خواجہ سراؤں کا خیبرپختون خوا کے مشیر آئی ٹی کو برطرف کرنے کا مطالبہ

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 12 نومبر 2020
خواجہ سرا چاہت نے پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا(فوٹو، فائل)

خواجہ سرا چاہت نے پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا(فوٹو، فائل)

پشاور: خوجہ سراؤں کا کہناہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے مشیر کس بنیاد پر ایک خواجہ سرا کو ضلع بدر کرنے کا حکم دے سکتے ہیں انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔

پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خواجہ سرا آرزو نے کہا کہ خواجہ سراؤں پر تشدد اور ضلع بدر کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ حکومتی ادارے ہمیں تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  کوہاٹ واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا۔ چاہت خواجہ سرا کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے۔وزیر اعلی کے مشیر ضیاء اللہ بنگش کا بیان قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ  وزیراعلی کے مشیر تعلیم  ضیاء اللہ بنگش کس بنیاد پر ایک خواجہ سرا کو ضلع بدر کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

اس موقعے پر خواجہ سرا چاہت نے کہا کہ شادی کی تقریب میں دو گروپوں نے  آپس میں فائرنگ کی، میری وجہ سے کسی نے کسی کو نہیں مارا۔وزیراعلی کے مشیر مجھے میرے گھر سے بے گھر کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ ضیاء اللہ بنگش کو عہدے سے ہٹا کر خواجہ سراؤں کو تحفظ دیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کوہاٹ کے علاقے  کاغزئی میں شادی کی تقریب کے دوران دو گروپوں میں فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ وقوعے کے بعد مشیر وزیراعلی ضیا اللہ بنگش نے مقتولین کے لواحقین سے تعزیت کے موقعے پر ضلعی انتظامیہ کو خواجہ سرا چاہت  کو ضلع بدر کرنے کے احکامات دیے تھے۔

ضیا اللہ بنگش نے کہا تھا کہ معروف ڈانسر چاہت کی وجہ سے 16 جانیں ضائع ہوچکی ہے  جس کی تحقیقات کی جائیں گی۔ ان کے اس بیان پر خواجہ سراؤں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔