امریکا کے صدارتی انتخابات، کئی انہونیاں ہوسکتی ہیں

اکرام سہگل  جمعـء 30 اکتوبر 2020

2016 میں امریکا کے صدارتی انتخابات سے دس روز قبل انتخابی پیش گوئیاں ہلیری کلنٹن کے حق میں تھیں، ٹرمپ کی شکست واضح تھی۔ بہرحال یہ اندازے ہی تھے، ووٹر کا فیصلہ بیلٹ باکس سے برآمد ہونا تھا ۔ اُن حالات میں بھی میرے آنجہانی دوست فرینک نیومین مہینوں پہلے مجھے بتاچکے تھے کہ ٹرمپ جیت جائے گا۔

امریکا کی وسط مغربی ریاستیں مدتوں سے ’’ڈیموکریٹ‘‘ تصور کی جاتی ہیں، ہلیری کلنٹن کا خیال تھا کہ وہاں نتائج جوں کے توں رہیں گے۔ان ریاستوں میں سیاہ فام اور ورکنگ کلاس سفید فام ووٹرز ڈیموکریٹس کے حامی تھے لیکن الیکشن میں ان ووٹرز نے اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا۔ ان لوگوں کے نزدیک ہلیری  کلنٹن اس اشرافیہ کی نمایندہ تھی جو ملازمتوں، میڈیکل انشورنس جیسے انتخابی وعدے پورے کیے بغیر امیر سے امیر تر ہوگئی تھی۔

ان کے نزدیک ملک کا سیاسی ماڈل غیر موثر اور ناقابل اعتبار ہوچکا تھا۔ ادھر دیہی علاقوں میں سے ٹرمپ کو دھڑا دھڑ ووٹ ملے حالانکہ ٹرمپ 20 لاکھ ووٹ سے پیچھے تھے لیکن وسط مغربی ریاستوں کے ووٹوں نے حساب برابر کردیا ۔ اس مرتبہ بھی صدر ٹرمپ اپنی اُسی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔

لوگوں کی تذلیل و تضحیک کرنا ٹرمپ کا وتیرہ ہے، اس پر کبھی وہ نیم دلانہ معذرت بھی کرلیتے ہیں۔ خواتین کے بارے میں ٹرمپ کا رویہ متنازعہ رہا ہے۔ لیکن آخری تجزیہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے ’’امریکا فرسٹ‘‘ کا نعرہ لگا کر روزگار فراہم کرنے، صنعتوں کو واپس ملک میں لانے جیسے وعدے کیے اور تارکینِ وطن سے متعلق اپنا سخت گیر مؤقف برقرار رکھا۔

ٹرمپ نے جنگیں ختم کرنے کا وعدہ کیا۔ ان جنگوں میں نہ صرف عام لوگوں کے بچے مرر ہے تھے، اِن پر ہونے والے اخراجات نے امریکی معیشت کو بُری طرح متاثر کررکھا تھا۔ غلامی ختم ہونے کے باجود آج تک امریکا کے جنوب میں سفید فام بالادستی کے حامی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کے لیے ٹرمپ کا سفید فام بالادستی کی جانب جھکاؤ فطری طور پر پُرکشش ہے۔

معیشت کے ساتھ امریکا کو کئی داخلی مسائل کا سامنا ہے جن کی وجہ سے انتخابی سیاست میں امریکا کو پولیس مین آف دی ورلڈ بنا کر پیش کرنے والے نعرے اپنی کشش کھو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کاروباری ضابطوں کے حوالے سے گزشتہ چار برسوں میں کئی قوانین تبدیل کیے، کارپوریٹ اور انکم ٹیکس میں کٹوتیاں کیں اور مقامی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے کئی انتظامی حکم نامے جاری کیے۔ اگرچہ ماہرین کے مطابق پیدواری شعبے میں ٹرمپ کی پالیسوں سے شرح نمو بڑھی اور نہ ہی اس شعبے کے کئی بنیادی مسائل حل ہوئے تاہم 2017کے بعد اس شعبے میں 4لاکھ 80ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں۔

2020سے قبل ٹرمپ کو اپنے دوبارہ منتخب ہونے کا پورا یقین تھا۔ وبا کی تباہیوں کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ ایسٹر(یعنی اپریل) تک معیشت کے دوبارہ سنبھل جانے کی پیش گوئی کی۔ ڈاکٹر فوچی کی زیر سربراہی اپنے ہی طبی ماہرین کے مشوروں کو نظر انداز کیا۔ ٹرمپ نے کورونا سے محفوظ ہونے کے غیر سائنسی دعوے تک کیے۔ لاک ڈاؤن کی مخالفت کرکے ان ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کیں جو اپنے گزر بسر کے لیے ایک دن بھی گھر نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ ٹرمپ اپنے پورے سیاسی کرئیر میں امیگریشن کی روک تھام کو مقامی افراد کے لیے زیادہ روزگار سے جوڑنے کے اصول پر جمے رہے۔

2018 میں ’’فرسٹ اسٹیپ ایکٹ‘‘ کے تحت وفاقی فوجداری قوانین میں اصلاحات متعارف کرائیں جس کے نتیجے میں ججوں کو سزاؤں اور قیدیوں کی بحالی کے لیے اقدامات کے حوالے سے مزید اختیارات دیے گئے۔ 2016کی انتخابی مہم میں ٹرمپ نے خود کو نفاذ قانون کے پُرزور حامی کے طور پر پیش کیا اور اپنے دورِ صدارت میں بھی یہی موقف رکھا۔ یہاں تک کہ حالیہ احتجاج کے دوران بھی ڈٹ کر پولیس کی حمایت کی۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے دنگے فساد اور املاک کے نقصان سے ٹرمپ کو نفاذ قانون کے حامی حلقوں کی حمایت حاصل ہوئی۔

بروکنگز کے جائزے کے مطابق ٹرمپ کا دوبارہ منتخب ہونا مشکل ضرور ہے لیکن خارج از امکان نہیں۔ ڈبلیو اے گیلسٹون نے اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا ہے:’’ اگرچہ ہر ریاست کے الیکڑول کالج کے نتائج ہی فیصلہ کریں گے تاہم اس بار ریاستی کے بجائے قومی محرکات انتخابی نتائج کا تعین کریں گے۔ ٹرمپ الیکٹرول کالج میں بائیڈن کو حاصل واضح برتری کو شکست نہیںدے سکیں گے۔ ٹرمپ کو بائیڈن کے پاپولر ووٹ کے ایڈوانٹیج کو 2016کے مقابلے میں اندازاً دو پوائنٹ کم کرنا ہوگا۔

بدترین صورت حال یہ ہوگی کہ ٹرمپ مقابلہ برابر کرنے کے بجائے اس کے نزدیک تر ووٹ حاصل کرلیں۔ انتخابی نتائج مشکوک ہونے کی صورت میں امریکا انتشار کا شکار ہوجائے گا۔‘‘ پہلا صدارتی مباحثہ ٹرمپ کے لیے تباہ کُن ثابت ہوا۔ دوسرا مباحثہ ٹرمپ کو کورونا ہونے کی وجہ سے ملتوی ہوگیا البتہ تیسرے مباحثے میں ٹرمپ کی واپسی جاندار تھی لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی کیوں کہ 23اکتوبر تک 4کروڑ 60لاکھ امریکی ووٹ دے چکے تھے۔ قبل از وقت ووٹنگ میں ٹرمپ کو شکست ہوگی اور وہ اسے ’جعلی‘ قرار دیں گے۔

یہ شکست صدر ٹرمپ کو بہت بھاری پڑے گی۔ فی الحال ٹرمپ کے خلاف ٹیکس چوری کی تحقیقات رُکی ہوئی ہیں۔ الیکشن میں ناکامی کے بعد ٹرمپ کو سزا ہونا یقینی ہے اور وہ اس سے بچنے کی ہرممکن کوشش کرے گا۔ ٹرمپ کا کورونا مثبت آنے کے باوجود ٹرمپ اور ان کے نائب صدر مائیک پنس نے اپنی ریلیوں میں ماسک پہننابھی گوارہ نہیں کیا۔ ٹرمپ کو اپنے انتخابی اشتہارات میں بھی کٹوتی کرنا پڑی۔ عین ممکن ہے کہ اگر ٹرمپ کو الیکشن میں شکست ہوئی تو مہم کی ادائیگیاں نہ کرنے کی وجہ سے انھیں جیل جانا پڑے۔

وسط مغربی ریاستوں میں مسلح ملیشیاز بھی متحرک ہیں، انتخابی نتائج پر کسی تنازعے سے صورت حال خانہ جنگی کی جانب جا سکتی ہے۔ یہ افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ شکست کی صورت میں صدر ٹرمپ عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیں اور 25آئینی ترمیم کے سیکشن 4سے کوئی راستہ نکلے۔ اس کے مطابق قانونی طور پر نائب  صدر اور کابینہ کے کوئی بھی آٹھ ارکان یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ صدر اب فرائض انجام دینے کے قابل نہیں رہا۔ تحریری طور پر یہ فیصلہ وہ اسپیکر اور سینیٹ کے صدر کو ارسال کریں گے۔

اگر صدر اس تحریک کی مخالفت کردے تو اس معاملے پر کانگریس میں رائے شماری کی جائے گی۔ دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے کوئی فیصلہ ہوگا اور اس دوران امور مملکت نائب صدر سنبھال لے گا۔ اس صورت میں بھی اگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تو صدر کو عہدے سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ فی الوقت ایسے حالات پیدا ہوتے نظر نہیں آتے اور نہ ہی اس سے قبل ایسی کوئی نظیر ہے لیکن دنیا میں کوئی بھی کام پہلی بار ہوسکتا ہے۔

طویل تجربے کی بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ  ریپبلکن صدر پاکستان کے لیے زیادہ نرم گوشہ رکھتا ہے۔ افغانستان کی جنگ نے امریکا پر انتہائی برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ اس جنگ کے خاتمے کے سب سے بڑے حامی ہیں اور پاکستان کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے طالبان اور افغان حکومت کے مابین حقیقی مفاہمت کے مدد فراہم کررہے ہیں۔ امریکا نے امن عمل میں بھارت کے کسی بھی کردار کے خلاف پاکستان کی پُرزور مخالفت کو تسلیم کرلیا ہے۔

دوسری جانب بطور نائب صدر جو بائیڈن اس رائے کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ روس، شمالی کوریا اور پاکستان کو ایک ہی صف میں دیکھتے ۔ اس کے ساتھ وہ بھارت کو افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا ذمے دار بھی تسلیم کرتے ہیں۔ بائیڈن کی نائب کمیلا ہیریس ہوں گی۔ ایک بھارتی سکھ ہونے کے ناتے پاکستان کے لیے ان کا مؤقف محتاط ہوگا۔

گذشتہ برس کمیلا ہیرس نے کشمیروں کے مسائل کا ادراک ہونے کی بات کی تھی اور بھارت سے جموں و کشمیر میں عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا تاہم ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیا امور کے سنیئر ماہر مائیکل کوگلمین کے نزدیک کشمیر سے متعلق کمیلا کے بیانات میں ہمدردی تو تھی لیکن ان کا لہجہ پُرزور نہیں تھا۔ اگرچہ آج امریکا پر پاکستان کے انحصار کی نوعیت وہ نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی تاہم ڈیموکریٹس کی فتح سے توازن بگڑ سکتا ہے۔ انتخابات میں بائیڈن کی فتح ابھی تک سو فیصد یقینی تو نہیں لیکن پچھلی مرتبہ کی طرح الیکشن سے ایک ہفتہ قبل اگر ’’اکتوبر سرپرائز‘‘ ہو گیا تو ٹرمپ کی شکست فاش یقینی ہوگی۔

گزشتہ انتخابات میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے ہلیری کی ای میلز پر تحقیقات شروع کردی تھیں جس کے نتیجے میں انتخابی بازی پلٹ گئی تھی۔ ٹرمپ اپنے ساتھ کئی ریبلکن سینیٹرز اور نمایندگان کو بھی لے ڈوبے گا اور امریکی سینیٹ اور ایوان نمایندگان دونوں ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو ممکن ہے کہ ایک دن پاکستان کو ’صدر‘ کمیلا ہیرس کا سامنا کرنا پڑے۔ اس وقت ٹرمپ سے نفرت جتانے والے اس کے اچھے دنوں کو ضرور یاد کریں گے۔

(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔