سپر اوورکی اہمیت کو بھی سمجھنا ہوگا

پروفیسر اعجاز فاروقی  اتوار 8 نومبر 2020
شایدہم ذہنی طور پر اس کیلئے تیار نہیں تھے،پورے50 اوورز کی بیٹنگ کا نتیجہ ان 6 اضافی گیندوں کی بنیاد پر نکلنا تھا۔ فوٹو: فائل

شایدہم ذہنی طور پر اس کیلئے تیار نہیں تھے،پورے50 اوورز کی بیٹنگ کا نتیجہ ان 6 اضافی گیندوں کی بنیاد پر نکلنا تھا۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور زمبابوے کی ون ڈے سیریز جب شروع ہوئی تو مجھ سمیت سب کو ایسا ہی لگ رہا تھا کہ ہماری ٹیم آسانی سے جیت جائے گی، مگر تیسرے میچ میں جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا، گوکہ ہارجیت کرکٹ کا حصہ ہے  مگر  پاکستانی ٹیم نے اس میچ میں بہت غلطیاں کیں جو اسے لے ڈوبیں۔

میں سب سے پہلے سپر اوور کی بات کروں گا، شایدہم ذہنی طور پر اس کیلئے تیار نہیں تھے،پورے50 اوورز کی بیٹنگ کا نتیجہ ان 6 اضافی گیندوں کی بنیاد پر نکلنا تھا، عموماً ٹیمیں سپر اوور میں اپنے بہترین کھلاڑیوں کو بیٹنگ کیلئے بھیجتی ہیں مگر یہاں پاکستانی ٹیم سے چوک ہو گئی،افتخار احمد اب تک  بیٹنگ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہیں منوا پائے تھے مگر انھیں بھیج دیا گیا، ساتھ خوشدل شاہ موجود تھے، ان کی صلاحیتوں پر کسی کو کوئی شک نہیں، پی ایس ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ اچھا کھیل پیش کر چکے مگر  انٹرنیشنل میچ کا الگ دباؤ ہوتا ہے۔

خوشدل کا ڈیبیو ہوا تھا وہ  توقعات پر پورا نہ اتر سکے،افتخار پہلی گیند پر آؤٹ ہوئے تو دوسری پر خوشدل نے بھی اونچا شاٹ کھیل دیا، زمبابوے کے سکندر رضا نے کوشش بڑی کی مگر مشکل کیچ نہ تھام سکے، اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو ہماری اننگز صفر پر ختم ہوتی اور زمبابوے کو فتح کیلئے ایک رن درکار ہوتا، جیسے تیسے 2 رنز بنا کر حریف ٹیم کو 3رنز کا ہدف دیا جو اس نے باآسانی حاصل کر لیا،بابر اعظم سنچری بنا چکے تھے، وہاب ریاض نے بھی ففٹی بنائی تھی، اگر وہ دونوں ہی بیٹنگ کیلئے آتے تو صورتحال مختلف ہوتی،یا بابر کے ساتھ حیدرعلی کو ہی بھیج دینا چاہیے تھا۔

اگر پاکستان نے8 رنز بھی بنا لیے ہوتے تو شاہین شاہ آفریدی فتح دلا سکتے تھے، مگر شاید قسمت میں زمبابوے کی جیت ہی لکھی تھی،اس سے ہم ورلڈکپ سپرلیگ میں نمبر ون پوزیشن پر بھی نہ آ سکے اور10قیمتی پوائٹس ضائع ہو گئے، مجھے یقین ہے اس شکست سے ٹیم مینجمنٹ نے سبق لیا ہوگا اورآئندہ سپر اوور میں مناسب پلاننگ کے ساتھ حصہ لیا جائے گا، ون ڈے سیریز میں بابر اعظم کی کارکردگی ایک بار پھر اچھی رہی، انھوں نے بہت تیزی سے خود کو  بہترین بیٹسمینوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے کھیل میں نکھار آ رہا ہے۔

نوجوان بیٹسمین حیدر علی کو دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ وہ کافی آگے جائیں گے، گوکہ زمبابوے سے ون ڈے سیریز میں انھوں نے زیادہ رنز نہیں بنائے مگر ان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، بولنگ میں مجھے شاہین شاہ آفریدی  نے بیحد متاثر کیا، وہ بھی تینوں طرز کی کرکٹ میں اچھا پرفارم کر رہے ہیں، زمبابوے سے تیسرے میچ میں محمد حسنین کو موقع ملا تو انھوں نے بھی 5وکٹیں لے کر صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا،یہ نوجوان پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہیں، قومی ٹی 20 کپ میں بھی چند نوجوان کھلاڑیوں نے اچھاکھیل پیش کیا،اس سے ظاہر ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں امید ہے سلیکٹرز باصلاحیت کرکٹرز کو مواقع بھی دیتے رہیں گے۔

اسی طرح حال ہی میں منعقدہ قومی انڈر19ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ میں سندھ کی کارکردگی بھی اچھی رہی اور اس نے ٹائٹل جیت لیا،صوبے خصوصاً کراچی میں بھی بڑا ٹیلنٹ موجود ہے اور انھیں بھی چانس دینا چاہیے،ہمارا شہر ان دنوں کرکٹ کا مرکز بنا ہوا ہے، قائد اعظم ٹرافی کے میچز بائیو سیکیور ماحول میں جاری ہیں، بعد میں پی ایس ایل کے پلے آف اور فائنل بھی کھیلا جائے گا، گوکہ ایک کھلاڑی کا مثبت کورونا ٹیسٹ آ گیا مگر مجموعی طور پر ایونٹ کیلئے اچھے انتظامات کیے گئے ہیں، عالمی وبا نجانے کب ختم ہو گی تب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بھی نہیں بیٹھا جا سکتا تھا،کبھی نہ کبھی تو کرکٹ شروع کرنا ہی تھی بورڈ نے مثبت قدم اٹھایا،امید ہے کہ بغیرکسی مسئلے کے تمام میچزکا انعقاد ہوجائے گا۔

خوشی کی بات ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی پر اب غیرملکی ٹیموں کا اعتماد بھی بحال ہو چکا، زمبابوے کی ٹیم یہاں آئی ہوئی ہے، جنوبی افریقی وفد نے بھی انتظامات پر  اطمینان کا اظہار کر دیا،امید ہے آئندہ سال ان کی ٹیم بھی دورہ کرے گی، انگلینڈ نے مثبت اشارے دیے ہیں، پی ایس ایل کے بقیہ میچز میں بھی غیرملکی اسٹارز آ رہے ہیں، ان میں سب سے اہم اضافہ فاف ڈوپلیسی کا ہوگا، ملکی میدانوں کو دوبارہ آباد دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے، سیکیورٹی ایجنسیز نے ملک میں امن و امان بحال کرنے کیلئے بڑی قربانیاں دیں۔

کھیل نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے بچاتے ہیں، اپنی سرزمین پر غیرملکی اور مقامی اسٹارز کو ایکشن میں دیکھ کر نئی نسل بھی کرکٹ کی جانب راغب ہوگی، گوکہ ابھی کورونا کی وجہ سے شائقین کو اسٹیڈیمز آنے کی اجازت نہیں مگر امید ہے کہ جلد وہ دن بھی آئے گا جب اس عالمی وبا سے دنیا کو نجات ملے گی اور حالات نارمل ہو جائیں گے، یوں پھر سے کرکٹ سے محبت کرنے والے شائقین اسٹیڈیم جاکر بھی کھیل سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔