ٹیکنیکل ایجوکیشن، مائیکروفنانسنگ اور چھوٹی صنعت کو فروغ دینا ہوگا!!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 19 اکتوبر 2020
’’غربت کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ کی رپورٹ ۔  فوٹو : فائل

’’غربت کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ کی رپورٹ ۔ فوٹو : فائل

غربت ایک عالمی مسئلہ ہے جو نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ ترقی یافتہ ممالک کو بھی درپیش ہے۔ غربت کی وجہ سے معاشرے میں لاتعداد مسائل جنم لیتے ہیں، جرائم میں اضافہ ہوتاہے اور معاشرہ تباہی کی جانب چل نکلتا ہے۔

اس اہم مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اقوام متحدہ کی جانب سے نہ صرف ہر سال 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے بلکہ پائیدار ترقی کے اہداف میں پہلا ہدف بھی غربت کا خاتمہ رکھا گیا ہے جس کا مقصد دنیا بھر کے تمام ممالک کو پابند کرنا ہے کہ وہ غربت کی تمام اقسام کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ادارہ ایکسپریس نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی ’’غربت کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا جس میں حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قائین ہے۔

 حسین جہانیاں گردیزی
(صوبائی وزیر زراعت پنجاب)

عالمی دن ایسے مسائل پر منائے جاتے ہیں جو دنیا بھر کا مسئلہ ہوتے ہیں تاکہ مجموعی کوششوں سے ان چیلنجز کا خاتمہ کیا جاسکے۔ دیگر بڑے مسائل کی طرح غربت بھی ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے خاتمے کیلئے دنیا بھرمیں عالمی دن منایا جاتا ہے۔ دنیا کے قدرتی وسائل کا 75 فیصد ترقی پذیر جبکہ 25 فیصد ترقی یافتہ ممالک کے پاس ہے مگر دنیا کی جی ڈی پی کا 75 فیصد ترقی یافتہ جبکہ 25 فیصد ترقی پذیر ممالک کے پاس ہے جو حیران کن ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے لوگوں پر زیادہ سرمایہ کاری کی، ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پر کام کیا، لوگوں کو تعلیم و شعور دیا جس سے لوگوں کے کام کرنے کی صلاحیت میں بہتری آئی ۔ پاکستان کی بات کریں تو یہاں 25 فیصد سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے ہم نے اپنے لوگوں پر توجہ نہیں دی اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پر کام نہیں کیا۔ہماری زیادہ آبادی ان پڑھ ہے جو پروڈکٹیو نہیں ہے اور اس سے نہ صرف ان کی اپنی بلکہ ملک کی غربت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگر انہیں ٹیکنیکل ٹریننگ دینے پر توجہ دی جاتی تو آج نتائج مختلف ہوتے، ہماری ہیومن ریسورس بہتر ہوتی اور لوگ اپنا روزگار بہتر طریقے سے کما رہے ہوتے۔ موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو کورونا وائرس نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس سے سب متاثر ہوئے ہیں مگر ترقی پذیر ممالک پر اس کے اثرات خطرناک ہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک، ارب پتی کاروباری شخصیات اور مخیر حضرات نے کورونا کی حفاظتی و تشخیصی کٹس اور دیگر امدادی سامان غریب ممالک کو دیا مگر یہ کوئی ایسا بڑا قدم نہیں ہے جس سے ان ممالک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مدد ملے۔میرے نزدیک کورونا کی اس مشکل صورتحال میں ترقی یافتہ ممالک، ترقی پذیر ممالک کو پیکیج دیں تاکہ وہ سنبھل سکیں اور غربت کے خاتمے کا عالمی مشن پورا ہوسکے۔ پاکستان کے دیہاتوں میں غربت زیادہ ہے، وہاں تعلیم کی کمی ہے،ملازمت اور روزگار کے مواقع کم ہیں، معمولی معاوضہ ملتا ہے اور سوشل سکیورٹی بھی نہیں ہے۔

ہمارے دیہی علاقوں میں روایتی کاٹیج انڈسٹری تھی جو روزگار کا بڑا ذریعہ تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اسے مزید ڈویلپ کیا جاتا مگر ماضی کی حکومتوں نے اسے نظر انداز کیا جس سے مسائل پیدا ہوئے۔ ہماری توجہ کاٹیج انڈسٹری پر ہے، اسے بہتر کیا جائے گا۔ احساس پروگرام سوشل سکیورٹی کا سب سے بڑا پیکیج ہے۔

اس کے تحت اب ہمارے پاس غرباء کا ڈیٹا موجود ہے لہٰذا اس ڈیٹا کی روشنی میں انہیں اشیائے خورونوش پر سبسڈی دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ آٹا و دیگر اشیاء پر حکومتی سبسڈی سب کے لیے ہے، فائیو سٹار ہوٹل اور عام ہوٹل پر کھانے والے دونوں ہی اس سبسڈی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ٹارگٹڈ سبسڈی سے غرباء کی زیادہ مدد کی جاسکتی ہے۔ یورپ کے صنعتی انقلاب کو دیکھتے ہوئے ہم نے بھی صنعتکاری پر توجہ دی اور یہ بھول گئے کہ ہماری زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کا نقصان ہم نے اٹھایا ہے اور ہماری زراعت کی حالت سب کے سامنے ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی توجہ زراعت پر ہے اور وہ اس کو بہتر بناکر ملکی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زرعی ترقی سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ کورونا کی مشکل گھڑی میں سب کچھ بند تھا مگر زراعت نے ہمیں سنبھالا دیا۔ میرے نزدیک زراعت میں ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے۔مائیکرو فنانسگ غربت کے خاتمے کا ایک اہم ٹول ہے،ا س سے چھوٹے کسانوں کو فائدہ ہوتا ہے تاہم اس کی پالیسیوں میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک غربت کے خاتمے کیلئے زراعت، مائیکرو فنانسنگ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر توجہ دینا ہوگی۔

مبارک علی سرور
(نمائندہ سول سوسائٹی)

ہر سال 17 اکتوبر کو دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں 25 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ رواں سال مارچ سے لے کر اب تک، کورونا وائرس نے لوگوں کی معاشی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دنیا بھر میں انسانی زندگیاں بچانے کیلئے لاک ڈاؤن کیا گیا تھا مگر اس سے لوگوں کا کاروبارو روزگار متاثر ہوا لہٰذا اس سال غربت میںا ضافے کی ایک بڑی وجہ کورونا وائرس ہے۔

پاکستان کی بات کریں تو یہاں بھی لاک ڈاؤن کے دوران کاروباری مراکز و صنعتیں بند رہیں جس سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ زراعت اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔ گزشتہ برسوں کی نسبت اس سال کسانوں کو اجناس کا ریٹ بہتر ملا ہے۔ اس میں یقینا حکومتی پالیسیاں ایک بڑی وجہ ہیں جس سے کسانوں کو سازگار ماحول ملا ہے، اس میں سول سوسائٹی ، سماجی تنظیموں و دیگر اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ زراعت کے حوالے سے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ موسم کی تبدیلی کا شیڈول بدل چکا ہے۔

اکتوبر کا مہینہ ختم ہونے کو ہے مگر ابھی تک وہ موسم نہیں آیا جو زراعت کو متاثر کرتا تھا، اس سے فصلیں زیادہ ہوئی ہیں اور ان کادورانیہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کی عالمی و مقامی منڈیوں تک رسائی میں بھی بہتری آئی ہے جس سے انہیں فائدہ ہوا ہے۔ مائیکروفنانس ادارے، بینک اور حکومتی سکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں  کی بات کریں تو ابھی بھی بے شمار ایسے لوگ ہیں جو ان سے مستفید نہیں ہو پاتے، انہیں آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ پائیدار ترقی کے 17 اہداف ہیں جو 2030ء تک حاصل کرنے ہیں۔

ان میں پہلا ہدف غربت کا خاتمہ ہے جس کے حصول کیلئے حکومت، نجی و سماجی ادارے، سول سوسائٹی، بینک، مائیکروفنانس ادارے و دیگر سٹیک ہولڈرز کا کردار اہم ہے۔ غربت کی ایک بڑی وجہ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہے۔ وسائل محدود ہیں مگر آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی شرح 2.2 فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں بھی آبادی میں اضافہ ہوا ہے، چھوٹے علاقوں سے لوگ شہروں میں ہجرت کر گئے جس سے وہاں کی آبادی کا تناسب بگڑ گیا اور وسائل میں بھی کمی آئی۔ آبادی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل بنانا ہوگا اور شہریوں کو ان کے علاقے میں ہی سہولیات دینا ہونگی تاکہ معاملات کو بہتر بنایا جاسکے۔ غربت کے خاتمے میں ہماری زراعت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ہماری زیادہ تر آبادی کا تعلق شعبہ زراعت سے ہے لہٰذا اس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ چھوٹے کاشتکاروں کو چھوٹے قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی منصوبے چل رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مائیکروفنانس ادارے بھی کاشتکاروں کو آسان شرائط پر بلاسود اور کمرشل قرضے فراہم کرتے ہیں۔

ان سے یقینا ان کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے ۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام غربت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس وقت بھی سیاسی صورتحال کشیدہ ہے، ملکی مفاد میں تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر آنا ہوگا۔ سیاسی استحکام سے معیشت بہتر ہوگی، لوگوں کو روزگار ملے گا اور ان کی غربت کا خاتمہ ہوگا۔ چھوٹے ذمہ داروں، صنعتکاروں کے حوالے سے پالیسی بنائی جائے اور انہیں ساز گار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو سنبھالا مل سکے۔

بارک اللہ
(نمائندہ سول سوسائٹی)

27 برس قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 17 اکتوبر کو ’’غربت کا عالمی دن‘‘ ڈکلیئر کیا جس کا مقصد غربت کے خاتمے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور دنیا بھر میں اس پر کام کرنے کی سوچ کو پیدا کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں پہلا ہدف غربت کا خاتمہ ہے۔ اس ہدف کا مطلب ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں چاہے وہ ترقی یافتہ ملک ہو یا ترقی پذیر، پر امن علاقہ ہو یا حالت جنگ میں، کہیں بھی غربت نہیں ہونی چاہیے اور پوری انسانیت کو اس کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔

پاکستان میں ایک چوتھائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔اس کا پیمانہ تقریباََ پونے تین سو روپے روزانہ ہے۔ ہمارے ملک میں 24 فیصد افراد کی آمدن پونے تین سو روپے روزانہ سے کم ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ کورونا نے لوگوں کی زندگی مزید مشکل کر دی ہے۔ خطرہ ہے کہ کورونا کے بعد خط غربت سے نیچے افراد کی شرح 40 فیصد ہوگی لہٰذا اس وباء کے معاشی اثرات کو کم از کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ لوگوں کی فی کس آمدنی گزشتہ چند برسوں میں مزید کم ہوگئی ہے۔

ان کی قوت خرید  میں بھی کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ افراط زر کی شرح بھی پریشان کن ہے اور حکومت اس پر قابو پانے کی کوشش کرر ہی ہے ۔ ہمارے 42 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں، سڑکوں پر موجود بچوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، یہ تمام اعداد و شمار الارمنگ ہیں لہٰذا ہمیں بحیثیت قوم ہر سطح پر ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مائیکروفنانس ادارے غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہماری توجہ ایسے غریب لوگوں پر ہے جن کی بینکوں تک رسائی نہیں ہے۔

ہم انہیں آسان شرائط پر قرض دیتے ہیں تاکہ ان کی حالت کو بہتر بنایا جاسکے۔ انہیں قرض دینے کے ساتھ ساتھ تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے اور ان کے رابطے بھی قائم کروائے جاتے ہیں۔ ہمارا ادارہ اب تک ڈیڑھ لاکھ گھرانوں کو4 ارب روپے سے زائد کے چھوٹے قرضے دے چکا ہے جن میں بلاسود قرضے بھی شامل ہیں جو حکومتی سکیم کے مطابق دیے گئے ہیں ۔

ہم غربت کے اعدادو شمار کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں مگر یہاں ایک بات قابل ستائش ہے کہ کورونا وائرس کی مشکل صورتحال میں حکومت نے محدود وسائل ہونے کے باوجود تاریخ کا سب سے بڑا سوشل سیفٹی پیکیج دیا۔ ایک کروڑ 20 لاکھ افراد جن کا روزگار ختم ہوچکا تھا، جو انتہائی غریب تھے، ان میں 144 ارب روپے تقسیم کیے۔ اس طرح کے مزید منصوبوں کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے، حکومت، ادارے اور ہر فرد غربت کے خاتمے میں اپنا کیا حصہ ڈال سکتا ہے۔ اس حوالے سے جامع حکمت عملی بنانا ہوگی۔ حکومت کی ای کریڈٹ سکیم قابل ستائش ہے جن میں چھوٹے رقبے والے کسانوں کو بلاسود قرضے فراہم کیے جارہے ہیں اور ایکسٹینشل سروسز بھی دی جارہی ہیں۔ا س کے ساتھ ساتھ انہیں ٹیکنالوجی سے بھی لنک کیا جارہا ہے جس سے ان کی زندگیوں میں بہتری آرہی ہے اور ان کے مسائل کم ہورہے ہیں۔

عرفان کھوکھر
(نمائندہ سول سوسائٹی )

ہر سال درجنوں عالمی دن منائے جاتے ہیں مگر غربت کے خاتمے کا عالمی دن سب سے اہم ہے کیونکہ تمام مسائل اس سے جڑے ہیں۔اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں بھی پہلا ہدف غربت کا خاتمہ ہے اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ یہ سب سے اہم مسئلہ ہے لہٰذا لوگوں کی معاشی غربت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

غربت کی مختلف اقسام ہیں مگر وہ آمدنی کی غربت کے گرد گھومتی ہیں۔ اگر انکم بہتر ہو تو بچوں کی صحت، تعلیم و دیگر سہولیات بہتر طریقے سے پوری ہو جاتی ہیں بصورت دیگر معاملات زندگی چلانا مشکل ہوجاتا ہے لہٰذا لوگوں کی آمد ن بڑھانے پر موثر کام کیا جائے۔

احساس پروگرام زبردست اور وسیع  پروگرام ہے جس سے غرباء کو ریلیف ملا۔ اس کا دائرہ کار مزید بڑھانا چاہیے اور وفاق کی طرز پر صوبوں کو بھی چاہیے کہ ایسا پروگرام شروع کریں، سول سوسائٹی، حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ہمارے نظام تعلیم میں مسائل ہیں جن کی وجہ سے فارغ التحصیل طلبہ کو روزگار نہیں ملتا اور ان کی معاشی حالت بہتر نہیں ہوتی۔

یہ غور طلب بات ہے کہ ہم طلباء کو ایف اے، بی اے کروا تے ہیں جس میں کوئی پوٹینشل نہیں ہے، اس پر سرکار کے وسائل بھی خرچ ہوتے ہیں، والدین کے اخراجات بھی ہوتے ہیںمگر عملی زندگی میں طلباء کو فائدہ نہیں ہوتا۔سرکاری تعلیمی اداروں کے حوالے سے پالیسی سازی کی جائے۔ میری تجویز ہے کہ جو بچے ایف اے اور بی اے میں داخلہ لیتے ہیں، ان میں سے ٹیکنیکل ایجوکیشن دی جائے تاکہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنا روزگار کماسکیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی ہمارے ملک میں ہے مگر وہ پروڈکٹیو نہیں ہے۔

اگر ان نوجوانوں کو ہنر کی تعلیم دی جائے اور مائیکروفنانس ادارے انہیں آسان قرض دیں تو ان کی معاشی حالت بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ میرے نزدیک ٹیکنیکل ، ووکیشنل ٹریننگ اور مائیکروفنانسنگ، غربت کے خاتمے کا اہم ٹول ثابت ہوسکتے ہیں،ا ن پر توجہ دی جائے۔

حکومت زراعت کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام کر رہی ہے جو خوش آئندہ مگر تاحال زراعت میں وہ جدت نہیں آسکی جتنی آنی چاہیے تھی لہٰذا حکومت، سول سوسائٹی اوردیگر سٹیک ہولڈرز کو اس پر تندہی سے کام کرنا ہوگا۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ زراعت کی ترقی سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے لہٰذا اس کو فروغ دیا جائے، جدت لائی جائے اور اس کی ویلیو ایڈیشن کی جائے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہماری نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے لہٰذا غربت کے خاتمے کیلئے ہمیں خواتین کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا اور شہروں اور دیہاتوں میں خواتین مزدوروں کی حالت کو بہتر بناناہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔