خود کو ٹیکسٹ سے بڑا بناکردکھانے والا اداکارمنہ کے بل گرتا ہے

محمود الحسن  اتوار 22 دسمبر 2013
نصیرالدین شاہ کو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔  فوٹو: فائل

نصیرالدین شاہ کو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔ فوٹو: فائل

مسافر 39برس سے فلم نگری میںبھٹک رہا ہے،مگراپنے عشق اولین تھیٹرکا رستہ نہیں بھولتا، فلموں میں بے نظیرکامیابیاں اس کے حصے میں آئیں مگر تھیٹرکے خیال سے غافل کبھی نہیں رہااور سینما کی چکاچوند کے مقابل تھیٹرکی اہمیت کا تہہ دل سے قائل اوراس کی طرف مائل رہا۔

ہندوستانی سینماجس نے رواں برس اپنے قیام کے سوسال مکمل کئے ہیں،اس میں چوٹی کے اداکاروں کی جب بھی فہرست بنے گی، نصیرالدین شاہ کا نام نمایاں ترہوگا، جنھوں نے آرٹ فلمیں ہوںیا مین اسٹریم ہندوستانی سینما ہردو میںاپنا سکہ جمایا۔اس لیجنڈری فنکار کا اس بات پر یقین ہے کہ تھیٹرجیسا لطف فلم سے کبھی نہیں مل سکتا،ہاں!پیسا البتہ فلم کے ذریعے تھیٹر سے کہیں بڑھ کرحاصل ہوتا ہے۔عمرعزیز کی چاردھائیاں فلم انڈسٹری کی نذرکیں،اس دوران کئی اداکاروں کی پرفارمنس سے ضرورمتاثرہوئے مگرکوئی خاص شخصیت انسپریشن نہ بنی، البتہ تھیٹرکی دنیا میںایسی ہستیاں ضرور رہیں،جن سے انسپائر ہوئے۔تھیٹران جیسے فنکار کے لیے اس لیے بھی موزوں ہے، کہ یہاں وہ اپنی تخلیقی اپج زیادہ بہتر طور سے ظاہرکرسکتے ہیں، اور خاص طور سے اگرتھیٹرگروپ بھی اپنا ہو تومراحل اور بھی سہل ہوجاتے ہیں۔اس کے برعکس فلم میں اقتدار اعلیٰ پروڈیوسراور ڈائریکٹرکے ہاتھ میں ہوتا ہے۔فلم کے مقابلے میں تھیٹرمشکل سہی لیکن ان کا معاملہ توایسا ہے’’جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر۔‘‘نصیرالدین شاہ کو آپ ان اداکاروں کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں، جو نہ صرف اپنے فن میں پورے ہیں بلکہ اس فن کی دانشورانہ سطح پرتفہیم کا سلیقہ بھی جانتے ہیں۔

فلم پرتھیٹر کو مقدم جاننے سے متعلق ان کا جو زاویہ نگاہ ہے، اس کی شرح یوں کرتے ہیں: ’’فلم میں آپ کا سامنا مشین سے ہوتا ہے، تھیٹر میں جیتے جاگتے انسان سامنے ہوتے ہیں۔ فلم میں اداکارسیٹ پرپہنچتاہے، ایئرکنڈیشن کمرے میں بیٹھتا ہے، سیٹ تیار ہوتا ہے تواس کو بلایاجاتا ہے، اور وہ اپنا سین ریکارڈ کراکے چلاجاتا ہے۔تھیٹر میں سب مل جل کر کام کرتے ہیں۔ٹیم اسپرٹ کا جذبہ ہوتا ہے، جو فلموں میں نہیں ہوتا۔جذبہ اورسنسنی ہوتی ہے۔جواسٹیج پرکام کرتے ہیں، اور جو پس پردہ رہ کرکام کرتے ہیں، سب کی اسٹینڈنگ ایک سی ہوتی ہے۔‘‘ نصیرالدین شاہ کے تھیٹر گروپ نے فیض فائونڈیشن ٹرسٹ کے زیراہتمام چارڈراموں کو اسٹیج کیا ۔دوروزA Walk in the Woodsاسٹیج کیا گیا، یہ لی بلیسنگ کے ڈرامے سے ماخوذ ہے ،جو سوویت یونین اورامریکا کے درمیان سرد جنگ کے تناظر میں لکھا گیا، اور اب اسے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ڈھالا گیا۔ نصیرالدین شاہ اوررجیت کپوردونوں نے اپنی عمدہ اداکاری سے سامعین سے داد حاصل کی۔رتنا پاٹھک شاہ نے اسے ڈائریکٹ کیا۔

دو دن موٹلی تھیٹرنے کتھاکولاج کے عنوان سے پریم چند کی دو کہانیوں ’’بڑے بھائی صاحب‘‘اور ’’شطرنج کے کھلاڑی‘‘اورکامتاناتھ کی کہانی’’ سنکرامن‘‘ کو اسٹیج کیا ، ان ڈراموں کی ہدایات نصیرالدین شاہ نے خود دیں، ’’سنکرامن‘‘ میں مرکزی کردار نصیرالدین شاہ نے خود نبھایااورسامعین سے بھرپور داد حاصل کی۔ان ڈراموں میں کہانی کے ساتھ بالکل چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی اور انھیں مکمل طورپرسنایا گیا۔ نصیرالدین شاہ اس خیال کے حامی ہیںکہ تخلیقی ادب کو پورے تاثر کے ساتھ فلم میں اور اسٹیج پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے انھوں نے کہانی سنانے کے لیے آواز کے زیروبم کے ساتھ ڈرامے کے عناصرکو شامل کرکے تجربہ کیا جوہندوستان کے بعد اب پاکستان میں بھی نہایت کامیاب رہا۔’’بڑے بھائی صاحب‘‘کی کہانی دو بھائیوں کے گرد گھومتی ہے۔بڑا بھائی جو ہے وہ چھوٹے بھائی کی ڈانٹ ڈپٹ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدیتااور اسے پڑھنے پرتوجہ مرکوز کرنے پرزور دیتا ہے لیکن جب امتحان کا نتیجہ آتا ہے توبڑا بھائی فیل اور چھوٹا پاس ہوجاتا ہے۔امتحان میں اپنی ناکامی اسے پشیمان نہیں کرتی اوردھونس سے بازنہیں آتا۔ بھائی کی کامیابی کا کھلے دل سے اعتراف کرنے کے بجائے کہتا ہے۔‘‘تم اپنے دل میں سمجھتے ہو گے میں ان سے محض ایک درجہ پیچھے ہوں اور اب انھیں مجھ کوکچھ کہنے کا حق نہیں ہے۔

 photo Naseeruddin_zpsdd34d188.jpg

میں تمھارے اس خیال کوکبھی تسلیم نہیں کرسکتا۔میں تم سے پانچ سال بڑا ہوں اور چاہے آج تم میری ہی جماعت میں آجائواور ممتحنوں کا یہی حال رہا تو یقیناً اگلے سال میرے ہم جماعت ہوجائوگے اور شاید ایک سال بعد مجھ سے آگے نکل جائولیکن مجھ میں اور تم میںجو پانچ سال کا تفاوت ہے،اسے تم کیاخدابھی نہیں مٹاسکتا۔میں تم سے پانچ سال بڑاہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔مجھے دنیا اورزندگی کا جوتجربہ ہے، تم اس کے برابرکبھی نہیں آ سکوگے، چاہے تم ایم اے اورایل ایل ڈی ہی کیوں نہ ہوجائو۔عقل کتابیں پڑھ لینے سے نہیں آتی۔‘‘اس کو دیکھتے ہوئے، فارسی کی کہاوت’’سگ باش برادرخورد مباش‘‘ذہن میں میں ضرور آتی ہے۔’’شطرنج کے کھلاڑی ‘‘پریم چندکی معروف کہانی ہے، جس کوشہرت دلانے میں ستیہ جیت رے کی فلم کا بھی بڑا کردارہے۔یہ کہانی واجد علی شاہ کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے،جس میں دو جاگیرداردنیا ومافہیا سے بے نیازشطرنج کے کھیل میں مگن رہتے ہیں، بیرونی طور پر ہونے والی بڑی سے بڑی تبدیلی بھی ان کے کھیل کی راہ میں حارج نہیں ہوتی۔اس کھیل کے دوران جب نواب واجد علی شاہ کی معزولی اور گرفتاری کی اطلاع ملتی ہے، تب بھی وہ اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔مرزا کاجو کردار ہے، اس کو پھربھی کسی سطح پربادشاہ سے بدسلوکی پررنج ہے لیکن میرصاحب جو ہے وہ بڑے کٹھور واقع ہوئے ہیں۔

’’مرزا نے کہا:حضورعالی کوظالموں نے قید کرلیا ہے

میر۔ہوگا۔آپ کوئی قاضی ہیں۔یہ لیجے شہ۔‘‘

میر کی بے اعتنائی سے تنگ آکر مرزا کہتے ہیں

’’مرزا:آپ بڑے بے دردہیں واللہ!ایسا حادثہ جانکاہ دیکھ کرآپ کو صدمہ نہیں ہوتا۔ہائے حضورجان عالم اب کمال کاکوئی قدرداں نہ رہا۔ لکھنؤ ویران ہوگیا۔

میر:پہلے اپنے بادشاہ کی جان بچائیے پھر حضورپرنورکا ماتم کیجے۔یہ کشت اور مات، لانا ہاتھ۔‘‘

آخر میں دونوں کھیل کے دوران اٹھ کھڑے ہونے والے تنازع پرایک دوسرے کو ختم کردیتے ہیں۔

پریم چند لکھتے ہیں:اپنے بادشاہ کے لیے جن کی آنکھوں سے ایک بوند آنسوکی نہ گری۔انھیں دونوں آدمیوں نے شطرنج کے وزیرکے لیے اپنی گردنیں کٹادیں۔

’’سنکرامن‘‘ مڈل کلاس گھرانے کی کہانی ہے،جس میں بوڑھے ریٹائرڈ باپ اور جوان بیٹے کے درمیان کشمکش دکھائی گئی ہے ، بوڑھے باپ کے کردار میں نصیرالدین شاہ کی مضحکہ خیزیاں سامعین کو بار بارہنسنے پرمجبورکردیتی ہیں۔

 photo Naseeruddin1_zps5c32c563.jpg

یہ تورہا نصیرالدین شاہ کے تھیٹر گروپ کی لاہور میں کارگزاری کا اجمالاً ذکر اب کچھ اور باتیں

نصیرالدین شاہ کے واسطے لاہور اب کوئی اجنبی شہر تھوڑی ہے، کہ حالیہ برسوں میں وہ کئی دفعہ یہاں آئے۔وہ جب جب آئے، ان سے یہ سوال ضرورپوچھا گیا:لاہورآکرآپ کو کیسے لگا؟ایک بارتوانھوں نے اس سوال سے تنگ آکرصاف طور سے کہہ بھی دیاکہ ان سے یہ سوال نہ پوچھا جائے، مگراس کا کوئی خاص اثرنہیں ہوا اور حالیہ دورے میں بھی ان سے یہ سوال پوچھاجاتا رہا، جو شاید اس بات کا غمازبھی ہے کہ اور کوئی سوال پوچھنے والوں کے پاس تھا ہی نہیں ، جوہرپھرکریہ سوال پوچھا جاتا رہا۔خیر!نصیرالدین شاہ لاہور کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کا خوش دلی سے جواب دیتے رہے۔انھوں نے بتایا کہ لاہورکا نام ان کے کانوں میں بچپن میں ان رشتے داروں کے ذریعے پڑا، جو اس شہر سے تعلق رکھتے اوران کے ہاں آتے جاتے تھے۔لیکن لاہورکا صحیح معنوں میں ذہن میں نقشہ عصمت چغتائی کی اس شہرکے بارے میں تحریرسے جما۔الحمرامیں انھوں نے تین کہانیوں پرمشتمل کتھاکولاج پیش کرنے سے قبل ان کا تعارف کرایا تواس موقع پرعصمت چغتائی کا لاہور کے بارے میں ایک ٹکڑا بھی پڑھ کر سنایا،جواس وقت توہم نوٹ نہ کرسکے، گھرآکر عصمت چغتائی کی آپ بیتی’’کاغذی ہے پیرہن ‘‘دیکھی تومحسوس ہوا غالباً نصیرالدین شاہ نے یہ اقتباس لاہوریوں کے گوش گزارکیا تھا۔

’’ لاہورکتنا سلونا لفظ ہے۔لاہوری نمک!جیسے نگینے۔ گلابی اور سفید۔جی چاہتاہے کہ تراش کرچندن ہارمیں جڑ لوں اورکسی مٹیارکی ہنس جیسی سفید گردن کے گرد ڈال دو۔‘‘عصمت نے یہ بھی لکھا’’لاہورکتنا خوبصورت تھا۔آج بھی ویسا ہی شاداب قہقہے لگاتاہوا، بانہیں پھیلاکرآنے والوں کوسمیٹ لینے والا۔ٹوٹ کرچاہنے والے بے تکلف زندہ دلوں کا شہر’’پنجاب کادل‘‘نصیرالدین شاہ لاہور کے سامعین کی بھی جی کھول کرتعریف کرتے ہیں۔اس باربھی جب اہل لاہور نے کھڑے ہوکرتالیوں سے داد دی توانھوں نے شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ اب انھیں اندازہ ہوا ہے کہ لاہور کو پنجاب کا دل کیوں کہا جاتا ہے۔نصیرالدین شاہ کی یہ بات درست سہی مگراس شہربے مثال کو برصغیرکا دل بھی کہا جاسکتا ہے۔اردو کے ممتازنقاد شمیم حنفی کے بقول، برصغیر کے لوگوں نے جس قدرمحبت سے لاہور کو یاد کیا، کسی دوسرے شہر کو نہیں۔نصیرالدین شاہ کو یہ شہراپنی جوانی کے دہلی کی یاد دلاتا ہے یا پھرانھیں یہ پٹیالہ کی طرح لگتا ہے۔پاکستان میں مقبولیت کا انھیں یہ نقصان ہے کہ وہ آزادی سے شہر گھوم پھرکرنہیں دیکھ سکتے، اس لیے کئی بارانھیں بھیس بدل کروزٹ کرنا پڑا۔لاہور کے بارے میں ان کی گفتگو کا لب لباب کچھ یوں رہا:’’ لاہور باربار آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شہر سے عشق ہوگیا ہے۔ یہاںکا کھانا، مٹھائیاں،پھول ، جاڑوں کا موسم،اور سب سب بڑھ کرلوگوں کی محبت جو ملتی ، اس سے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔تھیٹرکے حوالے سے بات کروں تویہاں کی آئیڈینز بہت اچھی ہے۔ میں پورا پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں۔اس کا چپہ چپہ دیکھنا چاہتا ہوں۔لیکن سیاست کے ہاتھوں مجبور ہیں، ہم سب۔میں چاہتا ہوںکہ ایک سال ادھرآکر رہوں،کبھی بھی ممکن ہوسکا توانشاء اللہ میں کروں گاضرور۔ ‘‘

 photo Naseeruddin3_zpsd3a4e74d.jpg

لاہورشاعر سے ان کی وابستگی کے باب میں آپ نے جان لیا۔اب کچھ ممتازشاعرفیض احمد فیض سے ان کے تعلق کا بیان ہوجائے۔فیض صاحب سے ان کا تعارف توبچپن میں فلم ’’جانور‘‘ سے ہوا، جس میں شمی کپورلڑکی کوفیض کی نظم کا یہ مصرع سناتے ہیں:رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی ،پھر فیض کے اوربھی شعروہ دہراتے ہیں ،جن سے نصیرالدین شاہ متاثر ہوتے ہیں۔ فیض سے تعلق کو باقاعدہ سمت اس وقت ملی، جب وہ سال ڈیڑھ برس قبل سلیمہ ہاشمی کی دعوت پرفیض گھرآئے،اورپھرخانوادۂ فیض سے ان کا باقاعدہ تعلق استوارہوا،اور اب وہ دوسری بارفیض فائونڈیشن ٹرسٹ کی دعوت پراپنے تھیٹرگروپ کے ہمراہ لاہور آئے،جس کے لیے منیزہ ہاشمی کی کوششوں کا بڑادخل ہے۔ نصیرالدین شاہ نے فیض گھر میں بتایا: ’’فیض صاحب کے ساتھ میرا یا میرے گروپ کا کسی بھی طرح نام جڑے میرے لیے عزت کی بات ہے۔‘‘عدیل ہاشمی نے لاہور میں ان کی پرفارمنس کے اختتام پر اسٹیج پران سے کہا کہ وہ وعدہ کریں کہ اگلے برس بھی فیض فائونڈیشن کی دعوت پرآئیں گے،توانھوںنے کہا کہ یہ توبہت چھوٹا وعدہ ہے، اگلے برس کیا وہ جب تک زندہ ہیں، فیض فائونڈیشن کی دعوت پرآتے رہیں گے۔اوران کے بعد ان کا تھیٹرگروپ آتا رہے گا۔ فیض کے کلام سے ان کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دو برس قبل ان کے استاددوبے صاحب کا انتقال ہوا۔ان کی یاد میں جلسہ ہوا تووہ روایتی قسم کی باتیں نہیں کرناچاہتے تھے، جو ان کے بقول، ہرایک کو پہلے سے معلوم ہوتی ہیں۔فیض کا کلام پڑھا تواس میں سے نظم ’’دعا‘‘پرنظرپڑی توانھوں نے سوچا کہ دوبے صاحب نے اپنی زندگی میںشاید ہی کبھی دعامانگی ہو، لیکن اگروہ کبھی آمادۂ دعا ہوتے تووہ اسی مفہوم کی حامل ہوتی،جوفیض نے اس نظم میں بیان کیا ہے۔

آئیے ہاتھ اٹھائیں، ہم بھی

ہم جنہیں رسمِ دعا یاد نہیں

ہم جنہیں سوزِ محبت کے سوا

کوئی بت، کوئی خدا یاد نہیں

آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی

زہرِ امروز میں شیرینی فردا بھر دے

وہ جنہیں تاب گراں باریٔ ایام نہیں

ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے

جن کی آنکھوں کو رخ یار کا یارا بھی نہیں

ان کی نظروں میں کوئی راہ اجاگر کر دے

جن کا دیں پیروی کذبِ و ریا ہے ان کو

ہمتِ کفر ملے، جرأتِ تحقیق ملے

جن کے سر منتظرِ تیغ جفا ہیں ان کو

دست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

عشق کا سرِنہاں جاں تپاں ہے جس سے

آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے

حرف حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح

آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے

دوبے صاحب کی یاد میں پڑھی گئی یہ نظم اور‘‘انتساب‘‘کو نصیرالدین شاہ نے فیض گھر میں بھی سنایا۔ تھیٹرکے بارے میں دوبے صاحب کا یہ قول لاہورکالج برائے خواتین یونیورسٹی میں سنایا’’دوبے صاحب کہتے تھے، ہم کو کھجلی ہوتی ہے توتھیٹر کرتے ہیں،اگرکسی کو کھجلی ہو تو وہ دیکھنے آجائے۔‘‘نصیرالدین شاہ نے الحمرا میں بتایا کہ انھیں اس وقت اردو ادب میں دلچسپی پیدا ہوئی ہے، جب ان کی زندگی کا سورج غروب ہونے والا ہے ،لیکن اب یہ دلچسپی قائم رہے گی اور وہ نئی نسل کو بتائیں گے کہ ہمارے ہاں بھی قابل قدرادب پیدا ہوا ہے۔

لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’’پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بہتربنانے کے لیے جو ہمارے بس میں ہے وہ کرنا چاہیے۔ان کے بقول’’ ہندوستان میںمجھے ایک بھی ایساشخص نہیں ملاجس کا کوئی پاکستانی دوست ہو، اورغالباً پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوگا۔امریکا، کینیڈااور انگلینڈ میں کسی پاکستان کے گھرجاتا ہوںتوکوئی ہندوستانی نہیں ہوتا، کسی ہندوستانی کے ہاں جاتا ہوں تو پاکستانی نہیں ہوتا،دونوں نے الگ الگ سرکل بنارکھے ہیں۔اس پرافسوس ہوتا ہے لیکن ہم کیاکرسکتے ہیں۔‘‘ نصیر الدین شاہ نے طالبات سے کہا کہ ہم سب کو خدا نے مساوی خصوصیات اور ہنرمندی کے ساتھ تخلیق کیا ہے، لیکن اپنے میں موجود ٹیلنٹ کی کھوج اور ادراک خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ نصیرالدین شاہ کے مداحوں کے لیے اچھی خبریہ ہے کہ انھوں نے اپنی آپ بیتی مکمل کرلی ہے۔

نصیرالدین شاہ سے ہم نے کہا کہ وہ جو یہ بات کرتے ہیں کہ اداکارکاکام صرف ٹیکسٹ کو serveکرنا ہے، اس بات کی تھوڑی وضاحت کریں گے،اور کیا بڑے سے بڑا اداکاربھی ٹیکسٹ سے آگے نہیںبڑھ سکتا؟

’’ٹیکسٹ سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا،جواس کی کوشش کرے گا وہ منہ کے بل گرے گا۔اداکارکا کام ٹیکسٹ کی خدمت کرنا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کا بنیادی کام ہی ٹیکسٹ کاصحیح معنوں میں ابلاغ کرنا ہے اورمیں اسی لیے اداکار کو سرونٹ آف ٹیکسٹ قراردیتا ہوں۔‘‘

نصیر الدین شاہ کے لیے (گلزار)

اک اداکار ہوں میں!

میں اداکار ہوں ناں

جینی پڑتی ہیں کئی زندگیاں ایک حیاتی میں مجھے!

میرا کردار بدل جاتا ہے، ہر روز ہی سیٹ پر

میرے حالات بدل جاتے ہیں

میرا چہرہ بھی بدل جاتا ہے، افسانہ و منظر کے مطابق

میری عادات بدل جاتی ہیں!

اورپھرداغ نہیں چھوٹتے پہنی ہوئی پوشاکوں کے

خستہ کرداروں کا کچھ چورا سارہ جاتا ہے تہہ میں

کوئی نوکیلا سا کردار گزرتا ہے رگوں سے تو خراشوں

کے نشاں دیر تلک رہتے ہیں دل پر

زندگی سے یہ اٹھائے ہوئے کردار خیالی بھی نہیں ہیں کہ اتر

جائیں وہ پنکھے کی ہوا سے

سیاہی رہ جاتی ہے سینے میں، ادیبوں کے لکھے جملوں کی

سیمیں پردے پہ لکھی

سانس لیتی ہوئی تحریر نظرآتا ہوں

میں اداکار ہوں لیکن

صرف اداکار نہیں

وقت کی تصویر بھی ہوں!!

 photo Naseeruddin4_zps44094375.jpg

ممتاز اداکار نصیرالدین شاہ رواں ماہ ایک ہفتے کے لیے فیض فائونڈیشن ٹرسٹ کی دعوت پر لاہورآئے، جہاں پران کے تھیٹرگروپ موٹلی نے چارڈراموں کو اسٹیج کیا، جن کو بے حد پذیرائی ملی،الحمرا ہال میں ان ڈراموں کو دیکھنے کے لیے لوگ اس طرح امڈ آئے کہ ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔دو ڈراموںمیں نصیرالدین شاہ نے اداکار کی حیثیت سے پرفارم کیا اور اہل لاہور سے بھرپور داد سمیٹی۔ ان ڈراموں سے ہٹ کرنصیرالدین شاہ نے ’’فیض گھر‘‘میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی ۔ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں طالبات سے ان کا مکالمہ بھی ہوا۔ خوش قسمتی سے تینوں مواقعوں پرہم موجود تھے۔’’فیض گھر‘‘میں ان سے جو بات چیت ہوئی، اس کو ہم نے چوکھٹوں میں پیش کردیاہے۔اس سے ہٹ کرفیض گھر،لاہور کالج، اور الحمرامیں جن خیالات کا اظہار انھوں نے کیا، اس کو ہم نے کان دھرکر سنا اور یہاں اس تمام بات چیت کا خلاصہ پیش کردیا ہے۔ نصیرالدین شاہ کی خالہ زاد بہن سے ہم نے خصوصی طور پر گفتگوکی۔گلزارسے نصیرالدین شاہ کا تعلق محبت اور ارادت پرمبنی ہے،اپنے طویل فنی کیرئیر میںوہ اپنے جس کام کو سب سے زیادہ پسندیدہ قراردیتے ہیں، وہ مرزا غالب کا کردارہے۔ہندوستان کے ساتھ پاکستان میں بھی اس کردار پرنصیرالدین شاہ کو بیحد سراہا گیا۔اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے، یا اس کردار پر تعریف قبول کرتے ہوئے، کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ وہ مرزاغالب کی کامیابی کا کریڈٹ گلزار کو نہ دیں، جنھوں نے اسے لکھا اور ڈائریکٹ کیا، اور مرزا غالب کے کردار کے لیے نصیرالدین شاہ کو چنا۔گلزاربھی نصیرالدین شاہ کو بہت عزیز جانتے ہیں جس کا اظہاراس نظم سے بھی ہورہا ہے، جو ہم قارئین کی نذر کررہے ہیں۔

خالہ زاد بہن سے ملاقات کا قصہ

3دسمبرکی سرد شام کونصیرالدین شاہ کے اعزاز میںفیض گھر میں تقریب کا اہتمام تھا۔حاضرین بڑی بے چینی سے اس مایہ ناز اداکار  کی راہ دیکھ رہے تھے۔ساڑھے پانچ بجے کے قریب وہ کمرے میں داخل ہوئے توسب کی نظریں ان پرمرکوز ہوگئیں۔ایک باوقار خاتون نے آگے بڑھ کا اپنا نام بتایاتونصیرالدین شاہ بڑی اپنائیت اور محبت سے انھیں ملے۔دونوں کے چہرے پرخوشی دیدنی تھی۔ دونوں کا ایک دوسرے کے لیے والہانہ پن اردگرد موجود لوگوں کو حیران کررہا تھا۔ایسے میں مینزہ ہاشمی نے جب یہ بتایاکہ نصیرالدین شاہ سے ملنے والی خاتون ان کی خالہ زاد بہن ہیں توسب کا تجسس رفع ہوا۔دونوں بہن بھائی برسوں بعد ایک دوسرے سے ملے تھے ، اس لیے اس قدرجذباتی ہورہے تھے۔نصیرالدین شاہ نے خالہ زاد بہن سے اپنی اہلیہ رتنا پھاٹک شاہ کا بھی تعارف کرایا۔ نصیرالدین شاہ کی یہ خالہ زاد بہن سلمیٰ شاہ ہیں،جن سے ہم نے نصیرالدین شاہ اور ان کے خاندان سے جڑی کچھ یادوں کو تازہ کرنے کے لیے کہا توانھوں نے ہمیں بتایا:  ’’ نصیرالدین شاہ میری بڑی خالہ کے بیٹے ہیں۔خالہ کے ایک بیٹے فوج میں بڑے افسررہے اوران دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلرہیں، یہ نصیر سے بڑے ہیں، سب سے بڑے مصرمیں ہیں۔نصیربھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ ہماری والدہ کے چاربھائی تھے، اورچار ہی وہ بہنیں تھیں۔تقسیم کے بعدہمارے والدین پاکستان آگئے۔میری والدہ کے ساتھ ان کی ایک بہن اور بھائی نے بھی ہجرت کی۔  1965ء کی جنگ سے قبل ہم ہرسال گرمیوں کی چھٹیوں میں رشتے داروں سے ملنے ہندوستان جاتے تھے۔میرٹھ میں میرے نانا کی حویلی تھی، جہاں دوسرے رشتے داربھی آن جمع ہوتے۔نصیربھی اپنی والدہ کے ساتھ ادھرآتے توان سے ملاقات ہوتی۔ ہم درختوں پر چڑھتے۔مچھلیوں کے شکارپرجاتے۔کھیلتے کودتے۔

 photo Naseeruddin2_zpsff499f0f.jpg

اس زمانے میں نصیرکے والد جو سول سروس میں تھے، اجمیرکے ڈپٹی کمشنر تھے، تو ہم اجمیراپنی خالہ سے بھی ملنے جاتے، جو بڑی محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ وہ خاندان بھر میں سب سے خوبصورت خاتون تھیں۔ نصیر سے بڑے ہمارے کزن جن کا میںنے ذکرکیا، علی گڑھ میں وائس چانسلر ہیں، وہ صورت میں اپنی والدہ پر گئے ہیں۔ بچپن کے زمانے میں میرا تواپنی والدہ کے ہم راہ ہندوستان جانا رہا لیکن نصیرکبھی پاکستان نہیں آئے،البتہ ان کی والدہ کا یہاں آنا رہا۔ میرے والدجب تک حیات رہے، نصیر کے والد سے ان کی خط کتابت رہی۔والد سے ہی ایک دن ہمیں معلوم ہوا کہ نصیر اداکاربن گئے ہیں۔نصیرکے والدین کی دلیپ کمارکے ساتھ بڑی دوستی تھی، اورمجھے یاد ہے،ایک بار ہم ان کے ہاں دلیپ کمارسے ملے بھی تھے۔حالیہ برسوں میں نصیر جب لاہورآئے، تو میں ملتان میں تھی، جہاں کا انھیں ویزہ نہ ملا اور میںبوجوہ لاہورنہ آسکی۔کچھ عرصہ ہوامیں لاہورمنتقل ہوگئی ہوں۔ مجھے پتا چلا کہ وہ فیض گھرآرہے ہیں تومیں ادھر پہنچ گئی۔ نصیرکو اس بات کاپہلے سے علم نہیں تھا،اس لیے وہ مجھے دیکھ کرحیران رہ گئے۔وہ لاہور میں جتنے دن رہے،ان سے ملنا رہا۔نصیربڑے اداکارتو ہیں ہی مگربڑے نفیس انسان بھی ہیں، بڑے نرم دل اور بااخلاق۔مرزا غالب کے کردار میں وہ مجھے سب سے اچھے لگے۔ ان کی فلموں میں ’’معصوم‘‘ میری پسندیدہ فلم ہے۔‘‘

کرکٹ کا جنون

نصیرالدین شاہ کو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگائو ہے۔ کرکٹ سے متعلق فلم’’اقبال‘‘میںبھی انھوں نے نہایت عمدہ اداکاری کی۔کچھ عرصہ قبل نواب منصور علی خان پٹودی پر “The Nawab of Pataudi” کے عنوان سے کتاب شائع ہوئی تو اس میں نصیرالدین شاہ کا مضمون پڑھ کرجانا کہ کرکٹ سے متعلق اس عظیم اداکارکوکس قدرعلم ہے،اوروہ اس کھیل کے کتنے دیوانے رہے ہیں۔فیض گھر میںہم نے اس مضمون کی تعریف کی توانھیں اچھا لگا۔ مضمون کے اردو میں ترجمے کی اجازت مانگی توبخوشی دے دی۔ان سے ذکر کیا کہ عمران خان نے منصورعلی خان پٹودی میموریل لیکچر دیا تو سامعین کی پہلی رو میں بیٹھے وہ بھی سن رہے تھے تو انھیں کیسا لگالیکچر؟اس پران کا جواب تھا ’’ بڑا بیکارلیکچرتھا، عمران خان اپنے بارے میں بات کرتے رہے، پٹودی کے بارے میں بات ہی نہیں کی۔‘‘ہم نے2005ء میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے برطانوی ڈراما نگار ہیرلڈ پینٹرکے کرکٹ سے شغف سے متعلق بات کی توکہنے لگے وہ تو کھیلتے بھی رہے ۔

ہم نے کہا ، پینٹرنے توکرکٹ کو  greater than sexقراردیا۔اس پر ان کاجواب تھا۔That is bit extreme i would not say the same۔عظیم ڈراما نگارسموئیل بیکٹ بھی کرکٹ کے شائق تھے، اوردنیا میں وہ غالباً واحد نوبیل انعام یافتہ ادیب ہیں، جو فرسٹ کلاس کرکٹررہے، اور ان کا نام کرکٹ کی بائبل ’’وزڈن‘‘ میںبھی رقم ہوا۔بیکٹ کا ذکراس وجہ سے بے محل نہیں کہ نصیرالدین شاہ ان کے بڑے مداح ہیں، خاص طور سے ان کا ڈراما ’’گودو کے انتظار میں‘‘ (Waiting for Godot) تو انھیں بہت ہی پسند ہے۔ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میںایک طالبہ نے جب یہ پوچھا کہ ان کے خیال میں زندگی کیا ہے تو انھوںنے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب دینے کا خود کو اہل نہیں جانتے، ہاں البتہ انھوں نے اس گتھی کو سلجھانے کے لیے ’’گودوکے انتظارمیں‘‘ پڑھناتجویزکیا۔کیوں کہ ان کے بقول اس ڈرامے سے انھیں خود بھی زندگی سے متعلق کچھ سوالوں کا جواب ملا ۔

 photo Simoncallow_zps003e8435.jpg

یہ تواللہ میاں کو ہی معلوم ہےsurpass کرپاتا یا نہیں

نصیرالدین شاہ نے اپنی فنی سفرمیں سیکڑوں رول کئے۔کچھ کی ان کے من میں کرنے کی آرزو ہوگی لیکن کرنہ پائے ہوں گے، لیکن چند ایک ایسے کرداربھی رہے،جنھیں وہ کرسکتے تھے مگربوجوہ نہ کرسکے۔ ان کرداروں میں ایک تومعروف انگریزی فکشن نگارحنیف قریشی کی کہانی my son is fanaticپرمبنی فلم میں ٹیکسی ڈرائیورپرویزکاکردارتھا، جونصیرالدین شاہ کو آفرکیا گیا لیکن ان کی طرف سے انکارپر اوم پوری نے کیا۔ یہ معلومات ہم تک اوم پوری پرتحریر کردہ کتاب کی معرفت پہنچی،ہم نے جب اس کا حوالہ دیا توجواب دینے سے قبل انھوں نے حیرانی سے کہا کہ ’’آپ نے وہ کتاب پڑھ لی؟مجھ سے تو اس کے دو سے زیادہ صفحے نہیں پڑھے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ وہ اس کردارکو کرنا چاہتے تھے، لیکن بس کرنہیں پائے۔

٭ سناہے ’’کابلی والا‘‘کو دوبارہ بنانے کا پروگرام بھی بنتارہالیکن شایدآپ کا خیال تھا کہ بلراج ساہنی کوsurpass نہیں کرپائیں گے، اس لیے پیش رفت نہ ہوسکی؟ ’’یہ تو اللہ میاں کو ہی معلوم ہے کہ surpass کرپاتا یانہیں۔اداکاری میںsurpass کرنا نہ کرنا میرے نزدیک ویسے بھی اہم نہیں ہوتا۔’’کابلی والا ‘‘میں کام کرنے کی خواہش تھی،لیکن کوئی فنانس کرنے کو تیارنہیں تھا۔‘‘

 photo Theinvisibleactor_zps4ff0042d.jpg

نصیرالدین شاہ نے تین چارفلموں میں پارسی کردار بڑی خوبی سے نبھائے ہیں مگر Pestonjeeمیں تو انھوں نے کمال کردیا ہے۔ اس فلم میں انھوں نے جو کردار ادا کیا ، وہ ان کے مداحین کو ہی نہیں انھیں خود بھی بے حد پسند ہے، اوران کے بقول اس کردارکے بعد تو پارسی کمیونٹی نے سمجھا وہ بھی پارسی ہیں۔

٭ نصیرالدین شاہ نے بتایا کہ وہ اردو پڑھنے کی استعداد بہتربنارہے ہیں۔کہنے لگے، مولوی صاحب نے بچپن میں ڈنڈے مارکرجواردو سکھائی تھی،اس کی مدد سے ہجے کرکے پڑھ لیتا ہوں۔ اردو کے عمدہ تلفظ کی وجہ ان کے نزدیک یہ رہی کہ سب سے پہلے کانوں میں جوزبان پڑی وہ اردو تھی۔’’زندہ بھاگ‘‘ کے لیے انھوں نے پنجابی بھی سیکھی، اس کا کریڈٹ فلم کے ڈائریکٹراور رائٹر فرجاد نبی کو دیتے ہیں۔ پنجابی زبان کا سائونڈ اور لہجہ انھیں پسند ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔