کشن گنگا ڈیم: پاکستانی موقف کی فتح

ایڈیٹوریل  اتوار 22 دسمبر 2013
کشن گنگا ڈیم کا معاملہ بھی متنازع ہے، پاکستان کو مجبوراً عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنا پڑا ہے. فوٹو؛ فائل

کشن گنگا ڈیم کا معاملہ بھی متنازع ہے، پاکستان کو مجبوراً عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنا پڑا ہے. فوٹو؛ فائل

وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت نے کشن گنگا کے پانی پر پاکستان کے حق کو تسلیم کیا ہے ، اس فیصلے سے پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی،ایک اخباری بیان میں خواجہ آصف نے کشن گنگا ڈیم کیس میں عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہااب جہلم اور چناب کے پانی پر بھی پاکستان کا حق قائم ہوگیاہے ۔دریں اثناپاکستانی انڈس واٹر کمشنر مرزا آصف بیگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت نے کشن گنگا منصوبے پر پاکستان کے اعتراضات کو تسلیم کر لیا ہے اوربھارت اس ڈیم سے پاکستان کوآدھا پانی دینے کا پابند ہو گا،بھارت کو اس کا بھی پابند کیا گیا ہے کہ متعلقہ ڈیم میں پانی انتہائی نچلی سطح پرنہیں لے جایا جائے گا۔کشن گنگا ڈیم کی تعمیر 2017ء میں مکمل ہوگی اس کے بعد بھی بھارت پاکستان کے حصے کا پانی دینے کا پابند رہے گا، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا تنازع کے ساتھ ساتھ پانی کا تنازع بھی بہت پرانا ہے۔ پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سندھ طاس کے نام سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ موجود ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ایسے آبی منصوبے شروع کیے جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے اپنے سارے معاملات کو طے کرتے لیکن بدقسمتی سے بھارتی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث کوئی ایک تنازعہ بھی حل نہیں ہو سکا۔ کشن گنگا ڈیم کا معاملہ بھی متنازع ہے۔ پاکستان کو مجبوراً عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنا پڑا ہے۔ اب اگر وفاقی وزیر پانی و بجلی اور پاکستانی انڈس واٹر کمشنرنے یہ نوید دی ہے کہ عالمی ثالثی عدالت میں کشن گنگا کے پانی پر پاکستان کا موقف تسلیم کر لیا تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ کشن گنگا ڈیم کے معاملے پر پاکستان کا موقف درست تھا۔ پاکستان میں پانی کی کمی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ بھارت کو بھی اس حقیقت کا پوری طرح علم ہے ۔دریائے جہلم اور چناب میں پانی کم ہونے سے پاکستان کی زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو ڈیم بنا لیے ہیں ‘ان کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں پاکستان کی کوتاہی کا بھی ایک حصہ ہے۔ پاکستان میں کسی بھی حکومت نے قانونی اور فنی معاملات پر کبھی توجہ نہیں دی۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ڈیم بناتا رہا اور پاکستان کی حکومتوں نے روایتی سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان بازی سے آگے بڑھ کر کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے دریائوں میں پانی کم ہو گیا ہے۔ دریائے سندھ میں بھی پانی کا فلو کم ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں وہ علاقے جو دریائے سندھ کے منبع ہیں وہاں بھارت زیر زمین ٹنل بنا کر پانی کا راستہ تبدیل کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کم ہو رہا ہے۔ پاکستان کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی ثالثی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے اس پر بھارت کہاں تک عمل کرتا ہے‘ پاکستان کو اس حوالے سے موثر میکنزم اختیار کرنا چاہیے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کمی 13 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئی ہے‘اس فیصلے کے مطابق بھارت موسم سرما میں بھی 9کیوبک فی سیکنڈ پانی چھوڑنے کا پابند ہوگا ۔بہر حال زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت مذاکرات کے ذریعے متنازعہ معاملات کو طے کرنے کی کوششوں کا بھرپور طریقے سے آغاز کرے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو اس امر کا ادراک ہو جانا چاہیے کہ تنازعات کو طول دینے سے وہ عناصر طاقتور ہوتے ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوارتعلقات کے خلاف ہیں۔تنازعات کی آڑ میں انتہا پسند عناصر اپنا کھیل کھیلتے ہیں جس کا نتیجہ جنگوں کی صورت میں نکلتا ہے۔بہتر یہی ہے کہ پرامن ذرایع سے تنازعات کو جتنا جلد ہو سکے حل کر لیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔