گلگت بلتستان انتخابات کا پیغام

ایڈیٹوریل  منگل 17 نومبر 2020
گلگت بلتستان الیکشن میں عوام نے بعض خوشنما ٹرینڈ سیٹ کیے، ایک ملٹی لیٹرل انتخابی مہم چلانے کا ماڈل پیش کیا۔ فوٹو: فائل

گلگت بلتستان الیکشن میں عوام نے بعض خوشنما ٹرینڈ سیٹ کیے، ایک ملٹی لیٹرل انتخابی مہم چلانے کا ماڈل پیش کیا۔ فوٹو: فائل

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات مجموعی طور پر پرامن ماحول میں ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف کو10 نشستوں پر برتری حاصل رہی، ایک نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار جعفر شاہ کے انتقال کے سبب الیکشن ملتوی کر دیا گیا تھا، سیکیورٹی کے موثر انتظامات کیے گئے، پولنگ صبح 8 بجے شروع اور شام 5 بجے تک جاری رہی جہاں 4 خواتین سمیت 330 امیدوار مدمقابل تھے۔

7 نشستوں پر آزاد امیدوار جیتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی 3 جب کہ مسلم لیگ (ن) کے حصے میں صرف دو نشست آئی ہیں۔ اگر پولنگ پیٹرن کو دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کے عوام نے مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے حق میں رائے دی ہے، جو ان کی جانب سے جمہوری دھارے سے تسلسل کے ساتھ وابستگی کے ایک مثبت رجحان اور کمٹمنٹ کی بہترین عکاسی ہے، گلگت بلتستان کے عوام نے جمہوری شعور کا مثالی مظاہرہ اپنے بیلٹ کے ذریعے کیا ہے۔

سیاسی دانشوروں کا کہنا ہے کہ تمام تر سیاسی شور شرابے اور ہنگامہ خیز سیاسی تقریریں سننے پر بھی عوام نے ملکی صورتحال کے وسیع تر تناظر میں بالغ نظری پر مبنی انتخابی رائے کا شاندار مظاہرہ کیا ہے، اس لیے کہاوت ہے کہ عوام کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے، یہ انتخابات جذبات اور سنجیدہ فیصلہ کے بیچ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جس میں ووٹرز نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور ملک و قوم کو درپیش حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دوررس فیصلہ کیا اور قوم پرستانہ جذباتی ریلے میں بہنے سے گریز کیا ایسا فیصلہ کیا جس پر تاریخ بھی اپنی مہر تصدیق ثبت کر دیگی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن دھاندلی کا ثبوت نہ دے سکی، مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کا سحر نہ چل سکا۔

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کے دوران اپنی مہم جارحانہ انداز میں جاری رکھی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کے انتخابی پاور پلے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز نے ووٹرز تک اپنا پیغام موثر طریقے سے پہنچایا، گلگت بلتستان میں وہ مسلسل انتخابی مہم میں مصروف رہے، بعد میں پی ٹی آئی کے موسمی حالات بلاشبہ صبر آزما تھے، سردی اور برف باری کی شدت کے باوجود ووٹرز نے پولنگ بوتھس کا رخ کیا۔

سیاسی جماعتوں نے پری پول دھاندلی کے الزامات کا ٹمپو برقرار رکھا تاہم کہیں کہیں سست رفتار ووٹنگ کی شکایت کے باوجود بڑے پیمانے کی شکایات سے ووٹنگ معطل نہیں ہوئی، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے ایک پریس کانفرنس میں فافن کے مبصروں کی گنتی کے وقت پولنگ اسٹیشنز پر موجود رہنے پر اعتراض کی نشاندہی کی چنانچہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایسے واقعات کے ضمن میں کہا ہے کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے حتمی نتائج میں شاید دیر لگے مگر نتائج پولنگ ایجنٹوں کے سامنے بنائے جا رہے ہیں، جس فارم پر رزلٹ بنتا ہے۔

اس پر تمام پولنگ ایجنٹوں کے دستخط ہوتے ہیں ووٹر ہمارے اندازوں سے بھی زیادہ تعداد میں آئے۔ انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں صاف اور شفاف الیکشن ہوئے ہیں جس پر عوام بہت خوش ہیں، اگر کہیں دھاندلی ہوئی ہے تو انھیں بتایا جائے ورنہ امریکا جیسے ملک میں ٹرمپ بھی کہہ رہا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے گلگت حلقہ1 اور گلگت حلقہ 2 کے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا۔ چیف سیکریٹری محمد خرم آغا، سیکریٹری داخلہ، کمشنر گلگت ڈویژن عثمان احمد و دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

الیکشن کمشنر نے پرامن پولنگ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے بھی انتخابی عمل پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا۔ انتخابات کے موقع پر ایک ہزار141 پولنگ اسٹیشنز میں سے 297 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔ کورونا وائرس کے خطرات، شدید برف باری اور منفی 6 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلے۔ غذر میں پھنڈر میں برف باری کے دوران بھی پولنگ جاری رہی، جوانوں کے علاوہ بوڑھے بزرگ بھی پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچے، ایک90 سالہ بزرگ نے بھی ووٹ ڈالا۔ غذر کے علاقے شیر قلعہ میں ایک شہری ضعیف دادی کو پیٹھ پر اٹھا کر پولنگ اسٹیشن لایا۔ چند علاقوں میں پولنگ کا عمل تاخیر کا بھی شکار ہوا۔

ان میں چلاس، دیامر 16 ون کے پولنگ اسٹیشن تھک لوشی میں7 بوتھوں میں سے ایک پر عملہ موجود نہیں تھا۔ حلقہ 2 کشروٹ فاریسٹ پولنگ اسٹیشن پر پولنگ سست روی کا شکار رہی۔ تاہم مجموعی طور پر شدید سردی کے باوجود گلگت کے پولنگ اسٹیشنز میں لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ اسکردو میں عام لوگوں کے ساتھ مریضوں کو بھی ووٹ کاسٹ کرنے پولنگ اسٹیشنز لایا گیا۔

گلگت بلتستان کی عبوری حکومت کی جانب سے پولنگ کے عملے کے لیے فیس ماسک، دستانوں اور سینٹائزر پر مشتمل 8 ہزار بیگ بھی فراہم کیے گئے۔ پولنگ کے دوران سیکیورٹی کے لیے گلگت بلتستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

یہ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات ملکی سیاسی منظرنامہ میں ایک گرینڈ ریہرسل ثابت ہوئے ہیں، سیاسی جماعتوں نے جمہوری روایات کا اعادہ کیا، تند وتیز تقاریر کیں، ووٹرز کو اپنی طرف مائل کیا، گلگت بلتستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے دلفریب وعدے کیے لیکن اب جب کہ انتخابات کا ڈراپ سین ہوا ہے اور عوام اس بات کی بجا طور پر امید رکھتے ہیں کہ انتخابی دنگل کا جمہوری ٹمپو آیندہ ملکی انتخابات کے سیناریو میں بھی نظر آنا چاہیے۔

گلگت بلتستان الیکشن میں عوام نے بعض خوشنما ٹرینڈ سیٹ کیے، ایک ملٹی لیٹرل انتخابی مہم چلانے کا ماڈل پیش کیا، عوام نے مذہبی فرقہ وارانہ، مسلکی اور انتہا پسندانہ رجحانات کے پیش نظر اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا، جمہوریت اور علاقے کے سماجی، اقتصادی اور معاشی مفادات کو دیکھتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز پر رائے دی، اب ضرورت اسی بات کی ہے کہ مین اسٹریم سیاسی جماعتیں سسٹم کو استحکام بخشیں، جمہوریت اور رواداری کو ایک پیج پر رکھنے کی اپنے کارکنوں کی تربیت کریں۔

سیاسی کلچر کو الزام تراشی، بہتان طرازی، رعونت، تکبر، گالم گلوچ اور شعلہ بیانی سے پاک رکھیں، تدبر، استدلال، متانت اور شائستگی کی جمہوری سوچ سے قوم کو فیضیاب کریں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات کا خیال رکھیں کہ سیاسی تقاریر کو نصابی معیار اور مرتبہ عطا ہو، ہمارے پارلیمنٹیرینز میں بھی ایڈمنڈ برک جیسا فصیح و بلیغ مقرر پیدا ہو جو قانون سازی کی روایتوں کو بدل ڈالے، سیاستدانوں کو مدلل گفتگو اور جلسے میں انداز تکلم سے آگہی ملے، پارلیمنٹ کی بالادستی کی باتیں سبق آموز اور فکر انگیز بھی ہوں، وقت کا تقاضہ ہے کہ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے وقت ان باتوں کو پیش نظر رکھیں کہ ان کے جمہوری رویے ملک میں انتخابی شفافیت کو آگے بڑھانے میں ممد ومعاون ثابت ہوں۔

نئی نسل کی جمہوری تربیت ہر قسم کی نظریاتی و فکری آلائشوں سے پاک ہو، عوامی مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کی عملی اور فکری بنیاد کو مضبوط بنائیں، سیاسی کیڈر کو گراس روٹ لیول پر فروغ دیں، عوام سے قریبی رابطہ کو ثانوی عادت بنایا جائے، ووٹر ہمیں صرف اس وقت یاد نہ آئیں جب الیکشن سر پر ہوں، بلکہ جمہوریت کو عوام کی ہمہ وقت خدمت کا ذریعہ بنانے کے بعد ہی قوم ایک نئے جمہوری عہد کے سورج کو طلوع ہوتا دیکھے گی۔ حکومت عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز کرے، مہنگائی کو کنٹرول کرے، جو بے قابو ہوئی جاتی ہے، لوگ روزمرہ کی سبزی خریدنے کی استطاعت سے محروم ہیں، گھر کی دیواروں پر دھمال ڈال رہی ہے، عالم پناہ ! مہنگائی پروپیگنڈا نہیں ہے۔

بلاشبہ چیف الیکشن کمشنر اور ان کی ٹیم جمہوری قافلے کی رہبری کرتی ہے، الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمے داری شفاف انتخابات کا انعقاد ہے اور اسی انتخابی عمل کا ایک شفاف انتخابی نظام ہی ضمانت دیتا ہے، ایک بااختیار الیکشن کمیشن جمہوریت کی روح ہے جب کہ ہر دباؤ، ترغیب اور خوف سے بالاتر چیف الیکشن کمشنر ہی ملک کو منصفانہ انتخابی نظام کی سوغات دینے کی طاقت رکھتا ہے۔

گلگت بلتستان کے الیکشن سے سیاستدانوں کو ذہن سازی کا یہ موقع اور تجربہ بھی ملا کہ سیاسی جلسے محض وقتی تماشا میلہ اور پولیٹیکل شو نہیں ہوتے، یہ ڈرامہ بازی بھی نہیں بلکہ زندگی اور سماج سے متعلق تلخ زمینی حقائق کا سیاسی بیانیہ ہے جسے سیاستدان بیان کر رہے ہوتے ہیں، شرکائے جلسہ کا کام ان تقاریر میں مضمر پیغام کو دل میں بسانے کا ہوتا ہے، اس الجھن میں پڑنے کی ضرورت نہیں جس کا اشارہ عارف افتخار نے اپنے اس شعر میں کیا ہے:

کہانی آپ اُلجھی ہے کہ اُلجھائی گئی ہے

یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا

گلگت بلتستان اسمبلی کے اس مرتبہ ہونے والے ان انتخابات کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کہ اس میں حکومتی وزراء کے علاوہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے جارحانہ مہم چلائی، یہ انتخابات بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے لیے ٹیسٹ کیس تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی گلگت بلتستان کے یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور علاقے کو جلد صوبائی حیثیت دینے کا اعلان کیا۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو نے مسلسل کئی انتخابی مہمیں چلائیں، پی ٹی آئی کے علی امین گنڈا پور اور مراد سعید نے جلسوں سے خطاب کیا، ماحول کو گرمایا مگر فیصلہ گلگت بلتستان کے ووٹرز کو کرنا تھا اور انھوں نے اپنا فیصلہ پوری شفافیت کے ساتھ قوم کے سامنے پیش کیا۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔