ستمبر میں بیرونی سرمایہ کاری پچھلے سال کی نسبت کم رہی

سلمان صدیقی  ہفتہ 17 اکتوبر 2020
بہترین پالیسی سازی کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا،حسین حیدر
 (فوٹو : فائل)

بہترین پالیسی سازی کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا،حسین حیدر (فوٹو : فائل)

 کراچی: متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں پہلے سے جاری تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبوں میں 6 ماہ کی سب سے زیادہ یعنی 10 کروڑ 89 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے تاہم اگر گزشتہ مالی سال کا جائزہ لیا جائے تو یہ مالی سال 2020 کے ہر ماہ اوسطا 20 کروڑ ڈالر سے کم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور خاص طور پر نئے منصوبوں میں اس وقت بڑھے گی جب ایک بار کورونا وبا سے عالمی طور پر چھٹکارا مل جائے۔ عالمی صحت کے اس مسئلے کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ کاروں نے نئے منصوبوں میں پیسہ لگانے کا عمل فی الحال روک دیا تاوقتیکہ کورونا مسئلے کا حل نکل آئے۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگر سالانہ طور پر جائزہ لیا جائے تو اس سال ستمبر میں ہونے والی دس کروڑ 89 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے ماہ ستمبر میں کی جانے والی 38 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں نصف ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سالی کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں 24 فیصد گراوٹ آئی اور یہ 41 کروڑ 47 لاکھ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 54 کروڑ 55 لاکھ ڈالر سرمایہ کاری کی گئی تھی۔

ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے جہانگیر صدیقی گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ حسین حیدر کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کا جو حجم اس سہ ماہی میں سامنے آیا تو توقعات کے مطابق تھا کیونکہ کورونا کے علاوہ گزشتہ دو تین برسوں سے بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں کمی رہی ہے۔ پاکستان میں دس گنا زیادہ بیرونی براہ راست سرمایہ کاری ہوسکتی ہے لیکن ضرورت ہے کہ بہترین پالیسی سازی کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔