سندھ اسمبلی اجلاس؛ محمود اچکزئی کے خلاف قرارداد کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن بپھرگئی

اسٹاف رپورٹر  بدھ 21 اکتوبر 2020
پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاجاً ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا،جی ڈی اے کے ارکان نے ساتھ نہیں دیا (فوٹو، فائل)

پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاجاً ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا،جی ڈی اے کے ارکان نے ساتھ نہیں دیا (فوٹو، فائل)

 کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کے اردو کے خلاف بیان پر مذمتی قرارداد جمع کرانے سے روکے جانے پر اپوزیشن ارکان بپھر گئے جنہوں ںے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کردی، جی ڈی اے نے اس احتجاج کا ساتھ نہیں دیا۔

بدھ کو سندھ اسمبلی کا اجلاس سوا گھنٹے تاخیر سے اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا تو ایوان میں سیاسی کشیدگی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے۔ وقفہ دعا کے دوران پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے تقریر کی کوشش تواسپیکر آغا سراج نے ان کا مائیک بند کرادیا جس پر انہوں نے احتجاج بھی کیا۔

فاتحہ خوانی اور دعا کے بعد جب وقفہ سوالات کا مرحلہ آیا تو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آغا سراج درانی سے استدعا کی کہ انہیں قومی زبان اردو کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے رہنما محمود خان اچکزئی نے کراچی کے حالیہ جلسے میں اپنے خطاب کے دوران قومی زبان اردو سے متعلق انتہائی توہین آمیز ریمارکس دیئے ہیں اس لیے انہیں وقفہ سوالات سے پہلے قرارداد پیش کرنے دی جائے۔

اسپیکر آغا سراج درانی نے اپوزیشن کی یہ استدعا مسترد کردی جس پر اپوزیشن ارکان بپھر گئے اور انہوں نے ایوان میں سخت احتجاج اور نعرے بازی شروع کردی۔ وہ ایوان میں ’’اردو کو عزت دو‘‘ کے نعرے لگارہے تھے جس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے ارکان بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے جواباً ’’گو نیازی گو‘‘ کے نعرے لگانا شروع کردیئے۔

اپوزیشن کے شور شرابے سے ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔ اپوزیشن ارکان نے اپنے احتجاج کے دوران اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا اور وہاں پہنچ کر بھی نعرے لگائے حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان مخالفانہ نعرے بازی کا مقابلہ خاصی دیر تک جاری رہا اور پورا وقفہ سوالات اور شور شرابے کی نذر ہوگیا۔

پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاجاً ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا لیکن جی ڈی اے کے ارکان نے اپنے اپوزیشن کے ساتھیوں کا ساتھ نہیں دیا اور وہ اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔