خیبر پختون خوا حکومت کا سیاحت کے فروغ کیلئے اہم اقدام، سڑکوں کی تعمیر کی منظوری

اسٹاف رپورٹر  اتوار 15 نومبر 2020
سڑکیں عالمی بینک کی معاونت سے  30 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی جائیں گی . فوٹو : فائل

سڑکیں عالمی بینک کی معاونت سے 30 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی جائیں گی . فوٹو : فائل

 پشاور: خیبر پختون خوا حکومت نے سیاحت کے فروع کے لئے ایک اہم قدم کے طور پر صوبے کے سیاحتی مقامات تک آسان رسائی کے لئے 3 سڑکوں کی تعمیر کی منظوری دے دی۔

خیبر پختون خوا حکومت نے صوبے کے سیاحتی مقامات تک آسان رسائی کے لئے 3 سڑکوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، ان سڑکوں میں 48 کلومیٹر کالام-کمراٹ روڈ، 52 کلومیٹر تھل پتراک کمراٹ توری اوبہ روڈ اور 14 کلومیٹر تھل جاز بانڈہ روڈ شامل ہیں، یہ سڑکیں عالمی بینک کی معاونت سے خیبر پختون خوا انٹیگڑیٹڈ ٹورازم ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت 30 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کئے جائیں گے۔

یاد رہے کہ صوبائی حکومت نے صوبے کے 4 اہم سیاحتی مقامات تک رسائی کے لئے سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوری دی ہے جس پر عالمی بینک کی معاونت سے عملدرآمد جاری ہے،  ان سڑکوں میں ضلع ایبٹ آباد میں 24 کلومیٹر ٹھنڈیانی سڑک کی کشادگی، سوات میں مانکیال تا بڈھ سیرائی 23 کلومیٹر سڑک کی تعمیر، چترال میں شیشی کوہ تا مداکلشٹ 45 کلومیٹر سڑک کی تعمیر اور کوہستان میں 35 کلومیٹر سپاٹ ویلی سڑک کی تعمیر شامل ہیں، یہ سڑکیں 70 ملین ڈالر کی مجموعی لاگت سے مکمل کئے جائیں گے۔

ان سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کو صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر کے یہ منصوبے صوبے میں ملکی اور غیر ملکی سیاحت کو فروغ دینے میں سنگ میل ثابت ہونگے۔

وزیر اعلیٰ محمود خان نے صوبے میں سیاحت کے فروع کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں سیاحت کے فروع کے لئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ صوبے میں پائی جانے والی سیاحتی مواقع کا بہتر استعمال کے ذریعے یہاں کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ان سڑکوں کی تعمیر سے سیاحتی علاقوں میں سیاحوں کی آسان رسائی ممکن ہوسکے گی جسے ان علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔