جینا کل پر مت چھوڑو!

عارف انیس ملک  جمعـء 13 نومبر 2020
arifanees@gmail.com

[email protected]

ہم انسانوں کی ایک کمینی عادت ہے۔ ہم پریشان آج ہونے کو ترجیح دیتے ہیں، جب کہ جینا کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پریشانی ملتوی نہیں ہو سکتی۔ بھلا کیا پتہ، کل ہو، نہ ہو!

آپ نے ارد گرد بہت سے دوست احباب دیکھے ہوں گے، جو ایڈوانس میں پریشان ہوتے ہیں۔ وہ اپنے دماغ میں سین کھیلتے ہیں، اور ایسا ویسا ہو جانے کے تمام زاویے کھوج لیتے ہیں۔ نفسیات دانوں کی ایک دس سال پر محیط ریسرچ بتاتی ہے کہ ایڈوانس میں پریشان ہونے والوں کے %91 اندازے غلط نکلتے ہیں۔

لبرٹی انشورنس نے لاکھوں افراد پر مشتمل ریسرچ سے یہ کھوج لگائی کہ %38 لوگ روزانہ کی بنیاد پر پریشان ہوتے ہیں، ان چیزوں کے لیے جو رونما نہیں ہوتیں۔ ایک اور بڑی ریسرچ سے یہ معلوم ہوا کہ 25سال تک کے نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک سال میں 63 دن کے برابر وقت پریشان ہونے پر لگاتے ہیں۔ اس سے مزید بڑوں میں یہ تناسب سال کے 125 دن تک جا پہنچتا ہے۔

اسٹریس کے بارے میں ایک چیز پر واضح ہوجائیں، یہ کہیں اور سے نہیں آتی، یہ آپ کے لائف اسٹائل کا حصہ ہے۔ ہمارے اندر سے وہی باہر آتا ہے، جو ہمارے اندر ہوتا ہے۔ ہر روز جو آپ کرتے/کرتی ہیں، کہتے/کہتی ہیں، سنتے /سنتی، کھاتے /کھاتی ہیں، وہی آپ باہر نکالتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں، گاربیج ان، گاربیج آؤٹ!  اگر کوڑا کھائیں گے تو کوڑا باہر نکلے گا۔ فل اسٹاپ!

اگر آپ کے دن کا بیشتر حصہ اخبار میں بری خبریں ڈھونڈنے سے شروع ہوتا ہے، پھر ٹی وی پر پھولے ہوئے سانس اور رقت آمیز لہجے والی نیوز کاسٹر آپ کو تازہ ترین واردات کے بارے میں بتاتی ہے، پھر آپ وزیروں ،سیاستدانوں اور اسی طرح کے دیگر دانشوروں کے بیانات سنتے ہیں، پھر ان کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ پھر ان کے بیانات آگے بھیجتے ہیں اور پھر فیس بک پر مزید بری خبریں ڈھونڈتے ہیں۔

یہی نہیں آپ اسٹریس مقناطیس بن جاتے /جاتی ہیں، فون پر بات ہو تو اڑوس پڑوس اور خاندان میں جو کالی بھیڑیں ہیں آپ نے ان پر تبصرہ کرنا ہے، غیبت کرنی ہے، ادھر ادھر کی لگا دینی ہے۔ پھر رات کو سوتے ہوئے آپ کا معدہ قلابازیاں کیوں نہیں لگائے گا؟ نیند کوسوں دور کیوں نہیں بھاگے گی؟ پورا دن آپ نے اپنے اندر تیزاب انڈیلا ہے، اب تیزابی ڈکار تو آئیں گے۔

اسٹریس پر اس ساری گفتگو کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ساری برائیاں اسٹریس میں ہیں۔ اسٹریس آپ کی دوست ہے۔ آپ کو چوکنا اور ہوشیار رکھتی ہے۔ مسئلہ پریشانی سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ پریشانی کو بیٹھنے کے لیے کرسی یا چارپائی فراہم کردیتے /دیتی ہیں۔ مسئلہ بگڑتا اس وقت ہے جب آپ اس سائرن کو آف نہیں کرتے /کرتیں اور یہ ہر وقت ٹیاؤں ٹیاؤں کرتا پھرتا ہے۔

اچھا ایک اور چیز ہوتی ہے جسے کہتے ہیں، “سرکل آف کنسرن” ، یعنی توجہ کا دائرہ۔ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔ آپ فلسطینیوں کے حق میں ہیں، آپ کو تکلیف ہوئی۔ ایک ہوتا ہے، “سرکل آف انفلیواینس”، یعنی کہ اثر کا دائرہ۔ اگر آپ کو تکلیف تو ہوئی مگر آپ عرب امارات یا بحرین کا کچھ نہیں کر سکتے، صرف اپنا موڈ خراب کرسکتے ہیں تو یہ عادت اسٹریس لینے کے لیے تیر بہدف ہے۔

ہاں، البتہ آپ کچھ ایسا کر سکتے ہیں جس سے فلسطینیوں کے حق میں کچھ پیش رفت ہو سکے، تو بسم اللہ، ضرور کریں، لیکن ایسا معاملہ جس کے بارے میں سوچ سوچ کر آپ کو تبخیر ہو جائے (مجھ سے میرا عہدہ کیوں چھینا؟ فلاں کو وزیر اعلیٰ کیوں لگایا؟ فلاں کو سی سی پی او کیوں لگایا پھر ہٹایا)، مگر آپ کچھ بھی نہ کر سکیں، اس سے پرہیز بہتر ہے۔ ایک بہت قیمتی بات یہ ہے کہ یہ سب لوگ ہرگز اس قابل نہیں کہ آپ کی توجہ کا حصہ بن سکیں اللہ کی کائنات میں کیسی کیسی خوبصورتیاں موجود ہیں، پھر آپ کی توجہ خوبصورت کیوں نہیں ہو سکتی؟

پچھلے دس برس میں چالیس سے زیادہ ملکوں کا سفر کیا۔ عمومی طور پر یہ دیکھا کہ ہمارا ملک سب سے زیادہ سیاست زدہ ہے۔ ہم اٹھتے، بیٹھتے، کھاتے پیتے سیاست کی جگالی کرتے ہیں۔ حالانکہ اس بارے میں یوسفی صاحب کمال کی بات کر چکے ہیں کہ اپنے ہاں حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے وقت جو شخص اپنے بلڈپریشر اور گالی پر قابو رکھ سکے‘ وہ یا تو ولی اللہ ہے یا پھر وہ خود ہی حالات کا ذمے دار ہے۔

آپ کو ایک ہلکا پھلکا چیلنج کرسکتا ہوں، اخبار پڑھنے اور سیاست زدہ رہنے والا شخص آپ کو اکثر اسٹریس سے بھرا ملے گا۔ اس میں غم و غصے اور شکوے کی کیفیات گھلی ملی رہتی ہیں۔

پچھلے دس برس میں دنیا کے کچھ غیر معمولی افراد سے ملاقات ہوئی جو اپنی تحریر و تقریر سے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں انقلاب لا چکے تھے اور بہت سے میدانوں میں علم کے نئے گوشے دریافت کر چکے تھے۔ میں اس وقت ہکا بکا رہ گیا جب ٹونی بیوزان اور دیپک چوپڑا کے ساتھ ایک لمبا سفر کیا اور معلوم ہوا کہ ان دونوں نے پچھلے بیس تیس سال میں نہ کبھی اخبار پڑھا تھا نہ ٹی وی دیکھا تھا۔ جب وجہ پوچھی تو جواب سیدھا سا تھا “اخبار اور ٹی وی اپنے مالکوں کے کہنے پر دنیا جہان سے بری خبریں ڈھونڈ کر اکٹھی کر دیتے ہیں، ہمیں بھلا ایسی خبروں سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟”

ہاں، ان لوگوں کو موسیقی سنتے دیکھا، کتابوں میں محو پایا، حسن کا خوشہ چین پایا، لمبے لمبے فاصلے چلتے دیکھا، فطرت اور آرٹ کی پرستش کرتے دیکھا، ہنستے، مسکراتے دیکھا، اسکرین سے زیادہ انسانوں سے بات چیت کرتے پایا، دوسروں کو سنتے اور ان کی مدد کرتے دیکھا اور تب احساس ہوا کہ خوش ہونا اتنا ہی آسان، یا مشکل ہے!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔