بائیو سیکیور زون ؛ لفٹ کو ’’نولفٹ‘‘ سے مسائل کا خدشہ

سلیم خالق  جمعرات 12 نومبر 2020
وائرس لگنے کا خطرہ،ایک ٹیم میں 2کیسز آنے سے بورڈآفیشلز پریشان

وائرس لگنے کا خطرہ،ایک ٹیم میں 2کیسز آنے سے بورڈآفیشلز پریشان

 کراچی:  بائیوسیکیور زون میں لفٹ کو ’’نولفٹ‘‘ سے مسائل کا خدشہ ہے جب کہ ہوٹل میں ٹیمیں اور عام مہمان بعض اوقات اپنے فلورز پر ایک ہی لفٹ سے جاتے ہیں جس سے کورونا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کراچی میں پی ایس ایل پلے آف کیلیے پی سی بی نے ہوٹل میں بائیو سیکیور زون بنایا ہے، آتے ہی ہرکھلاڑی اور آفیشل کا ایک ٹیسٹ جبکہ اگلا دوسرے دن ہوتا ہے، 48 گھنٹے قرنطینہ میں رہنے کے بعدکلیئر ہونے کی صورت میں اسے بائیو  سیکیور زون میں نقل و حرکت کی اجازت ہوتی ہے۔

ہر ٹیم کے فلور پر ایک آئسولیشن روم بنا ہوا ہے جہاں مثبت ٹیسٹ کے حامل فرد کو رکھتے ہیں، ٹیموں کے ناشتے کیلیے گراؤنڈ فلور پر الگ جگہ مختص جبکہ جم  میں بھی الگ انتظام کیا گیا ہے، لنچ اور ڈنر کمرے میں ہی منگوانا پڑتا ہے، کھلاڑی سوئمنگ پول استعمال نہیں کر سکتے جبکہ ان کی تفریح کیلیے ایک کمرے میں انڈور گیمز کا انتظام ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گوکہ ہوٹل  میں کئی لفٹس موجود مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ پلیئرز یا آفیشل کے ساتھ دیگر مہمان بھی ایک ہی لفٹ استعمال کرلیتے ہیں،اس سے وائرس لگنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ٹیموں کو بھی اس پر تشویش ،پی سی بی کو مسئلے کا ادراک ہے اور اس نے ہوٹل انتظامیہ سے بات بھی کی  تھی۔

دوسری جانب گذشتہ دنوں ایک ہی ٹیم میں دوسرا ٹیسٹ مثبت آنے پر بورڈ آفیشلز پریشانی کا شکار ہو گئے مگر دیگر منفی نتائج آنے پر سکھ کا سانس لیا، ان میں سے ایک کھلاڑی ہیں جو پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچز میں نمائندگی بھی کر چکے،  وہ  پہلا کورونا ٹیسٹ کرانے کے بعد رپورٹ کا انتظار کیے بغیر ہوٹل آ گئے تھے جہاں دوسرا ٹیسٹ مثبت آ گیا۔

گوکہ وہ آئسولیشن روم میں تھے مگر گھر واپس بھیجنے کا بھی امکان ہے، دوسرے فرد ٹیم آفیشل ہیں جنھوں نے کچھ عرصے قبل کوویڈ قوانین کی خلاف ورزی بھی کی تھی،وہ بھی اب آئسولیشن روم میں ہیں۔ واضح رہے کہ پی سی بی پہلے ہی فیصلہ کر چکا کہ اب کورونا کیسز کے باوجود ایونٹ مکمل کرایا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔