پاکستان میں ہندو برادری آج دیوالی ، سکھ برادری بندی چھوڑ دواس منارہی ہے

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 14 نومبر 2020
ملک بھر میں سکھوں اور ہندوؤں کے تہواروں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں فوٹو: فائل

ملک بھر میں سکھوں اور ہندوؤں کے تہواروں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں فوٹو: فائل

 لاہور: پاکستان میں آباد ہندو برادری آج دیوالی جب کہ سنگھ برادری بندی چھوڑ دواس منارہی ہے۔

دیوالی ہندوؤں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہے اور دنیا بھر میں ہندو اس تہوار کو جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔ کرشنا مندر لاہور کے پجاری کاشی رام کہتے ہیں دیوالی دراصل دیپوں والی کا مختصر نام ہے جس کے لغوی معنی دیا یعنی چراغوں کی قطار ہوتا ہے اور اس لیے اسے روشنیوں کا تہوار کہا جاتا ہے۔ دیوالی کی سب سے عام اور معروف کہانی ایودھیا کے شہزادے رام اور ان کی شریک حیات رانی سیتا کی 14 سال کی جلاوطنی کے بعد ایودھیا لوٹنے کی ہے جب سارا شہر ان کے استقبال کے لیے امڈ پڑا تھا اور ایودھیا کے چپے چپے سے روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ آج بھی لوگ رام کی اس واپسی کا جشن دل کھول کر مناتے ہیں۔

کاشی رام کے مطابق جب پانڈو اپنے بھائیوں کورو کے ہاتھوں قماربازی میں ہار گئے تو انھیں کوروؤں نے 13 سال کی جلاوطنی کا حکم سنایا تھا۔ زندگی کے 13 سال جنگلوں کی خاک چھاننے کے بعد جب پانڈو اپنے وطن ہستناپور (موجودہ دہلی) پہنچے تو لوگوں نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور ہستناپور پھولوں اور دیوں سے سجایا گيا۔یہ دیوالی کا ہی دن تھا۔

ہندوؤں کے نزدیک دیوالی کی سب سے اہم بات لکشمی دیوی اور بھگوان وشنو کا ملاپ ہے۔ لکشمی، پیار محبت، دولت و ثروت، خوش نصیبی اور خوشحالی کی دیوی ہے اور اسی لیے لوگ اس دن ان کی پوجا کرتے ہیں تاکہ دیوی سال بھر ان پر مہربان رہے۔

دیوالی کا تہوار پانچ دن کا تہوار ہے جو دھن تیرس سے شروع ہوتا ہے اس دن لوگ سونا چاندی یا کسی بھی دھات کی خریداری کو نیک شگون مانتے ہیں۔ دوسرا دن نرک چتورداس، تیسرا دن دیوالی جبکہ چوتھا دن گووردھن پوجا اور پانچواں دن بھیادوج یعنی بہن بھائی کا ملاپ۔

اسی دن سکھوں کے چھٹے گورو ہرگوبند صاحب گوالیار کے قلعہ سے رہا ہوئے تھے،اس وجہ سے سکھ برادری اس دن کو بندی چھوڑ دواس کے طور پر مناتی ہے، امرتسر میں واقع گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد بھی اسی روز رکھا گیا تھا۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کی طرف سے ملک بھر میں سکھوں اور ہندوؤں کے ان تہواروں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔