عوام کے لیے معاشی پالیسی

ایڈیٹوریل  بدھ 11 نومبر 2020
معاشی ٹمپریچر کو نظر انداز نہ کریں، عوام سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی سے ماورا ایک منصفانہ معاشی نظام چاہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

معاشی ٹمپریچر کو نظر انداز نہ کریں، عوام سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی سے ماورا ایک منصفانہ معاشی نظام چاہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دو سال کی محنت سے معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے، تمام معاشی اعشاریے مثبت جا رہے ہیں، تاہم اپوزیشن اپنی سیاست بچانے کے لیے عوام کو گمراہ اور مہنگائی کا پروپیگنڈا کر رہی ہے، انھی لوگوں کی غلط پالیسیوں کا نقصان آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

پیر کو وزیر اعظم کی زیرصدارت پولیٹیکل کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مہنگائی اور حکومت کی مقبولیت کے وسیع تر تناظر میں کہا کہ سوات اور حافظ آباد کے جلسوں سے ثابت ہو چکا کہ عوام کا ہم پر اعتماد قائم ہے، وزیر اعظم نے یقین ظاہر کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے ثمرات آنے والے عرصے میں عوام کو منتقل ہونا شروع ہو جائیں گے، اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال اور حکومت کی میڈیا حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی معاشی کامیابیاں میڈیا پر اجاگر کی جائیں، معاشی ٹیم عوام کو اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی  بتائے کہ کس طرح گزشتہ حکومتوں نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔ وزیرِ اعظم  سے پیر کو وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے ملاقات کی۔ سید فخر امام نے وزیر اعظم کو اشیائے خورو نوش کی قیمتوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعظم نے فوڈ باسکٹ میں آنے والی تمام اشیاء کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے عام آدمی تک ریلیف پہنچانے پر زور دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے عوام کے پاس مہنگائی، غربت اور بیروزگاری  کے تلخ حقائق ہی رہ گئے ہیں، یہ وہ بدیہی اور نظر آنے والے زمینی حقائق ہیں جنھیں بتانے کی ضرورت نہیں اور جب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اپوزیشن اپنی سیاست بچانے کے لیے عوام کو گمراہ اور مہنگائی کا پروپیگنڈا کر رہی ہے۔

بادی النظر میں ملکی سیاسی صورتحال میں دوطرفہ تناؤ اپنی انتہاؤں کو پہنچا ہے، نہ صرف مہنگائی بلکہ دیگر مسائل اور انسانی و جمہوری ایشوز پر بھی غیر روایتی اور بلند آہنگ شعلہ بیانی ہو رہی ہے جس کے باعث معاشی معاملات پر سنجیدہ ماحول میں نتیجہ خیز اور مفید مکالمہ کو سپیس نہیں مل رہی، اقتصادی ماہرین کے لیے یہی موقع ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین حقیقت کو فکشن سے جدا کرنے کی سعی کریں، عوام کے اضطراب اور معروضی حقائق کے حوالے سے اپنا حقیقت پسندانہ تجزیہ میڈیا پر پیش کریں۔

عوام سے ان کا رابطہ رہنا چاہیے، مارکیٹ اور اوپن منڈیوں میں اشیا کی طلب و رسد کے سسٹم پر کوئی ابہام نہ رہے، اور ارباب اختیار تک درست معاشی حقائق ہو بہو سامنے لائے جائیں،  بنیادی بات اس استدلال کی ہے جس کا ذکر وزیر اعظم نے ایک اجلاس میں کیا ہے، وزیر اعظم نے اشیائے ضروریہ کی مارکیٹ میں فوری دستیابی کی ہدایت بھی کی ہے لیکن مارکیٹ پوائنٹ آف ویو کے سیاق و سباق میں بعض چیزوں کی وضاحت ضروری ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مہنگائی کی بات محکمہ شماریات کی رپورٹ میں بیان کی جاتی ہے، ایک چارٹ عوام کو میڈیا کے ذریعے ملتا ہے جس میں روزمرہ کی اشیائے ضرورت کا حال بتایا جاتا ہے، اپوزیشن بھی غالباً اپنا ڈیٹا محکمہ شماریات کے ڈیٹا سے اخذ کرتی ہے، کبھی اس بات کا مشاہدہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ اپوزیشن ٹیمیں منڈیوں اور پبلک مقامات، یا پتھاروں اور دکانوں یا ٹھیلوں کا سروے کرکے مہنگائی کی صورتحال پر اظہار خیال کرتی ہیں، اپوزیشن کا معروضی اور تنقیدی نقطہ نظر بھی اس کے سیاسی ایجنڈے سے مشروط ہے، جو اس کا جمہوری حق ہے، دنیا بھر میں اپوزیشن اور حکومت میں چھیڑ خانی کا آئینی جواز موجود ہے، حکومت کا کام اپنے اہداف کو پورا کرنا اور اپوزیشن کا کام حکومت پر تنقید کرنا ہے، اس میں رواداری، صبر و تحمل اور جمہوری اسپرٹ ناگزیر ہے۔

مشہور ہے کہ اچھی حکمرانی خاموش حکمرانی سے عبارت ہے اور الفاظ سے زیادہ طاقت عمل کی ہوتی ہے، اگرچہ حکومت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اپوزیشن مہنگائی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے جب کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ معیشت ٹھیک جا رہی ہے، مہنگائی کہیں نہیں، ہر چیز مارکیٹ میں مل رہی ہے تو پھر ضروری اشیاء کی فوری دستیابی کو یقینی بنانے کی  ہدایات کیوں جاری ہوتی ہیں، ادھر حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ ضروری اشیاء کی دستیابی کا نہیں، چیزیں تو مارکیٹ، سبزی فروشوں، ٹھیلے والوں کے پاس اور دکانوں پر موجود ہیں، دستیابی مسئلہ نہیں چیزوں کے بے تحاشہ مہنگے داموں فروخت کا ہے، آٹا، چینی، دالیں، گوشت، سبزیاں، پھل، مسالے، دودھ، دہی، گیس، بجلی، سفری اخراجات، پٹرولیم مصنوعات، خوردنی تیل عوام کی قوت خرید سے ماورا ہیں۔

ایک غریب آدمی اس کی استعداد نہیں رکھتا کہ اپنے گھر والوں کے لیے ناشتہ، دوپہر اور رات کے کھانے کا انتظام کر سکے، معاشی اعشاریے درست کہ بہت اچھے جا رہے ہوںگے، سرکاری حلقوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ مہنگائی میں جلد کمی آئیگی، لیکن عوام اب کسی بات کا اعتبار کرنے پر تیار نہیں، معاشی حالات نے ان کے صبر کو بھی متزلزل کردیا ہے، وہ فرسٹریشن کا شکار ہیں، بیروزگاری اور کورونا نے مصائب بڑھا دیے ہیں، ایک عام آدمی بھی روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی خریداری میں الجھن اور مالی دباؤ کا شکار رہنے لگا ہے۔

دکانداروں اور آڑھتیوں کی مہنگائی کے بارے میں اپنی نرالی منطق اور انداز نظر ہے، کسی کو فری مارکیٹ کی جدلیات اور حکومتی اقتصادی اور معاشی پالیسیوں کی نتیجہ خیزی پر اطمینان نہیں، کوئی میکنزم نہیں جو عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی کا یقین دلائے۔ سوال یہ ہے کہ ایک مستحکم معیشت کے مظاہر کیا ہیں؟ صارفین کون سے معاشی اقدامات پر اعتبار کریں، جن کا اعلان تو کیا جاتا ہے مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا، حکومت اپنے اعلانات کا از خود جائزہ لے تو اندازہ ہوجائیگا کہ عوام تک کتنے ایسے اعلانات اور فیصلے پہنچے مگر ان کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

اہم اور بڑے منصوبے کب بنے اور ان دو سالوں میں ان سے غریب آدمی نے کیا فیض پائے۔ پناہ گاہ بنانا، وقتی مالی مدد مہیا کرنا اور نچلے طبقات کو اوپر لانے کا دعویٰ کرنا یا دیہاڑی دار مزدور کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا صائب خواب ہیں لیکن ان کی تعبیر بھی تو ملے۔ کورونا کی دوسری لہر بے قابو کیوں ہوئی، کیا اہل وطن نے پہلے تعاون کیا تھا اب وہ تعاون سے گریزاں ہیں، ان ہی پر الزام ہے کہ کورونا سے نمٹنے کے فوائد کو ملیامیٹ کر رہے ہیں، ایسا نہیں ہے۔

ارباب اختیار یہ بتائیں کہ عوام کو اب تک کورونا کے فنڈ سے کتنا حصہ ملا، کورونا میں مبتلا ایک انفرادی مریض کے لواحقین کی مداد و اعانت کا دائرہ کتنا وسیع تھا۔ حکومت اس بات پر عام آدمی کو ایک سو روپے سے لر کر 500 روپے جرمانہ عائد کرتی ہے لیکن اس حقیقت اور تضاد پر خاموش ہے کہ کورونا عام آدمی کو گھیرے ہوئے ہے ،دوسری جانب جلسوں پر جلسے ہو رہے ہیں وہاں کورونا کی یلغار کیوں نہیں ہوتی۔ اتنے بڑے ہجوم میں کورونا کے حملوں کی شرح ہولناک نہیں۔ یہ پر اسراریت عوام کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتی ہے۔

ایک آدمی ماسک بھی لگائے، بار بار ہاتھ بھی دھوئے، فاصلہ رکھے، اور دوسری طرف   پابندیوں سے انحراف کا تماشا۔ عوام پر کورونا کی پہلی لہر کے مسائل کا جو پہاڑ گرا تھا، اس میں حکومت نے ان کی جتنی دستگیری کی، اس کی تفصیل میڈیا پر آنی چاہیے تھی، اس سے تالیف قلب ہو سکتی ہے، پتا چلتا ہے کہ حکومت کچھ کر رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی اپنے رفقا سے یہ شکایت کہ وہ حکومتی اقدامات سے متعلق میڈیا کو حقائق بتانے میں سستی کر رہے ہیں، بے جا نہیں، ان کی ٹیم کو سنجیدگی سے مہنگائی بیروزگاری اور غربت کے ستائے ہوئے لوگوں کی دستگیری اور حکومتی اقدامات کے نتائج سے آگہی دلانے کا فریضہ پورا کرنا چاہیے، وہ ٹی وی ٹاکس سے زیادہ عوام سے رابطے میں رہیں، کبھی فرصت ملے تو قریبی مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور سبزی منڈیوں کا دورہ کریں۔

مہنگائی کے اسباب اور مافیا کے کارندوں کا کھوج لگائیں، اس بات کی تحقیق کرتے ہوئے ارباب اختیار کو بتائیں کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو چالیس یا ساٹھ روپے فی کلو ٹماٹر کے دام تین سو روپے تک کیسے لے جاتے ہیں، کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔ وہ کون سے کاروباری لوگ ہیں جنھوں نے چلغوزے کو غریبوں کے لیے ممنوعہ بنا دیا، انجیر، اخروٹ، بادام اور کشمش کے دام آسمان تک پہنچا دیے، ایک بھنی ہوئی شکرقندی سو روپے میں بک رہی ہے، کھجور مہنگی ہے، دودھ کے فلیور کی قیمتیں راتوں رات بڑھ جاتی ہیں، بچوں کے خشک دودھ کا ڈبہ ریکارڈ توڑ ریٹس تک جا پہنچا ہے۔

خواتین کچن کا سامان لاتے ہوئے سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ لنڈے کے جوتے اور جوگر، کوٹ، چادریں، پردے، قالین کے دام میں اضافہ کی دوڑ لگی ہوئی ہے، موسم گرما کی روایتی اور پسندیدہ خوردنی چیزیں، گاجر کا حلوہ مہنگا ہونے کو ہے۔ سوپ کا کپ دگنی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی معاملات کے حل کے لیے زمینی حقائق سے گریز پائی گڈ گورننس نہیں، حکمراں جمہوری طرز عمل اختیار کریں اور اس حقیقت کو مانیں یا نہ مانیں مگر اس wave کا ادراک کریں کہ جو عوام کی مایوسی، اضطراب اور برہمی کا باعث بنی ہے۔

معاشی ٹمپریچر کو نظر انداز نہ کریں، عوام سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی سے ماورا ایک منصفانہ معاشی نظام چاہتے ہیں، مہنگائی پر علمی بحث انھیں مطمئن نہیں کر سکتی۔ وہ سستی روٹی، چینی، دودھ، چائے، آٹا اور دالیں اپنی دہلیز پر دیکھنے کے متمنی ہیں۔ وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آخر وہ کون سی اجنبی حکومتیں ہیں جو صبح سویرے ہر شہری کے گھر کی دہلیز پر دودھ کی دو بوتلیں رکھواتی ہیں۔ ان کی بھی تو کوئی معاشی پالیسی ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔