ارکان قومی اسمبلی کے اثاثے؛ احسان باجوہ، نور عالم اور عمر ایوب امیر ترین رکن نکلے

ویب ڈیسک  منگل 10 نومبر 2020
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 8 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، الیکشن کمیشن (فوٹو: فائل)

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 8 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، الیکشن کمیشن (فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے ارکان قومی اسمبلی کے مالی سال 20-2019ء کے گوشواروں کی تفصیلات جاری کردیں، احسان الحق باجوہ 5 ارب 46 کروڑ کے ساتھ امیر ترین رکن قومی اسمبلی نکلے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان 8 کروڑ سے زائد روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں، وزیراعظم عمران خان کا اندرون اور بیرون ملک کوئی کاروبار اور اپنی کوئی ذاتی گاڑی موجود نہیں، اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کے 4 غیرملکی اکاؤنٹس میں 3 لاکھ 31 ہزار 230 امریکی ڈالرز اور 518 پاونڈز موجود ہیں جب کہ وزیراعظم کے پاس 1 کروڑ 99 لاکھ سے زائد کیش بھی موجود ہے، وزیراعظم عمران خان کے پاس 2 لاکھ روپے مالیت کی 4 بکریاں بھی موجود ہیں اور فیروزوالہ میں 80 کنال زمین کے عوض 7 کروڑ سے زائد کا ایڈوانس بھی لے رکھا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 8 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں اور 1 کروڑ 26 لاکھ روپے سے زائد رقم کے مقروض ہیں، وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان 1 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں اور 2 کروڑ روپے کا قرض لے رکھا ہے۔

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان 3 ارب 20 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک نکلے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عامر محمود کیانی 14 کروڑ 69 لاکھ روپے مالیت کے اثاثے رکھتے ہیں ، ریاض فتیانہ 54 لاکھ 86 ہزار جبکہ غلام بی بی بھروانہ 37 لاکھ سے زائد کے اثاثوں کی مالک ہیں۔

وفاقی وزرا کے اثاثے

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان: 1 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک نکلے۔ انہوں نے 2 کروڑ روپے کا قرض لے رکھا ہے۔وزیر دفاع پرویز خٹک 15 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثے رکھتے ہیں جبکہ اپنی ساس کے اڑھائی کروڑ روپے کے مقروض ہیں۔

 فیصل واوڈا 63 کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک،51 کروڑ روپے کے غیرملکی اثاثوں کے بھی مالک ہیں۔ فیصل واوڈا کے پاس 40 تولہ سونا اور 1 کروڑ سے زائد مالیت کی گاڑی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 24 کروڑ، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود 15 کروڑ جبکہ وفاقی وزیر حماد اظہر  36 کروڑ اور انکی اہلیہ 28 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر 66کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

 وزیر مواصلات مراد سعید نے 31 لاکھ روپے مالیت سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ مراد سعید نے گاڑی اور 15 تولے سونے کے قیمت ظاہر نہیں کی۔ ان کے پاس ملک کے اندر اور باہر کوئی کاروبار اور جائیداد موجود نہیں۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان 5 کروڑ روپے سے زائد جبکہ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری 11 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ 10 کروڑ 97 لاکھ روپے کی جائیداد کے مالک ہیں، ان کے پاس 100 تولے سونا اور 45 لاکھ روپے کی گاڑی بھی ہے۔

وفاقی وزیر خسرو بختیار 27 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں، انھوں نے رینج روور گاڑی کو والدین کی طرف سے تحفہ ظاہر کیا ہے۔

وفاقی وزیر سید امین الحق کے پاس ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد 4 کروڑ 65 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک نکلے۔

حکومتی اتحادی

مسلم لیگ ق کے رکن مونس الہی ایک ارب، 42 کروڑ کے اثاثوں کے مالک نکلے، مونس الہی جے ڈی ڈبلیو شوگر مل کے ایک ہزار شئیرز کے بھی مالک ہیں۔ان کی اہلیہ کے نام 7 کروڑ، 86 لاکھ روپے کے اثاثے ہیں۔

چودھری سالک حسین ایک ارب، 54 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں،کنوینئر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی ایک کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔

23 ہزار ایکڑ زمین

قومی وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کے پاس ڈیرہ بگٹی میں 23 ہزار ایکڑ وراثتی زمین ہے، نوابزادہ شاہ زین بگٹی کے پاس سانگھڑ میں 836 ایکڑ زرعی زمین بھی ہے، انھوں نے پڑول پمپ کی ملکیت ایک کروڑ روپے ظاہر کی ہے، شاہ زین بگٹی نہ کوئی گاڑی ظاہر کی اور نہ چار بنک اکاؤنٹس میں کوئی رقم۔

حکومت کی سابقہ اتحادی بی این پی کے سربراہ اختر جان مینگل کے اثاثوں کی مالیت لاکھوں میں ہے ، انھوں نے 30 لاکھ روپے کے جانور بھی اثاثوں میں ظاہر کیے ہیں۔

اپوزیشن کے اثاثے

شہباز شریف کی   ملک کے اندراور بیرون ملک جائیداد :

اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی کی بات کریں تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف 24 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک نکلے، انھوں نے پاکستان میں غیر زرعی اراضی کی قیمت 1 کروڑ 47 لاکھ جبکہ سیکڑوں کنال اراضی تحفے کے طور پر ظاہر کی ہے ، شہبازشریف نے سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی کی قیمت 26 لاکھ روپے ظاہر کی ہے، قائد حزب اختلاف نے 13 کروڑ 78 لاکھ سے زائد اثاثے برطانیہ میں ظاہر کیے ہیں ،شہباز شریف کے بینک اکاؤنٹ میں 6 کروڑ 39 لاکھ روپے موجود ہیں، انکے لاہور میں چودہ بینک اکاؤنٹ ہیں ،انھوں نے جائیداد کے اوپر دس کروڑ کا قرضہ بھی ظاہر کیا ہے۔

لاکھوں روپے مالیت کا اسلحہ ، گھوڑے اور اقامہ

سابق صدر آصف علی زرداری 67 کروڑ 68 لاکھ کے اثاثے ظاہر کیے، نواب شاہ میں کروڑوں کی جائیداد بھی ہے، ایک کروڑ 67 لاکھ کا اسلحہ موجود اور 89 لاکھ کا کاروبار بھی ہے۔ گھوڑوں اور پالتو جانوروں کی قیمت ننانوے لاکھ ظاہر کی گئی ہے،سابق صدر آصف علی زرداری کے پاس 6 بلٹ پروف گاڑیاں موجود ہیں۔ سابق صدر آصف زرداری نے دبئی میں اقامہ بھی گوشواروں میں ظاہر کیا۔

بلاول بھٹو زرداری ارب پتی رکن اسمبلی

چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے پاس ایک ارب 58 کروڑ باون لاکھ روپے سے زائد کے اثاثے ہیں۔ اسلام آباد میں گھر تحفے اور زرعی زمین کی قیمت دس ہزار 776 روپے ظاہر کی ہے۔ بلاول بھٹو نے12 لاکھ اکاون ہزار کے سیونگ سرٹیفکیٹس بھی بتائے ہیں اور آٹھ بینک اکاونٹ ہیں۔ دبئی کی مختلف کمپنیز میں اپنے شئیرز ظاہر کیے ہیں۔

سو تولے سونا

اسکے علاوہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے دو کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، راجہ پرویز اشرف کی اہلیہ کے پاس سو تولے سونا ہے، انکے پاس تین بینک اکاونٹس میں ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد کی رقم موجود ہے۔ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں میں عبدالقادر پٹیل 5 کروڑ 96 لاکھ جبکہ سید نوید قمر 6 کروڑ 59 لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

ن لیگ کی پارلیمانی قیادت کے اثاثے

مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق کے بارہ کروڑ ، قرضوں کی مد میں انھوں نے دو کروڑ 95 لاکھ ظاہر کیے ہیں،انکے پاس ستاون لاکھ سے زائد کی دو گاڑیاں ، باون لاکھ روپے بینک میں موجود ہیں ۔ انکی اہلیہ غزالہ سعد رفیق کے پاس چالیس تولے سونے کے زیورات جبکہ شفق حرا کے پاس نو لاکھ پچاس ہزار روپے کیش ظاہر کی گئی ہے۔ شفق حرا کے بارہ لاکھ سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں۔

ایاز صادق کے پاس 6 کروڑ کے اثاثے ہیں،99 لاکھ بنک میں ، گلبرگ لاہور میں تین کروڑ سے زائد کا پلاٹ ظاہر کیا گیا ہے ،گلبرگ میں دو کروڑ اٹھاون لاکھ سے زائد کا ایک اور پلاٹ بھی ظاہر کیا گیا ہے ایاز صادق نے چھ لاکھ ساٹھ ہزار کے اثاثے اہلیہ کے نام ظاہر کیے ہیں۔

 شاہد خاقان عباسی کے پاس بھی چھ کروڑ  کے اثاثے ہیں۔ ان کے چھ بینک اکاونٹس ہیں جن میں سات لاکھ کی رقم ظاہر کی گئی، ہے۔ شاہد خاقان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں۔ پاکستان میں دس لاکھ کی انویسٹمنٹ ظاہر کی ہے۔

مریم اورنگزیب تین کروڑ سے زائد اثاثے ظاہر کیے۔ ان کے پاس بارہ لاکھ مالیت کا سولہ تولے زیور ہے۔

 برجیس طاہر کے پاس 3 کروڑ 13 لاکھ، چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر حسین کے پاس 22 کروڑ 68 لاکھ، شیخ روحیل اصغر 16 کروڑ 70 لاکھ سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

امیر ترین رکن اسمبلی؛

مسلم لیگ (ن) کے احسان الحق باجوہ امیر ترین رکن قومی اسمبلی نکلے۔ این اے 168 چشتیاں سے منتخب رکن 5 ارب 46 کروڑ 43 لاکھ سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ احسان الحق باجوہ کے بیرون ملک اثاثوں کی مالیت 4 ارب 58 کروڑ 35 لاکھ روپے ہے۔ لیگی ایم این اے اندرون ملک 44 کروڑ 8 لاکھ روپے سے زائد کے اثاثے رکھتے ہیں۔ احسان الحق باجوہ ایک ارب 19 کروڑ روپے کے مقروض بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔