عمران خان کا ظہرانہ

ظہیر اختر بیدری  پير 16 نومبر 2020
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے اتحادیوں کو ظہرانے پر بلایا تھا جس کا مقصد اتحادیوں کے ساتھ حکومت کی انڈر اسٹینڈنگ مضبوط کرنے کے لیے ان کی شکایتوں کا ازالہ کرنا تھا۔

ہماری جمہوریت سیاسی مفادات کا دوسرا نام ہے یہی وجہ ہے کہ کئی اتحادیوں نے اس ظہرانے میں شرکت نہیں کی یوں عمران خان کی اتحادیوں کے ساتھ بہتر انڈر اسٹینڈنگ کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اتحادیوں کے مطالبات کیا تھے جو نہ مانے گئے۔ عمران خان کی ذمے داری ہے کہ وہ سارے اتحادیوں کے مطالبات میڈیا میں لائیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ہماری جمہوریت کیا بن گئی ہے۔

عام طور پر اتحادی حکومت سے ایسی مراعات، وزارتیں اور سفارتوں کے طلب گار ہوتے ہیں جنھیں پورا کرنا حکومت کے بس میں نہیں ہوتا۔ کیا اتحادیوں نے مہنگائی کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، کیا اتحادیوں نے غریب عوام کی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا، کیا اتحادیوں نے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو روزگار دلانے کا مطالبہ کیا تھا، کیا اتحادیوں نے لٹیرے تاجروں کی ناک میں نکیل ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا، جو مہنگائی کو آسمان پر پہنچا کر عوام کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہیں؟

ایسا کچھ بھی نہیں چونکہ ان اتحادیوں میں ایلیٹ کے شہزادے شہزادیاں نہیں ہیں کہ ان کے مطالبات کو درگزر کیا جائے یہ عام طور پر مڈل کلاس کے اتحادی ہیں۔عام طور پر اتحادی وزارتیں چاہتے ہیں، سفارتیں چاہتے ہیں اور ایسی مراعات چاہتے ہیں جو حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوتیں۔

ہم بہت خوش تھے کہ 70 سال بعد عوام کو ایلیٹ سے چھٹکارا ملا لیکن ایلیٹ اقتدار کے بغیر ماہی بے آب بنی ہوئی ہے اور اربوں روپے لگا کر عوام کی حمایت کے لیے جلسے کر رہی ہے جلوس نکال رہی ہے جس کا واحد مقصد دوبارہ اقتدار میں آنے کے سوا کچھ نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام ان پر توجہ نہ دیتے لیکن شاہ پرستی کے عادی عوام ان کے جلسوں میں ہجوم کر رہے ہیں اور ایلیٹ پھولے نہیں سما رہی ہے کہ عوام اب بھی اس کے ساتھ ہیں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو قوم کو اور پیچھے لے جائے گا۔

ایلیٹ کے شاہ اور شہنشاہوں پر اربوں کی کرپشن کے الزامات ہیں اور تاریخ میں پہلی بار ایلیٹ کا احتساب ہو رہا ہے ایلیٹ یعنی اشرافیہ کا واحد مقصد احتساب سے بچنا ہے اسی لیے وہ نیب کی مخالفت کر رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ ایلیٹ کے راجوں، مہاراجوں کے لیے جیلوں کے دروازے کھول دیے گئے ہیں اور انھیں پتا چل رہا ہے جیلیں کیا ہوتی ہیں لیکن اس کا توڑ ایلیٹ نے یہ نکال لیا ہے کہ بیمار بن کر جیل کی ان تکالیف سے بچ رہی ہے جو عوام غریب قیدیوں کا مقدر ہے۔ ایلیٹ اپنی اولاد کو آگے لا کر اپنی جگہ دلانے کی کوشش کر رہی ہے، مقصد صرف یہ ہے کہ اقتدار پر دوبارہ قبضہ کرلیا جائے۔

ہمارے عوام کی سائیکی اب تک شاہ پرستی سے نجات حاصل نہ کرسکی یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایلیٹ کے جلسے جلوس کامیاب ہو رہے ہیں عوام اپنی نادانستگی کی وجہ سے انھیں پال رہے ہیں۔ ہمارے ملک کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ غریب آدمی فاقوں پر گزارا کرتا ہے ایسے فاقہ زدہ عوام کو ایلیٹ خرید لیتی ہے یا کرائے پر اپنے جلسوں میں کھینچ لاتی ہے اور دنیا کو یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ اب بھی عوام میں مقبول ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ بعض ادارے کھل کر ایلیٹ کا ساتھ دے رہے ہیں یہ ایک ایسا المیہ ہے جو تاریخ میں ایک سیاہ باب بنا رہے گا۔لوٹ مار اور بددیانتی کا کلچر صرف پسماندہ ملکوں میں ہی نہیں ہے بلکہ امریکا جیسی سپرپاور میں بھی یہی حال ہے امریکا میں بھی انتخابات ہو چکے رزلٹ کے حوالے سے ٹرمپ یہ فرما رہے ہیں کہ ان کا حریف انتخابات پر بے تحاشہ ڈالر استعمال کر رہا ہے سرمایہ دارانہ جمہوریت جہاں جہاں ہے وہاں کرپشن ناگزیر ہے پاکستان بھی اسی نظام کا مارا ہوا ہے۔

بلتستان بھی ایک پسماندہ علاقہ ہے عام آدمی وہاں بھی دو وقت کی روٹی کا محتاج ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ایسے لوگوں کی بھرمار ہے جو ایلیٹ کے جلسوں جلوسوں کے لیے ٹھیکے پر عوام فراہم کرتے ہیں گلگت بلتستان بھی ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں عوام کو بیچنے والے موجود ہوں گے جب تک سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے دلال موجود ہیں کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے لیکن کراچی کے عوام میں شاہ پرستی ابھی بھی ہے۔

پچھلے دس سالوں میں ایلیٹ نے لوٹ مار کے ذریعے اربوں روپوں کے ڈھیر لگا لیے ہیں وہ ڈھیر اب استعمال ہو رہے ہیں ہمارے محترم اداروں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ جب تک لوٹ مار کی اس دولت کو برآمد نہیں کرلیتے لٹیروں کو انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیتے۔ ایلیٹ کے بھی ایجنٹ ہیں جو کرپشن سمیت ایلیٹ کی ہر بے ایمانی میں اس کی ایجنٹی اور مدد کرتے ہیں۔ عمران خان وہ پہلا حکمران ہے جس نے ایلیٹ پر ہاتھ ڈالا ہے اور آج عمران خان کے خلاف سارے ملک میں جھوٹے پروپیگنڈے کا جو طوفان اٹھایا گیا ہے یہ ایلیٹ ہی کی مہربانی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی اس حوالے سے سوچتا بھی نہیں کہ وہ بھی انتخابات لڑ سکتا ہے اور قانون ساز اداروں میں پہنچ کر عوام کے مفاد میں قانون بنا سکتا ہے لیکن چونکہ عوام الیکشن لڑنے اور اقتدار میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتے لہٰذا ایلیٹ دوبارہ اقتدار میں آنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔