نیوزی لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میں جیسنڈا آرڈرن کی تاریخی فتح

ویب ڈیسک  ہفتہ 17 اکتوبر 2020
جسینڈا آرڈن کی جماعت لیبر پارٹی نے 50 فیصد ووٹ حاصل کیے، فوٹو : فائل

جسینڈا آرڈن کی جماعت لیبر پارٹی نے 50 فیصد ووٹ حاصل کیے، فوٹو : فائل

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حکمراں جماعت ’لیبر پارٹی‘ نے واضح کامیابی حاصل کرلی ہے جس کے بعد وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی دوسری بار بھی وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کے پارلیمانی الیکشن میں موجودہ وزیراعظم جسینڈا آرڈن کی جماعت ’لیبر پارٹی‘ نے واضح کامیابی حاصل کرلی ہے جب کہ اس مرتبہ انتخابات میں آرڈرن کا مقابلہ دائیں بازو کی قدامت پسند رہنما جوڈتھ کولنز سے تھا۔ جسینڈا آرڈن نے فتح کو تاریخی قرار دیا۔

پارلیمانی انتخابات میں جسینڈا آرڈن کی جماعت لیبر پارٹی نے 50 فیصد نشستیں حاصل کرلی ہیں اور ان کے مدمقابل جوڈتھ کولنز کی جماعت لیبر پارٹی نے 27 فیصد نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ دیگر جماعتوں نے مجموعی طو پر 8 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح ملک میں تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمان میں بائیں بازو کے اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

Jasenda hugging victim families

نیوزی لینڈ میں حکومت سازی کے لیے پارلیمان کی 61 نشستوں پر کامیابی ضروری ہوتی ہے ورنہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں دوسری جماعتوں کے ساتھ ملکر مخلوط حکومت بنانا پڑتی ہے اور ابتدائی نتائج سے لگتا ہے کہ جسینڈا آرڈن دوسری بار بھی بآسانی وزیراعظم بن جائیں گی۔

یہ پڑھیں: نیوزی لینڈ میں 2 مساجد میں فائرنگ سے 49 نمازی شہید 

وزیراعظم جسینڈا آرڈن نے دو مساجد پر دہشت گرد آسٹریلوی شہری کے حملے کے نیتجے میں 50 نمازیوں کی ہلاکت پر لواحقین سے اپنے حسن سلوک اور دہشت گرد کو منطقی انجام تک پہنچانے کی وجہ سے عالمگیر شہرت حاصل کی تھی جب کہ ان کی حکومت نے اپنی کارکردگی کے باعث ووٹرز کے دل بھی جیت لیے تھے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے انتخابات ایک ماہ کی تاخیر سے ہو رہے ہیں۔ طے شدہ پروگرام کے تحت عام انتخابات کے لیے 19 ستمبر کو ووٹنگ ہونا تھی تاہم کووڈ 19 کی وجہ سے انہیں 17 اکتوبر تک کے لیے مؤخر کردیا گيا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔