مگر جناب کتنا صبر؟

تنویر قیصر شاہد  پير 26 اکتوبر 2020
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

سیاسی ابتری اور بے روزگاری کے بلند ہوتے گراف اور انتہائی منہ زور مہنگائی کے چڑھتے طوفانوں کی موجودگی میں وزیر اعظم عمران خان نے فرمایا ہے: ’’عوام تھوڑا سا صبر کریں ۔ملک طاقتور بنے گا۔‘‘ماشاء اللہ ۔ وزیر اعظم صاحب نے نااُمیدی کے شکار اور ’’بے صبرے‘‘ عوام کو اچھا مشورہ دیا ہے ۔

لگے ہاتھوں اگر صبر کی مقدار، ماہیت اور مدت بھی بتا دیتے تو جناب کا احسان ہوتا۔گزشتہ روز ہمارے محبوب وزیر اعظم نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بھی ایک ’’خوشخبری‘‘یوں سنائی تھی : ’’ پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری ہے ۔بالآخر ہم درست سمت پر چل پڑے ہیں ۔‘‘ اور مبینہ خوشخبری میں بتایا گیا تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئی رقوم(Remittances) میں شاندار اضافہ ہُوا ہے ۔ اس عمل سے وزیر اعظم صاحب نے اندازہ لگا لیا کہ اُن کی حکومت ’’درست سمت‘‘ میں چل نکلی ہے۔ ہمارے حکمران نجانے کس مُوڈ میں ٹویٹس کے ذریعے میڈیا میں ’’عظیم خوشخبریوں ‘‘ کی ’’ نوید‘‘ سنا رہے ہیں۔

عوام کو مگر سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر یہ ’’خوشخبریاں‘‘ ہیں تو یہ کس سیارے پر بسنے والوں کو سنائی جا رہی ہیں؟دکھوں اور سنگین مالی مسائل کی گٹھڑیاں اُٹھائے عوام تو عملی سطح پر بس یہ جانتے ہیں کہ تبدیلی والے حکمرانوں کی طرف سے انھیں کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔عوام تو یہ عذاب جھیل رہے ہیں کہ وہ انڈے جو ابھی دو ہفتے قبل 140روپے فی درجن مل رہے تھے، اب 200روپے فی درجن مل رہے ہیں۔وہ آٹا جو ابھی دو سال قبل 40روپے فی کلو پورے ملک میں دستیاب تھا، اب 100روپے فی کلو کیوں مل رہا ہے ؟سرکار کی طرف سے ڈپوؤں پر پہنچایا جانے والا آٹا چشم زدن میں کیوں اور کہاں غائب ہوجاتا ہے ؟ اور وہ چینی جو دو سال قبل 55روپے فی کلو میسر تھی ، عوام اب وہی چینی 115روپے فی کلو کیوںخریدنے پر مجبور بنا دیے گئے ہیں؟اور وزیر اعظم صاحب فرما رہے ہیں کہ ’’چینی اب مہنگی نہیں ہوگی‘‘ ۔

یعنی مہنگائی زدہ عوام اب یہ توقع چھوڑ دیں کہ چینی اب کبھی 115روپے فی کلو سے نیچے جائے گی؟ جو چینی مافیا اربوں روپے لُوٹ کر لے گیا، اُس پر صبر کر لیا جائے۔صبر کے نئے معنی اور مفہوم یہ ہیں کہ چینی و آٹا مافیا کے بعد اب انڈہ مافیا کے ظالمانہ ہتھکنڈوں پر بھی صبر کیا جائے۔ وزیر اعظم کی ہر تقریر اور میڈیا کو دیے گئے بے تحاشہ انٹرویوز میں ہر شئے پر گفتگو ملتی ہے ۔ مگر نہیں ملتی تو عوامی مصائب اور معیشت پر نہیں ملتی ۔ ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے پروگرام ’’دی ریویو‘‘ میں بجا کہا گیا ہے کہ ’’وزیر اعظم عمران خان کی تقاریر میں معیشت اور عام آدمی کے مسائل پر کوئی بات نظر نہیں آتی۔‘‘

اب ایل پی جی کی قیمت بھی دس روپے فی کلو مہنگی ہو گئی ہے ۔ شنید ہے کہ حکومت سرمایہ داروں کو تیسری بارایمنسٹی اسکیم سے نوازنے جا رہی ہے تاکہ دولتمندوں کا کالا دھن سفید کرکے خزانے میں ڈالا جاسکے اور غریب عوام کے لیے محض صبر کی تلقین !!

جو غریب مریض بلڈ پریشر، شوگر ، دل اور گردوں کی ادویات ساڑھے تین سو فیصد مہنگی خریدنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں ، وہ صبر کیسے کریں؟ پاکستان کے نامور ماہر اقتصادیات ، ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی، وزیر اعظم عمران خان کی حکومت میں ادویات کی شکل میں عوام پر گرائے گئے ہلاکت خیز بم کے بارے میں کہتے ہیں: ’’ حکومت کے ترجمان کے مطابق لائف سیونگ ڈرگز میں یہ ہوشربا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ(1) مارکیٹ میں دوائیں آسانی سے دستیاب ہوں(2) اسمگلنگ نہ ہو (3)ذخیرہ اندوزی نہ ہو (4)مصنوعی قلت پیدا نہ ہو اور دوائیں معیاری ہوں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو وہ ذمے داریاں ہیں جو حکومت کو ہر حال میں نبھانی ہیں، اور حکمران یہ کہہ رہے ہیں کہ ان ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے ادویات کے نرخوں میں(بے پناہ) اضافہ ضروری ہے۔

حکومت نے تو بے بسی کا اظہار کردیا کہ ہم اسمگلنگ روک سکتے ہیں نہ ذخیرہ اندوزی۔لیکن قیمتوں کے اضافے سے ان تمام امور کو مشروط کردیا۔ یہی چیز اب سے بہت پہلے پرویزمشرف کے دور میں بھی ہوئی تھی ۔ چینی کے سنگین بحران میں وزرا ملوث تھے، اس کے دستاویزی ثبوت بھی موجود تھے، جب کہ نیب نے کہا تھا کہ اس کی تحقیقات ہوگی، تو میں نے اُس وقت بھی کہا تھا کہ نیب اگر تحقیقات کرلے تو اس کے پچھلے گناہ دھل جائیں گے۔ مگر چوبیس گھنٹوں ہی میں نیب نے کہہ دیا کہ ہم اس کیس سے دست بردار ہورہے ہیں کیونکہ ہماری تحقیقات سے چینی مزید مہنگی کردی جائے گی۔

وہی منطق جو پرویز مشرف کی حکومت نے اپنائی تھی، آج مہنگی چینی، مہنگے آٹے اور مہنگی ادویات کے حوالے سے تحریک انصاف نے بھی اپنا لی ہے۔ اگر حکومتی رِٹ کے بجائے یہ کام بھی عوام سے بے تحاشہ اضافی پیسے وصول کرکے کرنا ہے تو پھر حکومت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟۔‘‘

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی غلط نہیں کہتے۔ زمینی حقائق تو زبانِ حال سے یہ بتا رہے ہیں کہ ہماری اقتصادی حالت گراوٹ اور زوال کے آخری کنارے تک پہنچ چکی ہے لیکن وزیر اعظم صاحب اس کے باوجود ٹویٹ کے ذریعے ’’خوشخبریاں‘‘ سنانے اور صبر کی تلقین کرنے پر مُصرہیں۔ سوشل میڈیا پر عوام جس اسلوب میں پی ٹی آئی کی حکومت بارے اپنے غصہ بھرے خیالات کا اظہار کرتے سنائی دے رہیں ، خانصاحب کو اُن کے وزرا نے ان حالات کی شائد کبھی رپورٹ پیش نہیں کی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ حکومت نے مسائل اور مصائب زدہ عوام کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔

نوبت ایں جا رسید کہ ہمارا روپیہ آج افغانستان کے سکّے کے مقابلے میں بھی نیچے گر چکا ہے ۔ آج تو بنگلہ دیش کی معیشت بھی پاکستان سے کئی گنا بہتر ہے ، حتیٰ کہ بنگلہ دیشی معیشت نے تو بھارت کو بھی پچھاڑدیا ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیشی عوام اپنی وزیر اعظم ، شیخ حسینہ واجد، پر فخر کیوں نہ کریں؟ہمارے حکمرانوں کی طرح بنگلہ دیشی حکام کورونا وائرس کی تباہ کاریوں بارے واویلا مچاتے بھی سنائی نہیں دیتے ۔

اپنے ٹائیگروں پر فخر کرنے والی پی ٹی آئی حکومت ملک کا کوئی ایسا شعبہ حیات بتا سکتی ہے جہاں پچھلے دو، سوا دو برسوں کے دوران بہتری کی کوئی صورت پیدا ہُوئی ہو؟ ہمارے نوجوان طلبا و طالبات بھی اس حکومت سے سخت نالاں اور ناراض ہیں ۔ میرے اور میری فیملی کے کئی بچے بچیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔

انھیں روزانہ کی بنیاد پر آئی ٹی سے متعلقہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپس، وائی فائی ، موبائل کی جدید ایکسسریز (Accessories) کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہ تمام اشیا عیاشی کے زمرے میں شامل نہیں بلکہ تعلیم کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں ۔ مصیبت یہ ہے کہ حکومت نے اپنی ناقابلِ فہم پالیسیوں کی اساس پر روپے کی قیمت میں  انتہائی کمی اور ڈالر کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے، اس موجب ہمارے بچے آئی ٹی سے متعلقہ انتہائی ناگزیر ایکسسریز خریدہی نہیں سکتے۔

شکایات کا ایک انبار ہے جو والدین کے سامنے روزانہ رکھا جاتا ہے ۔ خود میرے بچے گلہ اور محرومی کا اظہار کرتے ہُوئے کہتے ہیں: ’’ہم اگر پاکستان کے حکمران طبقے کے بچوں کی طرح امریکا اور یورپ میں ہوتے تو کم از کم آئی ٹی سے متعلقہ ضروری اشیاء تو بآسانی اور ارزاں خرید سکتے تھے‘‘۔ اور جب مَیں انھیں بتاتا ہُوں کہ یہ سب اشیاء امریکا اور یورپ میں تو آسان قسطوں میں بھی وافر مقدار میں ہر شخص کو مل جاتی ہیں تو وہ غصے سے کہتے ہیں: ’’بابا،آپ امریکا سے پاکستان کیوں آئے‘‘؟ میں نادم ہو کر خاموش ہوجاتا ہُوں۔ وزیر اعظم صاحب کی طرف سے دیے گئے صبر کے مشورے کا نیا انداز۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔