ایکسپورٹ معطل ہونے سے پیاز کی قیمت میں کمی ہونے لگی

بزنس رپورٹر  پير 16 نومبر 2020
مقامی فصل بازار میں آنے سے قیمت کم ہوئی، پیاز کی برآمد پر 15 روز کی پابندی۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

مقامی فصل بازار میں آنے سے قیمت کم ہوئی، پیاز کی برآمد پر 15 روز کی پابندی۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

کراچی: پیاز کی ایکسپورٹ معطل ہونے کے بعد مقامی مارکیٹ میں پیاز کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

پیاز کی فی من قیمت 2800روپے سے کم ہوکر 2100روپے من کی سطح پر آگئی ہے۔ مقامی فصل بازار میں آنے کے بعد ایران اور افغانستان سے پیاز کی آمد بھی محدود ہوگئی ہے۔

سبزی منڈی کے تاجروں کے مطابق سندھ کے علاقوں ٹنڈو الہ یار، حیدرآباد اور نصر پور سے پیاز کی نئی فصل کی منڈی میں آمد کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ یومیہ 20 سے 25ٹرک پیاز سندھ کے علاقوں سے منڈی میں لائی جارہی ہے جس کی وجہ سے ایران اور افغانستان سے آنے والی پیاز پر انحصار کم ہوگیا ہے۔

ایران افغانستان کی پیاز گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ قبل پیاز کی 80فیصد طلب پوری کر رہی تھی اور 80سے 100گاڑیاں ایران اور افغانستان سے پیاز لے کر کراچی آرہی تھیں جن کی تعداد اب کم ہوکر 10سے 12تک محدود ہوگئی ہے۔

تاجروں کے مطابق پیاز کی ایکسپورٹ پر پابندی نے پیاز کی قیمتوں میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے کراچی میں پیاز 100روپے کلو کی سطح کو چھو رہی تھی اور ایکسپورٹ جاری رہنے کی صورت میں قیمت دگنی ہونے کا خدشہ تھا۔ ایکسپورٹرز نے از خود پیاز کی ایکسپورٹ پر 15 روز کی پابندی عائد کردی جس سے مارکیٹ میں مقامی پیاز کی فراوانی ہورہی ہے اور قیمتوں میں کمی آرہی ہے۔

پیاز کے ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ سندھ میں کچی پکی پیاز توڑ کر ایکسپورٹ کی جارہی تھی جس کی وجہ کسانوں کو آگے چل کر کافی نقصان ہوتا اور ملک میں پیاز کی قلت ہوجاتی اس لیے پیاز کی ایکسپورٹ از خود معطل کردی گئی، ایکسپورٹرز کے مطابق مٹیاری اور سانگھڑ کے علاقوں سے پیاز کی آمد کا سلسلہ 2 سے 3 ہفتوں بعد شروع ہوگا۔

ایکسپورٹرز کے مطابق ایکسپورٹ معطل ہونے کے باوجود کسانوں کو پیاز کی اچھی قیمت مل رہی ہے ٹنڈو الہ یار کی منڈی میں 12 ٹن پیاز کی گاڑی 6لاکھ روپے میں فروخت ہورہی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔