ڈالر کی قدر ساڑھے 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی

احتشام مفتی  ہفتہ 31 اکتوبر 2020
اوورسیز پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی ترسیلات زر نے بھی امریکی ڈالر کو مزید بے قدری سے دوچار کیا (فوٹو : فائل)

اوورسیز پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی ترسیلات زر نے بھی امریکی ڈالر کو مزید بے قدری سے دوچار کیا (فوٹو : فائل)

 کراچی: ایک ہفتے کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ساڑھے 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔

حکومت کی جانب سے فروری 2021ء میں 2 ارب ڈالر کے سکوک و یورو بانڈز اور واپڈا کی 500 ملین ڈالر کے عالمی بانڈز جاری کرنے کی منصوبہ بندی کےعلاوہ گزشتہ 4 ماہ سے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی ترسیلات زر نے گزشتہ ہفتے بھی روپے کی نسبت امریکی ڈالر کو مزید بے قدری سے دوچار کردیا اور زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں گزشتہ ہفتے بھی ڈالرکے مقابلے میں روپیہ تگڑا رہا۔

ہفتے وار کاروبار کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ساڑھے 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔ انٹربینک و اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 161 سے بھی نیچے آگئی۔ بیرونی ادائیگیوں اور درآمدی ایل سیز کھلنے کے باوجود ڈالر کی قدر تنزلی سے دوچار رہی۔ گزشتہ ہفتے ڈالر سمیت یورو اور پاونڈ کی قدر میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی۔

گزشتہ ہفتےانٹربینک میں ڈالر کی قدر میں مجموعی طورپر 1.11 روپے کی کمی واقع ہوئی جس سے ڈالر کی قدر گھٹ کر 160 روپے 25 پیسے پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی  قدر 1.40 روپے کی کمی سے 160.40 روپے پر بند ہوئی۔

انٹربینک میں یورو کرنسی کی قدر مجموعی طور پر 3.10 روپے گھٹ کر 187.95 روپے پر آگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں یورو کرنسی کی قدر 3.50 روپے گھٹ کر 181 روپے ہوگئی۔

اسی طرح انٹربینک میں برطانوی پاونڈ کی قدر 3.06 روپے گھٹ کر 208.15 روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں برطانوی پاونڈ کی قدر 3 روپے گھٹ کر 208.50 روپے ہوگئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔