پاکستان میں مینگرووز کی 8 میں سے صرف 4 اقسام باقی رہ گئی ہیں، ماہرین کا انکشاف

ویب ڈیسک  بدھ 11 نومبر 2020
سیمینار کے دوران اسٹیج پر ماحولیاتی صحافی شبینہ فراز، دیگر ماہرین کے ہمراہ موجود ہیں۔ (فوٹو: فائل)

سیمینار کے دوران اسٹیج پر ماحولیاتی صحافی شبینہ فراز، دیگر ماہرین کے ہمراہ موجود ہیں۔ (فوٹو: فائل)

کراچی: جامعہ کراچی کے عالمی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) میں جنگلی حیات کے تحفظ سے وابستہ عالمی ادارے ’’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘‘ کی پاکستانی شاخ کی جانب سے گزشتہ روز ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا، جس سے خطاب کرنے والے ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں تمر (میںگرووز) کی 8 اقسام پائی جاتی تھیں، جن میں سے اب صرف 4 باقی رہ گئی ہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ ہمیں بچ جانے والے مینگرووز کو بچانے کےلیے کام کرنا ہوگا، ہمیں اپنے دریاؤں اور نہروں کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی سمندروں میں حیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) کے تیز رفتار خاتمے پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے تجویز کردہ معیار سے زائد سائز کے جال استعمال کیے جارہے ہیں۔ مثلاً ’’ٹیونا‘‘ تیز ترین مچھلیوں میں شمار کی جاتی ہے جسے پکڑنے کےلیے 6 سے 8 کلومیٹر لمبے ’’گل نیٹ‘‘ قسم کے جال کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس جال میں ڈولفنوں کے ساتھ دوسرے چھوٹے بڑے آبی جاندار بھی پھنس کر مرجاتے ہیں۔ ماضی میں 12 ہزار ڈولفنز اس نقصان دہ جال کا شکار ہوچکی ہیں۔

سندھ طاس (انڈس ڈیلٹا) کے بارے میں ماہرین نے سیمینار کے شرکاء کو بتایا کہ وہاں بسنے والی اکثریتی آبادی آب و ہوا کی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہے، خصوصاً طوفان اور ساحلی سیلاب کی وجہ سے انتہائی خطرے سے دوچار ہے۔ مزید برأں، غذائی پیداوار کے حوالے سے زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں سے وابستہ خواتین پر آب و ہوا کی تبدیلی کے منفی اثرات اور بھی زیادہ ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ موجودہ دور میں موسمیاتی تبدیلیاں بڑے پیمانے پر اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما ہو رہی ہیں۔ نہ صرف جنگلی پودوں اور جانوروں کو خطرہ ہے بلکہ لوگ بگڑتی ہوئی فطرت کا شکار ہیں، آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کےلیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سندھ کے سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات ڈاکٹر شیریں مصطفی ناریجو نے کہا کہ کیٹی بندر اور کھاروچن میں ڈیلٹا کے علاقے میں واقع بستیوں کے رہنے والوں کو حفظان صحت اور شدید قسم کے دیگر متعلقہ مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت سے نمٹنے کےلیے حکومت سندھ نے غربت میں کمی کا پروگرام شروع کیا ہے جو صوبے بھر کے 18 اضلاع میں نافذ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اینٹرپرائز ڈویلپمنٹ کو ہمارے ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بننا چاہیے۔

ڈاکٹر ناریجو نے شرکاء کو بتایا کہ حکومت سندھ ان اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کےلیے تیار ہے جو پسماندہ طبقات کو درپیش مسائل حل کرنے کےلیے جدید نظریات لے کر آئے ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر طاہر رشید، ریجنل ہیڈ سندھ اینڈ بلوچستان، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ماحولیاتی اہمیت کے باوجود، انڈس ڈیلٹا آب و ہوا میں تبدیلی کے لحاظ سے تیسرا سب سے زیادہ خطرناک ڈیلٹا ہے اور بنیادی طور پر اسی وجہ سے اس کی تباہی انحطاط کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہے۔ سمندر میں گرنے والے دریائی پانی کے بہاؤ میں کمی کے علاوہ آب و ہوا کی تبدیلی اور دیگر انسانی سرگرمیوں کے باعث ماحول پر پڑنے والے دباؤ کی وجہ سے زرخیز دریائی گاد میں کمی، سمندری پانی کی ڈیلٹا کے علاقے میں بڑھتی ہوئی دخل اندازی، زمینی کٹاؤ، سطح سمندر میں اضافے اور کم بارشوں جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوامل یکجا ہو کر دنیا کے ایک سب سے بڑے اور قیمتی ڈیلٹائک ماحولیاتی نظام کو انحطاط اور مکمل خاتمے کے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ عام طور پر دیہی گھرانے، چھوٹے چھوٹے علاقے اور خاص طور پر خواتین ہیں جو صنفی عدم مساوات کی وجہ سے قدرتی آفات کا سب سے زیادہ شکار ہیں جو ہمارے معاشرتی نظام کے روایتی چلن سے شدید متاثر بھی ہیں۔ خواتین نہ صرف آب و ہوا کی تبدیلی کے منفی اثرات کا زیادہ شکار ہیں بلکہ ان کی ترقیاتی منصوبہ بندی میں نمائندگی بھی محدود ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’’یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ خواتین آب و ہوا کی تبدیلی کے خطرات کے محاذ پر کھڑی ہیں اور ان کی آواز قومی اور بین الاقوامی سطح پر سنی جانی چاہیے۔‘‘

ماحولیات کے ماہر ناصر علی پنھور نے بتایا کہ ایک زمانے میں سندھ ڈیلٹا کو میٹھے پانی کے 17 چینلز سے فیڈ فراہم کی جاتی تھی لیکن موجودہ حالت میں پانی کا منبع کم کرکے صرف ایک کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں دریائے سندھ میں سال بھر انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کا مناسب بہاؤ جاری رہتا تھا، جو اب صرف دو ماہ یعنی اگست اور ستمبر تک محدود رہ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ سے سمندری پانی سیکڑوں کلومیٹر تک ڈیلٹا میں داخل ہوسکتا ہے۔ انڈس ڈیلٹا کی تنزلی کی لاگت ہر سال 2 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے جس کے سنگین معاشی، ماحولیاتی اور معاشرتی مضمرات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈس ڈیلٹا دنیا کا پانچواں بڑا ڈیلٹا ہے اور اس کا ساتواں بڑا مینگروو کور ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی ساحلی پٹی تاریخی اعتبار سے ماہی گیری اور زراعت کے لحاظ سے انتہائی زرخیز رہی ہے۔ میٹھے پانی کا محدود بہاؤ ماحولیاتی بگاڑ کا سبب بن رہا ہے اور معاشرتی عدم مساوات کی اعلی سطح کی موجودگی میں روایتی معاش، بقا اور لچک کے نمونوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی مینیجر کنزرویشن حمیرا عائشہ نے کہا کہ سندھ کی ساحلی پٹی میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ آفات کا خطرہ ہے۔ معاش کے وسائل ضائع ہونے کی وجہ سے، مقامی لوگ دوسرے شہروں اور قصبوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں، جو شہری آبادیوں پر دباؤ میں اضافے کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان متعدد منصوبوں کے ذریعہ آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد سندھ کی دیہی برادریوں کی لچک کو بہتر بنانا اور آب و ہوا اور تباہی کے خطرات کو کم کرنے، ان کی موافقت ان کے علم اور صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔ اس میں آب و ہوا سے مطابقت رکھنے والی والی زرعی تکنیکوں کو اپنانا، معاش کو متنوع بنانا، ماحول کی طویل مدتی پائیداری اور مینگروو کا تحفظ شامل ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے پاکستان میں آکسفیم کے تعاون سے انڈس ڈیلٹا میں بڑے پیمانے پر مینگرووز کاشتکاری کا آغاز کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے سندھ کے ساحل پر مجموعی طور پر 75,000 مینگرووز کے پودے لگائے گئے ہیں۔ دونوں تنظیمیں پاکستان میں ماحولیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے انتظام سے متعلق اپنے اقدامات میں آب و ہوا کی تبدیلی کو اپنانے، تخفیف اور لچک پیدا کرنے کی صلاحیت کو یکجا کرتی ہیں۔

سیمینار سے خطاب کرنے والے دیگر ماہرین میں ریاض احمد واگن؛ چیف کنزرویٹر جنگلات، حکومت سندھ، محمد معظم خان؛ تکنیکی مشیر ماہی گیری، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، عبدالقیوم بھٹو؛ ڈائریکٹر پاکستان محکمہ موسمیات؛ ڈاکٹر محمد اسماعیل کمبھر، سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام؛ ڈاکٹر مختیار احمد مہر، ڈائریکٹر کوسٹل اینڈ ڈیلٹک اسٹڈیز، سندھ یونیورسٹی کیمپس، ٹھٹھہ بھی شامل تھے۔

ماحولیاتی صحافی شبینہ فراز، جامعہ کراچی میں علوم البحر (میرین سائنسز) کے شعیب کیانی اور کیٹی بندر، کھاروچن اور ککاپیر، کراچی کے کمیونٹی کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ کیٹی بندر سے آنے والے اسکول کے بچوں نے بھی ایک ٹیبلو پیش کیا جس میں انڈس ڈیلٹا کو درپیش ماحولیاتی چیلنجوں کو اجاگر کیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔