ایس ایل ٹو کا فائنل بھی کھیلا گیا۔

سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے دور میں ہی ویسٹ انڈین ٹیم نے بھی کراچی میں ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے، سری لنکن ٹیم بھی مختصر فارمیٹ کے ایک میچ کیلیے آئی، ملک میں امن او امان کی صورتحال میں مسلسل بہتری نے موجودہ مینجمنٹ کا کام آسان بنا دیا،اس نے سابقہ آفیشلز کے شروع کیے ہوئے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے سری لنکا اور بنگلہ دیش کا اعتماد حاصل کیا، کورونا کی وجہ سے بنگال ٹائیگرز کے دورے کا دوسرا مرحلہ ملتوی ہوگیا۔

ایم سی سی کی ٹیم نے کمار سنگاکارا کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا، پی ایس ایل 5کے لیگ میچز ہوئے، اب انگلش ٹیم کے آنے کی بھی امید ہوگئی ہے، پاکستانی اسکواڈ نے مشکل وقت میں انگلینڈ کا دورہ کرتے ہوئے بائیو سیکیور ماحول میں میچز کھیلے۔

دونوں ملکوں کے سابق کرکٹرز کہتے رہے ہیں کہ انگلش کرکٹ بورڈ کو اس احسان کا بدلہ چکاتے ہوئے پاکستان کا جوابی دورہ کرنا چاہیے، اب اس ضمن میں مثبت اشارے بھی ملنے لگے ہیں،ای سی بی نے اپنی پریس ریلیز میں تصدیق کردی کہ اسے پی سی بی کی جانب سے مختصر دورے کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ معاملات طے پا گئے تو آئندہ سال جنوری کے مجوزہ ٹور میں 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جا سکتے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیاکہ ہم پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی پر خوش اور اس سلسلے کو آگے بڑھانے میں ہر ممکن مدد کرنا چاہتے ہیں،اس حوالے سے پی سی بی کے ساتھ رابطے میں رہیں گے، حتمی فیصلہ مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا،کورونا کی صورتحال کو خاص طور پر مدنظر رکھیں گے، اولین ترجیح کھلاڑیوں اور اسٹاف کی صحت کی حفاظت ہوگی، ٹیم کے مصروف انٹرنیشنل شیڈول بھی دیکھنا ہوگا۔

یاد رہے کہ آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام کے تحت انگلش ٹیم کا دورئہ پاکستان 2022 میں شیڈول ہے،پی سی بی کا خیال ہے کہ دورئہ سری لنکا اور بھارت سے سیریز کے درمیان جنوری میں دستیاب ونڈو میں انگلش ٹیم پاکستان سے ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل سکتی ہے۔ حتمی فیصلہ ہوگیا تو انگلینڈ کا اسکواڈ 2005 کے بعد پہلی بار پاکستان کا دورہ کرے گا۔ دوسری جانب مثبت اشاروں کے بعد پی سی بی مجوزہ سیریز کیلیے پْر امید ہے۔

چیف ایگزیکٹیووسیم خان نے ایک انٹرویو میں کہاکہ ہم نے13 سے 20 جنوری کی ونڈو ای سی بی کو بتائی ہے۔ اگرچہ انگلینڈ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے کر حتمی جواب دے گا لیکن ابتدائی مرحلے میں مثبت ردعمل خوش آئند ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے بائیو سیکیور ماحول میں قومی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے وقت جوابی ٹور کی کوئی شرط عائد نہیں کی تھی، دراصل یہ بہتر تعلقات اور اعتماد کی بات ہے، ہمارے انگلش بورڈ کے ساتھ بہت اچھے روابط ہیں،غیر رسمی انداز میں امکانات کا جائزہ تو اکتوبر سے ہی لیا جا رہا تھا لیکن اب باضابطہ طور پر دعوت کے بعد مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

وسیم خان نے کہا کہ اس مقام تک پہنچنے میں دونوں بورڈز کے چیئرمینز اور چیف ایگزیکٹیوز کی بات چیت کے ساتھ برطانوی ہائی کمشنر کی معاونت نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے،حال ہی میں سابق کپتان مائیک ایتھرٹن نے بھی انگلش ٹیم کے ٹور کی بھرپور حمایت کردی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی حتمی فیصلے سے قبل کورونا کی صورتحال، سیکیورٹی سمیت انتظامات کے معاملات دیکھے جائیں گے، البتہ میں پْرامید ہوں کہ انگلش ٹیم پاکستان آئے گی، انفرا اسٹرکچر بڑا ہونے کی وجہ سے انگلینڈ نے بائیوسیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے، ہم اپنی استعداد کے مطابق ہر ممکن کوشش کریں گے، اس ضمن میں انگلینڈ کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جائے گا، ای سی بی اس دورے میں عمومی اور بائیو سیکیورٹی کے ضمن میں جو بھی تجاویز دے ان پر عمل یقینی بنائیں گے،امید ہے کہ زمبابوے، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کی ٹیمیں ہماری طرف سے کیے جانے والے انتظامات سے مطمئن ہوکر جائیں گی۔

وسیم خان نے کہا کہ مسائل تو کہیں بھی پیش آسکتے ہیں لیکن پاکستان دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح ہی محفوظ ہے،انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے ٹورز ہوگئے توہم آسٹریلیا کا اعتماد بھی حاصل کرسکیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔