پاکستان میں قانون سازی کی جڑیں آج بھی برطانوی دور میں پیوست

رزاق ابڑوٍ  ہفتہ 14 نومبر 2020
ہمارے ضابطہ قوانین میں بڑی خلیج ہے، سید سردار احمد، موجودہ دور کے مطابق بہتر قوانین سامنے لانا ہوں گے، بیرسٹر ضمیر گھمرو۔ فوٹو: فائل

ہمارے ضابطہ قوانین میں بڑی خلیج ہے، سید سردار احمد، موجودہ دور کے مطابق بہتر قوانین سامنے لانا ہوں گے، بیرسٹر ضمیر گھمرو۔ فوٹو: فائل

 کراچی: آزادی کے 70 برس بعد بھی پاکستان کے عدالتی نظام کی جڑیں آج بھی برطانوی دور کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔

برطانوی جو7دہائیاں قبل اس خطے سے چلے گئے تھے لیکن ان کی موجودگی کا بوجھ آج بھی اس ملک کے عدالتی نظام پر محسوس ہوتا ہے اور استعماری دور کے طرز عمل سے نکلنے کے لیے بے انتہا کوششیں کرنا پڑرہی ہیں۔

1947 میں آزادی کے بعد سے بارہا نئی قانون سازی ہوتی رہی ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ سابقہ قانونی اور آئینی معیارات کو کالعدم قرار دینے اور نئی بنیادیں قایم کرنے کے بجائے اکثر نئے قوانین کی بنیادیں سابقہ استعماری پیش رو کی عکاسی کرتی ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بہت سے قوانین باوجود اس کے کہ ان میں متعدد ترامیم کی گئی ہیں تاہم پھر بھی ان میں کچھ زیادہ تبدیلی نظر نہیں آتی اور آج بھی ان میں برطانوی دور کے قوانین کی نمایاں خصوصیات کی جھلک نظر آتی ہے۔

تفصیلات کا جائزل لیں تو سول سروسز ایکٹ جسے 1942 میں متعارف کرایا گیا تھا اسے 1964 میں گورنمنٹ سول سرونٹ (کنڈکٹ) رولز میں تبدیل کردیا گیا تاہم اس قانون میں موجود بنیادیں شقیں بعینہ اسی طرح رہنے دی گئیں۔

اسی طرح ویسٹ پاکستان گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز جسے 1966 میں متعارف کرایا گیا تھا بظاہر ان کا مقصد پنجاب، سندھ، شمال مشرقی سرحدی صوبہ اور ریاست بہاولپور میں متعین سول سرونٹس کے لیے قوانین کا منسوخ کرنا تھا تاہم حیرت انگیز طور پر بعد میں کی گئی نئی قانون سازی میں پرانے قوانین کی تقریبا تمام شقیں شامل کردی گئیں جبکہ نئے قوانین کا مقصد کو بہتری لانا ہوتا ہے لیکن یہاں بھی صرف نام ہی تبدیل کیا گیا۔

سابق بیوروکریٹ اور مقامی سیاسی رہنما سید سردار احمد نے ایکسپریس سے بات چیت میں کہا کہ برطانوی دور کے اختتام کے بعد ہونے والی تبدیلیوں سے مطابقت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہمارے ملکی قوانین کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور آج بھی ہمارے ضابطہ قوانین میں بڑی خلیج ہے جس کی وجہ ہے کہ ہم نے ہمارے، فرسودہ قوانین پر انحصار ختم نہیں کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان سول سروسز رولز تک محدود نہیں ہے بلکہ پاکستان پینل کوڈ یعنی قانون فوج داری بھی انڈین قانون فوج داری 1860 کی نقل ہے۔

سینئر وکیل اور سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیر گھمرو نے ایکسپریس سے بات چیت میں کہا کہ اس وقت شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو استعماری ماضی کی زنجیروں سے آزاد کریں اور ایسے بہتر قوانین لائیں جو موجودہ دور کے مطابق ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔