پنجاب میں اسموگ کا سلسلہ قبل ازوقت شروع ہوگیا

آصف محمود  اتوار 25 اکتوبر 2020
کاشتکار نئی فصل کاشت کرنے کے لئے دھان کے مڈھوں کو آگ لگاتے ہیں جس سے فضائی آلودگی ہوتی ہے فوٹو: فائل

کاشتکار نئی فصل کاشت کرنے کے لئے دھان کے مڈھوں کو آگ لگاتے ہیں جس سے فضائی آلودگی ہوتی ہے فوٹو: فائل

 لاہور: پاکستانی اوربھارتی پنجاب میں پابندی کے باوجود دھان کی باقیات کو جلانے کا سلسلہ بند نہیں ہوسکا ہے جس سے لاہور سمیت پنجاب کے بیشترسرحدی علاقوں میں اسموگ کا سلسلہ قبل از وقت شروع ہوگیا ہے۔

لاہورسمیت پنجاب میں دھان کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے ، کاشتکار زمین میں دوسری فصل کاشت کرنے کے لئے دھان کے مڈھوں کو آگ لگادیتے ہیں جس سے ناصرف فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے بلکہ زمین کی زرخیزی بھی متاثرہورہی ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کی طرف سے دھان سمیت تمام فصلوں کی باقیات کوجلانے پرپابندی عائد ہے۔

محکمہ زراعت پنجاب کے ڈائریکٹرجنرل ایکسٹینشن ڈاکٹرانجم علی نے بتایا کہ محکمہ زراعت پنجاب اسموگ کے کنٹرول کے لئے متحرک ہے۔ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے میں ملوث افراد کے خلاف روزانہ کی بنیاد پرمقدمات درج کروائے جارہے ہیں ، جمعہ کے روز 55 سے زائد ایف آئی آر کا اندارج کروایاگیاتھا۔ انہوں نے بتایا کہ دھان کی باقیات کو آگ لگانے کی صورت میں دفعہ 144 کے تحت کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

ڈاکٹر انجم علی نے مزیدبتایا سیکرٹری زراعت پنجاب کی ہدایت پر امسال اسموگ مٹیگیشن سیل اور مانیٹرنگ ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر دھان کی فصل کی باقیات کو جلائے جانے کی مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس لئے کاشتکار دھان کی باقیات کو رائس سٹرا چاپر، روٹا ویٹریا ڈسک ہیرو کی مدد سے زمین میں ملا دیں، کاشتکاردھان کی باقیات کو آگ نہ لگائیں بلکہ ان کو زمین میں ملا کر زمین کی زرخیزی میں اضافہ کریں۔ دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے اسموگ کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

پاکستانی پنجاب کے برعکس بھارتی پنجاب میں یہ صورتحال زیادہ خطرناک ہے ، وہاں بھی دھان کی باقیات کوآگ لگانے پر پابندی عائد ہے اس کے باوجود سرحد کی دوسری طرف بھی کاشتکار مڈھوں کو آگ لگا کرتلف کررہے ہیں۔ ایکسپریس کوموصول ہونیوالے اعدادوشمار کے مطابق بھارتی پنجاب میں 24 ستمبر سے اکتوبرکے وسط تک دھان کی باقیات کو آگ لگائے جانے کے 2879 واقعات رپورٹ کئے گئے اور وہاں کسانوں کیخلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ہریانہ میں سب سے زیادہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کے 1386 واقعات درج ہوئے ہیں ۔ اسی وجہ سے سرحدکے دونوں جانب کے علاقوں میں اسموگ کا سلسلہ قبل ازوقت شروع ہوگیا اور رات کے وقت فضا انتہائی آلودہ نظرآتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی بھارت میں کسانوں کی طرف سے فصلیں اورباقیات جلانے سے انتہائی آلودگی پیداہوئی تھی جس پر پاکستان نے بھارتی حکومت سے احتجاج بھی کیا تھا جبکہ وہی سلسلہ اب سردیاں شروع ہونے سے قبل پھرشروع ہوگیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔