دلچسپ بیماری

ظہیر اختر بیدری  منگل 17 نومبر 2020
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ملک ایک انتہائی نازک اور غیر یقینی دور سے گزر رہا ہے جمہوریت کی پوجا کرنے والے عشروں سے جمہوریت کو اپنے سیاسی مفادات کے حصار میں قید کر چکے ہیں۔

سابقہ دہائیوں پر مشتمل اشرافیہ کا اقتدار اب ان سے چھن گیا ہے اس تبدیلی نے انھیں اس قدر خوف زدہ کر رکھا ہے کہ اس خوف کو ذہن سے ہٹانے کے لیے اشرافیہ کے شہزادے شہزادیاں حکومت اور وزیر اعظم حکمرانوں کی مخالفت کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں رکھتیں، اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن کا اصرار صرف ایک بات پر ہے کہ عمران حکومت اقتدار سے نکل جائے۔

اسی حوالے سے اپوزیشن میڈیا کا ایک ایسا جمگھٹا بنا دیا گیا ہے جس کو آزادی دی گئی ہے کہ وہ حکومت خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف جتنا ہو سکے غلط صحیح کی تمیز کے بغیر ایسا پروپیگنڈا کرے کہ عوام میں ان کا امیج خراب ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایسی  زبان استعمال کی جا رہی ہے جس کا سیاسی اخلاقیات سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ یہ کیفیت اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ  اپوزیشن مایوسی کا شکار ہو گئی ہے ۔  بعض سیاسی رہنما  ایسی کیفیت میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ انھیں یہ بھی احساس نہیں رہا کہ اخلاقی حدود کہاں ختم ہوتی ہے اور  کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اب دوبارہ حکومت میں آنے کے نہ صرف امکانات ختم ہوگئے ہیں بلکہ ’’شرفا‘‘  خطرناک کیسوں میں پھنسے ہیں۔ مایوسی کی اس کیفیت میں اپوزیشن کو یہ خیال بھی نہیں رہا کہ اب ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ اور وہ اس مضبوط جال سے کس طرح باہر نکل سکتے ہیں؟ اس فرسٹریشن میں ان کو یہ بھی سمجھ میں نہیں آرہا کہ انھیں اپنی سیاست کا کہاں سے آغاز کرنا چاہیے؟

اس حوالے سے ایک منطقی بات یہ ہے کہ موجودہ عمران حکومت کو اقتدار میں آئے اب دو سال ہو رہے ہیں آئین کے حوالے سے عمران حکومت کو ابھی تین سال اقتدار میں رہنے کا حق ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن عمرانی اقتدار ہی کو نہیں مانتی۔ اس کا کہنا ہے اس سلیکٹڈ حکومت کو اب ایک دن بھی اقتدار میں رہنے کا حق نہیں۔ مشکل یہ ہے کہ عمران حکومت میں بھی ایسے رہنما نہیں ہیں جو اپوزیشن کو اس کی تنقید کا اسی لہجے، اسی زبان میں جواب دیں جس میں اپوزیشن بات کر رہی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ 72 سال سے اس ملک میں ایسی جمہوریت ایک دن کے لیے بھی نہیں آئی جس میں فیصلوں کا اختیار عوام کے ہاتھوں میں رہا ہو۔ اشرافیہ مغرب کی متعارف کردہ اس نیابتی جمہوریت کے پاؤں پکڑے ہوئے ہے جس میں جمہوری اختیار عوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہے بس سیاسی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر ملک میں لوٹ مار کے ایک ایسے کلچر کو فروغ دیا ہے جس میں اشرافیہ کا سارا وقت لوٹ مار میں گزرتا ہے۔ آج نہ صرف پاکستان کے کونے کونے بلکہ ساری دنیا میں پچھلی حکومتیں اس قدر بدنام ہو گئی ہیں کہ اب عوام میں جانا ان کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔غیر جمہوری گود میں پلے ہوئے ہمارے سیاسی لیڈر آج ہر طرف سے مایوس ہوکر اپنا غصہ غیر جمہوری قوتوں پر اتار رہے ہیں۔

اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر اپوزیشن حکومت کو مزید تین سال حکومت کرنے کا موقعہ دیتی ہے تو عمران حکومت عوام کے بعض اہم مسائل جن میں مہنگائی سرفہرست ہے حل کرکے اپنے پاؤں مضبوط کر لے گی اور جب سیاستدانوں کو اس حقیقت کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ عمران حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے جا رہی ہے تو ہماری جمہوریت نواز حکومت کو گرانے کے نئے نئے بہانے ڈھونڈے گی اور چونکہ  کرپشن میں لوٹی ہوئی دولت اپوزیشن کے پاس جو بھاری مقدار میں ہے اس کا استعمال کرکے اور غلط ایلیمنٹ کو استعمال کرکے ملک میں ہنگامی صورتحال پیدا کر دے گی کہ حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایک جمہوری ملک میں آئین کے مطابق مقررہ وقت پر الیکشن ہونا چاہیے یا اپوزیشن کی مرضی کے مطابق انتخابی شیڈول تیار کیا جانا چاہیے؟ اس سوال کا جواب آئینی حوالے سے یہ ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن کی تاریخ مقرر کی جانی چاہیے لیکن ہماری اپوزیشن اپنی مرضی کے مطابق الیکشن کرانا چاہتی ہے۔

یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ ایک اپوزیشن آئین کے مطابق الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کے بجائے اپنی مرضی کے مطابق الیکشن کی تاریخ مقرر کرنا چاہتی ہے جو عام طور پر کسی جمہوری ملک میں نہیں ہوتا۔ ہماری عدالت عظمیٰ اس حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اپوزیشن رہنما اور ملک کے سابق وزیر اعظم کو دس سال کی قید سنائی گئی ہے۔

اور وہ علاج کے بہانے برطانیہ میں مقیم ہیں یہ کیسی بیماری ہے کہ بیمار نہ صرف سیاسی فیصلے کر رہا ہے بلکہ برطانیہ کے شہر لندن میں اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار رہا ہے جو پاکستان اور برطانیہ کے علم میں ہے۔ کیا ایک دس سال کی سزا پانے والے قیدی کو اتنی آزادی دی جاسکتی ہے کہ وہ لندن میں بیٹھ کر اپنی پارٹی کی رہنمائی کرے۔ برطانیہ ایک جمہوری ملک ہے کیا ایک دس سال کی سزا بھگتنے والے قیدی کو پارٹی کی قیادت کا حق حاصل ہے، کیا یہ رویہ برطانوی قانون کے مطابق ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔