قومی ادارے ملکی استحکام کی ضمانت، سیاست میں نہ گھسیٹا جائے

ارشاد انصاری  بدھ 21 اکتوبر 2020
 ملک میں سیاسی صورتحال گزرتے وقت کے ساتھ گھمبیر ہوتی جا رہی ہے

ملک میں سیاسی صورتحال گزرتے وقت کے ساتھ گھمبیر ہوتی جا رہی ہے

 اسلام آباد:  ملک میں سیاسی صورتحال گزرتے وقت کے ساتھ گھمبیر ہوتی جا رہی ہے اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس لڑائی میں دونوں طرف سے اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض اوقات تو گمان ہوتا ہے کہ اس معاملے پر اپوزیشن اور حکومت ایک پیج پر ہیں کیونکہ جو بیانہ نوازشریف اور اپوزیشن کے دوسرے رہنماوں کی طرف سے دیا جا رہا ہے کپتان اور اسکے کھلاڑی جانے انجانے پر اس بیانئے پر مہر ثبت کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ کپتان وہ کھلاڑی ثابت ہو رہا ہے جو اپنی ہی ڈی میں گول کر رہا ہے۔

عدالتوں کی جانب سے سزائیں ہونے اور نوازشریف کی تقاریر دکھانے پر پابندی ہونے کے باعث الیکٹرانک میڈیا پر جو تقاریرعوام دیکھ اور سن نہیں پاتی ہیں کپتان ان تقاریر کا حوالہ دے دے کر خود پبلک کر دیتا ہے اور اسی کو لے کر مولانا فضل الرحمن بھی مقتدر قوتوں کو مشورہ دیتے دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ کم ازکم اپنے نادان دوست کو ہی سمجھا لیں کیونکہ جو بات اپوزیشن والے کر رہے ہے، اسے مقتدر حلقوں کی جانب سے غلط قرار دیا جا رہا ہے لیکن ایگزیکٹو کی جانب سے عوامی اجتماعات میں خود اعتراف کیا جا رہا ہے اور خواجہ آصف کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو فون کئے جانے سے متعلق کی جانیوالی گفتگو کو بطور ثبوت پیش کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ کی بالادستی کے حوالے سے بھی سنگین قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کسی بھی گرفتار اپوزیشن رہنما کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کئے جانے کے اعلان نے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور اب انکی خودمختاری و غیرجانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

جبکہ مسلم لیگ (ن)کے رہنما مشاہداللہ خان نے سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے نہ صرف چیئرمین سینٹ اور اسپیکر کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا کہا ہے بلکہ وزیراعظم کے خلاف ریفرنس بھجوانے کی بھی بات کی ہے یہ وہ معاملات ہیں جو ملک کے سیاسی ماحول کو مزید بگاڑ کی جانب لے کر جا رہے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ گوجرانوالہ کے کامیاب جسلہ کے بعد سے حکومتی حلقوں میں پریشانی بڑھتی جا رہی ہے اور اب اپوزیشن کی جانب سے مزید جلسے جلوس اور پھر دھرنوں کے اعلانات سامنے آرہے ہیں تو ایسے میں حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور گوجرانوالہ کے جلسے کے ردعمل میں کپتان کی جانب سے ٹائیگر فورس سے خطاب میں اس گھبراہٹ کی جھلک واضح دکھائی دے رہی تھی اور انکی باڈی لینگویج سب کچھ کھل بیان کر رہی تھی اور جو لب و لہجہ کپتان کی جانب سے اپنایا گیا وہ پتہ دے رہا تھا کہ اعصاب کمزور پڑ رہے ہیں لیکن کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوتوں کے درمیان لرائی کھل کر سامنے آچکی ہے اور دونوں طرف سے جذبات اپنے انتہاء کو ہیں لیکن جذبات کے ساتھ ساتھ ہوش کو قابو میں رکھنا وطن عزیز کی خودمختاری و سالمیت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں مقتدر قوتوں کا اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں انتہائی اہم نوعیت کے فیصلے ہونے جا رہے ہیں، جسکے ملک کے سیاسی مستقبل اور منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی افواج موجودہ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر اس وقت اہم فیصلے کرنے ہوںگے، مقدر حلقوں کے اس اہم اجلاس کی تفصیلات بھی ان سطور کی اشاعت تک سامنے آجائیں گی مگر اتنا ضرور ہے کہ اس اجلاس میں بہت اہم فیصلے ہونے جا رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔

اس وقت فوجی قیادت کو اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا ریا ہے اس پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آج کے اہم اجلاس میں بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی اور جو صورتحال بن رہی ہے اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اپوزیشن اور پاک فوج کے درمیان تصادم کا ماحول ایک منظم سازش کے تحت پیدا کیا گیا ہے اور اس سازش کی (از سر نو ) ابتدا شہباز شریف کی گرفتاری سے ہوئی تھی جبکہ تکمیل گزشتہ روز لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر ایک مظاہرہ پہ ہوئی جس میں شرکاء نے حیران کن طور پہ جنرل باجوہ کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں ۔

یہ تصادم کا ماحول اس کے باوجود پیدا ہوا ہے کہ نہ فوج یہ ماحول پیدا کرنا چاہتی تھی اور نہ ہی اپوزیشن گزشتہ چند روز سے احتیاط کا دامن چھوڑتی نظر آ رہی تھی جس سے امید پیدا ہو چلی تھی کہ کسی حد تک میانہ روی اختیار کر کے فوج خود کو تنازعات سے باہر نکال لے گی ۔ اس تصادم کے ماحول کے اثرات سے بچنا اب شاید ممکن نہیں ۔ نقصان اپوزیشن یا فوج کا ہی نہیں ہم سب کا اور پاکستان کا ہوگا۔اگر کبھی کسی کو اس سازش کے پیچھے کرداروں کا سراغ لگانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو دیکھنا ہو گا کہ صلح جو اور اعتدال پسند شہباز شریف کو کن لوگوں کی خواہش پہ گرفتار کیا گیا اور لندن میں گزشتہ روز کے مظاہرہ کے پیچھے کون تھا۔ پاکستان سخت عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے چونکہ معیشت مکمل بیٹھ چکی ہے۔

دوسری جانب کراچی جلسے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری نے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے کے اندراج اور ان کی گرفتاری سے متعلق جو بھی معاملات ہیں ان کے بارے میں حقائق جانچنے کے لیے حکومتی وزرا پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں تین سے پانچ وزرا شامل ہوں گے۔

حکومت اپوزیشن کی لڑائی میں عام عوامی مسائل پر کسی کی توجہ نہیں سب اپنے مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں اور میڈیا میں اسی پر بحث ہو رہی ہے۔ مہنگائی عروج پر حکومت اس کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ صرف باتیں ہی کی جا رہی ہیں کہ ہم مہنگائی پر کنٹرول کر لیں گے لیکن عملی طور پر حالات مزید بگڑتے جا رہے ہیں اور اگر انہیں بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو پاکستان سخت اقتصادی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے چونکہ معیشت مکمل بیٹھتی جا رہی ہے اور عوام تنگ آ چکے ہیں جس کے باعث حکومت بہت غیر مقبول ہے اور اپوزیشن بجنگ آمد کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں کوئی بھی ایڈونچر ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب کپتان ہیں کہ نوٹس لینے سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہیں اور اب تمام تر اداروں کے ہوتے ہوئے ٹائیگر فورس کو مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے استعمال کرنے کا اعلان کردیا ہے جس پر ملک بھر سے تاجروں و صنعتکاروں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور تاجروں و صنعتکاروں کی وزیراعظم عمران خان سے ہونیوالی حالیہ ملاقات میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے سابق رہنما و اسلام ا ٓباد چیمبر کے گروپ لیڈر سہیل الطاف نے ٹائیگر فورس کے معاملہ پر وزیراعظم کو نظر ثانی کا مشورہ دیا اور وزیراعظم نے پھر انکے مشورے کو مان بھی لیا اور ٹائیگر فورس کے مہنگائی کے کنٹرول میں کردار کو واضح کردیا کہ ٹائیگر فورس کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک فیصلہ ہونافنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس بھی آج (بدھ)ہونے جا رہا ہے جس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھنے سے متعلق فیصلہ آنے کے امکانات زیادہ روشن نظر آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروںکا خیال ہے کہ پاکستان کا گرے سے وائٹ لسٹ میں چلا جانا کوئی معجزہ ہی ہو سکتا ہے ۔ البتہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستان کو جلد ہی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا اور وہ پر امید دکھائی دے رہے ہیں تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا تھا کہ ایسا کب تک ہو سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔