کورونا وبا کی دوسری لہر؛ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، فیس ماسک پہننا لازمی قرار

ویب ڈیسک  بدھ 28 اکتوبر 2020
کورونا کی روک تھام کے لیے ضلعے بھر میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی(فوٹو، فائل)

کورونا کی روک تھام کے لیے ضلعے بھر میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی(فوٹو، فائل)

 اسلام آباد: ضلعی انتظامیہ نے کوروناوائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظرضلعے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرکے فیس ماسک پہننالازمی قرار دے دیا۔

ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقات کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات پر فیس ماسک کے بغیر نکلنے والوں کے خلاف دفعہ  144 کے تحت ایکشن ہوگا۔ فیس ماسک پہننے کیلئے دفعہ ایک 144 فوری طور پر نافذالعمل ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کورونا وبا میں اضافہ کی وجہ سے فیس ماسک لازم قرار دیاگیاہے۔ دفعہ ایک 144 دو ماہ کیلئے نافذالعمل رہے گی۔

شاپنگ مالز، بیوٹی پارلرز اور شادی ہال 10 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن

ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقات نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی سفارش پرضلع بھر میں تمام شاپنگ مالز رات دس بجے بند کرنے کا حکمنامہ جاری کردیاہے۔نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے تمام شاپنگ مالز،بیوٹی پارلرز، شادی ہالز ، مارکیز ،ٹیلرنگ شاپس رات دس بجے بند ہوں گے جبکہ تفریحی مقامات شام چھ بجے بند ہوں گے۔ تاہم دودھ دہی،کریانہ میڈیکل سٹور چوبیس گھنٹے کھلے رہیں گے اورریسٹورنٹس و فاسٹ فوڈزسے ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی چوبیس گھنٹے سہولت مہیا رہے گی۔

دفعہ 144 پر کیا کارروائی ہوگی؟ 

بتایاگیاہے کہ  دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ضابطہ فوج داری کی دفعہ ایک 188 کے تحت ضلع بھر کے تھانوں کو پولیس مقدمات درج کرنے کی مجاز ہوگی۔اس ضمن میں وفاقی پولیس کے ایک سینئر تفتیشی آفیسر نے ایکسپریس سے گفتگو میں بتایا کہ گو کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ضابطہ فوج داری کی دفعہ ایک سو اٹھاسی کے تحت درج ہونے والے مقدمے میں اسی وقت متعلقہ مجسٹریٹ سے وارننگ کے بعد ضمانت مل جاتی ہے مگر یہ وقتی طور پر کسی بھی فرد کی نقل و حرکت پر گرفت کرنے کے لیے ایک ایسا موثر اختیار حاصل ہوجاتاہے جس میں پولیس چاہے تو ملزم کی بروقت ضمانت بھی مشکل ہو جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس میں ضمانتی فوری نہ ملنے پر جیل بھجوادینے کی صورت میں دو دن بھی لگ سکتے ہیں اور اگراس کیس میں پولیس جان بوجھ کر کسی ملزم کوکوئی سرکاری چھٹی آنے سے پہلے گرفتار کرلے تو پھر دو کی بجائے تین دن بھی رہائی ملنے میں لگوائے جاسکتے ہیں۔

ایکسپریس کے استفسار پر انہوں نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ضابطہ فوجداری کی اس دفعہ کو پولیس جب چاہے لوگوں ضلع بھر میں کسی بھی مقام پر موثر نفاذ بروئے کار لاکر بیک وقت جتنے چاہے افراد کو تھانوں میں بند کرنے کیلئے بااختیار ہوجاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر اتنی کمزور دفعہ سمجھی جاتی ہے کہ لوگ بلاوجہ اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے عموماً اس کی خلاف ورزی کرتے پائے جاتے ہیں اس طرح پھر متعلقہ تھانہ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعلی افسران کی ہدایت ملتے ہی کب اور کس وقت کتنے بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔