اقوام متحدہ فوری نوٹس لے کرقانون سازی کرے !!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 2 نومبر 2020
شرکاء کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال

شرکاء کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانس کے صدر کے اسلام مخالف بیان سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اوراس وقت پورا عالم اسلام اضطراب میں ہے۔

اس گستاخی پر اسلامی ممالک کے سربراہان کی جانب سے سخت رد عمل آیا ہے جبکہ دنیا بھر میں مسلمان فرانس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا گیا ہے۔ اس حساس معاملے پر گزشتہ دنوں ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومتی نمائندہ اور مذہبی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

 اعجاز عالم آگسٹین
(صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب)

فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے عالمی امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے خلاف بڑی سازش ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فرانس کی حکومت اور ریاست، گستاخانہ خاکے بنانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچاتی مگر انہیں سزا دینے کے بجائے آزادی اظہار رائے قرار دے کر مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی۔

فرانسیسی صدر کا بیان اور رویہ توہین آمیز ہے، ان کا یہ عمل امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے جس سے پوری دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے کام کرنے والوں کو نقصان پہنچا ہے، مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں لہٰذا میرا مطالبہ ہے کہ دنیا کی امن پسند طاقتیں فرانس کے خلاف سخت ایکشن لیں۔تمام مذاہب اور انبیاء کرامؑ کا احترام سب پر واجب ہے، ان کی شان میں گستاخی کرنے والے گھناؤنے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں لہٰذا انہیں سخت سزا ملنی چاہیے۔

پاکستان کی اقلیتیں دکھ اور افسوس کی اس گھڑی میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہیں، ہم اس پر احتجاج بھی کر رہے ہیں اور حوصلہ شکنی کیلئے کام بھی، ہمیں اس مسئلے پر دنیا میں جہاں بھی آواز اٹھانا پڑی اٹھائیں گے ۔ اخلاقی اور مذہبی طور پر توہین کی اجازت نہیں، ہمیں ہمیشہ کیلئے ایسے عناصر کا قلع قمع کرنا ہے۔

پاکستان نے اس مسئلے پر سخت ردعمل اپنایا ہے، وزیراعظم پاکستان نے نہ صرف اس کی شدید مذمت کی ہے بلکہ مختلف ممالک کے سربراہان کو خطوط بھی لکھے ہیںتاکہ مل کر سازشی عناصر کو روکا جاسکے۔ ’’او آئی سی‘‘ کو اس مسئلے پر بھرپور طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے اورفرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے چاہئیں، ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے، پاکستان ’’او آئی سی‘‘ کے فیصلے پر عمل کرے گا۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے، یہ مذاہب کو لڑانے کی سازش ہے لہٰذا پوری دنیا کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔

اقوام متحدہ میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرارداد لائی جائے تاکہ ممالک کے درمیان ہم آہنگی رہے اور چند افراد کی وجہ سے دنیا کو مشکل میں نہ ڈالا جائے۔ آزادی اظہار رائے کے نام پر کسی بھی مذہب کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، دنیا میںا س حوالے سے قانون لانا چاہیے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا تو آزادی اظہار کے نام پر دنیا میں تباہی مچائی جائے گی اور سب اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔

گستاخی کرنے والوں کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا بلکہ ان کا مذہب نفرت، تفرقہ بازی پھیلانا ہے اور یہ مذاہب کے درمیان جنگ و جدل چاہتے ہیں۔ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگ متحد ہیںاور فرانس میں ہونے والی گستاخی پر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم دنیا بھر میںگستاخانہ خاکوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد
(خطیب امام بادشاہی مسجد لاہور و چیئر مینمجلس علماء پاکستان)

فرانسیسی صدر کا توہین آمیز بیان عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ ہے لہٰذا اقوام متحدہ فوری طور پر اس کا نوٹس لے کہ ایسے واقعات کیوں رونما ہورہے ہیں، اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ کیا یہ اسلام اور دیگر مذاہب کو لڑانے کی سازش ہے؟ہمارا مطالبہ ہے کہ سلامتی کونسل فوری طور پر فرانسیسی صدر کے معافی ماننگے اور بیان واپس لینے تک فرانس کی رکنیت معطل کرے تاکہ آئندہ کسی کی بھی ایسا کرنے کی جرات نہ ہو۔ ہم کسی بھی مذہب کی توہین نہیں کرتے، ہم تمام انبیاء علیہ اسلام اورالہامی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں ، اس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔

سرکار دوعالم حضرت محمدؐ کی ناموس ، ان کا تحفظ اور ان کے لیے مرمٹنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے، گستاخی کرنے والے امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، انہیں سخت سزا ملنی چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان نے فرانسیسی صدر کے بیان کی بروقت مذمت کرکے پوری قوم اور امت مسلمہ کی ترجمانی کی ہے۔ پاکستان میں تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی ہے ، یہاں بسنے والے تمام لوگ بلا تفریق مذہب گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ عالمی امن کے علمبرداروں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ فرانسیسی صدر اور گستاخی کرنے والے تمام افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ا

س کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تحفظ ناموس رسالتؐ کا قانون لایا جائے تاکہ کوئی بھی توہین کا مرتکب نہ ہو۔ ’’او آئی سی‘‘ اور تمام اسلامی ممالک پر اس وقت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اگر اب بھی چپ رہے تو اس طرح کے فتنے اٹھیں گے جو امت مسلمہ اور دنیا کے درمیان خطرات بنتے رہیں گے جس سے نقصان کا خطرہ ہے۔ یہ اب اسلامی ممالک کے سربراہان کے عشق رسولؐ کا امتحان ہے، تمام اسلامی ممالک کے سربراہان آگے بڑھیں اور اس حوالے سے سخت فیصلے لیں۔ فرانس کو سبق سکھانے کیلئے مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔

سباسٹین شا
(آرچ بشپ)

فرانسیسی صدر نے گھٹیا اور شیطانی حرکت کرکے دنیا کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس گستاخی سے نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں بلکہ تمام انسانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، مسیحیوں کی بھی دل آزاری ہوئی ہے اور ہم اس مشکل گھڑی میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

عالمی امن اور ایک دوسرے کو قریب لانے کیلئے ہم ڈائیلاگ کی فضا کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ سب ایک دوسرے کے مذہب اور عقیدے کے بارے میں جانیں اور احترام کریں۔ اس کے ثمرات آرہے ہیں اور محبت کی فضا بن رہی ہے، حکومتی اور عوامی سطح پر لوگ امن و سلامتی کی باتیں کر رہے ہیں جو مثبت ہے۔ ایسے میں فرانس کے صدر نے انتہائی دکھ والی بات کی ہے۔

اس سے امن کی کوششیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے کیے جانے والے کام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یسوع مسیحؑ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کو پیار کرو۔ ہمیں یہ بھی تعلیمات دیں کہ مبارک ہیں وہ لوگ جو صلح کرواتے ہیں لہٰذا ہم پر امن لوگ ہیں اور لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ فرانس و دیگر ممالک میں بے شمار لوگ لادین ہیں، ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد 45 فیصد سے زیادہ ہے، یہ خدا کو نہیں مانتے اور جان بوجھ اس طرح کی حرکات کرتے ہیں جس سے دیگر مذاہب کے لوگوں کی دل آزاری ہو اور انہیں تکلیف پہنچے۔

70ء کی دہائی سے لیکر 90 ء کی دہائی تک، یسوع مسیحؑ پر بھی کتابیں لکھی گئیں، توہین آمیز فلمیں بنائی گئی، اب حضرت محمدؐ کی توہین کر رہے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذاہب کو لڑانے کی مسلسل کوشش ہے لہٰذا پوری دنیا کو ان کی مذمت کرنی چاہیے اور ان کا قلع قمع کرنا چاہیے۔ پاک لوگوں اور انبیائؑ کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہنا یا کوئی اور حرکت کرناکسی بھی طور قابل قبول نہیں، اس مشکل گھڑی میں تمام مسیحی پریشان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فرانس کے صدر اپنے الفاظ واپس لیں اور معافی مانگیں۔ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور سلامتی کونسل مقدس شخصیات، کتابوں اور عبادتگاہوں کی توہین روکنے کے لیے قانون سازی کریں تاکہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے اور کسی بھی مذہب کے لوگوں کے احساسات کو ٹھیس نہ پہنچے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا میں امن اور بھائی چارہ متاثر ہوگا اور بہت سخت ردعمل آئے گا جس پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگ اکٹھے ہیں اور پرامن طریقے سے زندگی گزار رہے ہیں۔

ہم سب نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے تاکہ امن و سلامتی کے خلاف سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ ہم سب بالغ ہوچکے ہیں اور اب کوئی بھی ہمیں لڑانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ہم ہمیشہ پیار اور محبت سے رہیں گے اور اس ملک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان سیاحت پر زور دے رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگوں کو لایا جائے، ہم آہنگی کی فضا پیدا کی جائے، لوگ ایک دوسرے کو سمجھیں اور عدم برداشت کا خاتمہ ہو۔ اس کے لیے مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، ہندوؤں کی عبادتگاہوں کو آباد کیا جارہا ہے، سب کیلئے کھولا جارہا ہے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت کو فروغ دیا جاسکے۔

ایک طرف پاکستان ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی پر کام کر رہا ہے تاکہ نہ صرف ملک اور خطہ بلکہ دنیا کو پر امن بنایا جاسکے جبکہ دوسری طرف فرانس کے صدر جیسے سازشی اور شیطانی عناصر ہیں جو دنیا کا امن خطرے میں ڈال رہے ہیں اور پاکستان جیسے ممالک کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پوری دنیا فرانس کو سبق سکھانے اور اسے نشانہ عبرت بنانے کیلئے اس کے ساتھ سفارتی ، تجارتی و ہر طرح کے تعلقات کا بائیکاٹ کرے۔ اگر اب اس معاملے کو یہی روک دیا گیا تو امن کو فروغ ملے گا بصورت دیگر ان شیطان صفت افراد کو تقویت ملے گی اور یہ دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل دیں گے۔

سردار بشن سنگھ
(رکن پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی)

دنیا بھر کے سکھ فرانس میں شائع ہونے والے خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ پیر، پیغمبر، اولیاء یا عبادتگاہوں کی شان میںگستاخی کرے۔عام آدمی اگر گستاخی یا کوئی جرم کرتا ہے تو اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد اس کی مذمت کرتے ہیں اور اسے کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے کام کرتے ہیں مگر یہ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ فرانسیسی صدر نے اپنے عہدے کا بھی خیال نہیں کیا اور ایسا بیان دیا جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ فرانسیسی سفیر کو فوری طور پر ملک بدر کیا جائے اور فرانس کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات کا بائیکاٹ کیا جائے۔

گستاخانہ خاکے اب عالمی مسئلہ بن چکا ہے لہٰذا اقوام متحدہ پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے احترام کیلئے قانون سازی کرے اور اس میں یہ واضح کیا جائے کہ مقدس کتب، پیغمبر، اولیاء اور عبادتگاہوں کی توہین سنگین جرم ہے، اس کے مرتکب فرد یا افراد کو چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو آزادی اظہار کے نام پر تحفظ نہیں دیا جائے گا۔

یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے، اس میں تاخیر سے معاملات بگڑ سکتے ہیں اور عالمی امن خراب ہوسکتا ہے لہٰذا اس پر فوری اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ان پر تشدد کرنے کی عالمی سازش عرصہ دراز سے جاری ہے، فلسطین، کشمیر، افغانستان، عراق و دیگر اسلامی ممالک کی حالت سب کے سامنے ہے۔

کسی بھی مذہب کے لوگوں کی دل آزاری کرنا اور بے حرمتی کرنا قابل برداشت نہیں، ذمہ داران کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ مسلمانوں کی مقدس کتاب اور رسولؐ کی شان میں گستاخی کا سلسلہ کئی برسوں سے چلا آرہا ہے، کبھی ڈنمارک، کبھی فرانس اور کبھی کہیں اور گستاخی کی جاتی ہے، اس کو روکنا بے حد ضروری ہے۔اس حوالے سے عالمی اداروں کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔دنیا میں جہاں بھی ظلم ہوگا، سکھ مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔

ہم اب بھی مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور دنیا بھر میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ ہم نے فرانسیسی سفارتخانے کے باہر بھی احتجاج کیا، دیگر مقامات پر بھی احتجاج کیے جارہے ہیں، پریس کانفرنس اور ڈائیلاگ کا انعقاد بھی کر رہے ہیں تاکہ اس پر بھرپور طریقے سے آواز اٹھائی جاسکے۔

مسلمانوں کی مقدس کتاب اور نبیؐ کی شان میں گستاخی روکنے کیلئے تمام اسلامی ممالک کو متحد ہونا ہوگا لیکن اگر اب بھی یہ ممالک اکٹھے نہیں ہونگے تو اس طرح کے مسائل بڑھیں گے۔ اس طرح کے عمل سے امن کیلئے کام کرنے والوں پر بھی اثر پڑتا ہے، آج مسلمانوں کے ساتھ ہوا ہے تو کل کسی اور مذہب کے ساتھ ہوسکتا ہے لہٰذا تمام انسانیت پسندوں کو اس کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا۔

ہر مذہب یہ سکھاتا ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ کرو، کسی کو تکلیف نہ دو، کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح نہ کرو۔ اس معاملے پر ہم سب ایک ہیں اور ہمیں اسی طرح متحد ہوکر دشمن عناصر کا قلع قمع کرنا ہے لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا میں نفرت بڑھے گی جس کا نقصان سب کو ہوگا۔

ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جارہا ہے۔ بھارت حکومت آر ایس ایس اور براہمن سوچ پر کام کر رہی ہے اور مودی انتہا پسندانہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ بابری مسجد کو شہید کرنے اور پھر وہاں مندر تعمیر کرنے جیسے اقدامات بھی توہین میں آتے ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سکھوں کے ساتھ بھی برا سلوک کیا جارہا ہے لہٰذا مسلمانوں اور سکھوں کو ایک ہونا پڑے گا اور مل کر اس چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔