یہ رشتے بوجھ کیوں بنتے جا رہے ہیں ۔۔۔؟

لبنیٰ مقبول  منگل 17 نومبر 2020
رشتوں میں یہ جھجھک کب پیدا ہوتی ہے۔ بچے جب بڑے ہوتے جاتے ہیں، تو والدین سے جھجھکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

رشتوں میں یہ جھجھک کب پیدا ہوتی ہے۔ بچے جب بڑے ہوتے جاتے ہیں، تو والدین سے جھجھکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ہم میں سے کم و بیش ہر ایک کو آئے روز ’’تم بدل گئے‘‘ کے شکوے سے واسطہ پڑ رہا ہوتا ہے۔ اور ہم چاہ کر بھی اس کا جواز نہیں دے پاتے کہ یہ وضاحتیں تسلیم اور سمجھی بھی تو نہیں جاتیں۔

یہی نہیں بل کہ ان وضاحتوں کو عادت اور روز کا بہانہ بتا کر رد کردیا جاتا ہے، نتیجہ یہ کہ فاصلے بڑھتے چلے جاتے اور خلیج گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ اور پھر ان شکوؤں کو اک دوجے کو سمجھا دینا دور جدید میں اب اتنا آسان بھی نہیں رہا۔ اور پھر  رشتوں کی یہ نازک سی ڈور کچھ ہی عرصے میں بُری طرح الجھ کر رہ جاتی ہے، اور اگر خوش نصیبی سے یہ ڈور سلجھ بھی جائے اور گرہیں کُھل بھی جائیں، تب بھی اپنے نشانات چھوڑ جاتی ہیں۔

تعلقات اور رشتے نبھانا جتنا مشکل آج کی مشینی زندگی میں ہوگیا ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھا۔ آج کل زندگی جس طرح تیز گامی سے چل رہی ہے،  تعلق میں دراڑیں یہیں سے پیدا ہوتی ہیں۔ تعلق بوجھ بننے لگتے ہیں۔ دوریاں بڑھنے لگتی ہیں۔ راستہ ایک ہوتے ہوئے بھی قدم ہم قدم نہیں رہتے۔ وہ سوچ، دراصل اکثر بدگمانی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

دونوں فریقین میں خلوص بھی وہی رہتا ہے، لیکن ساتھ پیدا ہونے والی بدگمانی کے ساتھ دلوں میں چھوٹی چھوٹی رنجشیں بھی پروان چڑھ رہی ہوتی ہیں اور پھر نتیجتاً نیت پر شک کا بیج اپنا قد نکالنے لگتا ہے۔ ہر بات ایک دوسرے کو بتا دینے کی جلدی اور خوشی میں آہستہ آہستہ جھجھک شامل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ جھجھک جس کو بہت پہلے جتنی تیزی سے ختم کر کے یقین کی منازل طے کی تھیں، وہی جھجھک واپسی کا راستہ بوجھل قدموں سے طے کرتی ہوئی ہر قدم  پر بے ساختگی، جوش، اور وارفتگی کو دفن کرتے اختتام کی جانب لوٹ رہی ہوتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رشتوں میں یہ جھجھک کب پیدا ہوتی ہے۔ بچے جب بڑے ہوتے جاتے ہیں، تو والدین سے جھجھکتے ہیں، بہن بھائیوں میں غیرمحسوس طریقے سے کچھ دوری پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ روزمرہ کے معمولات اور کبھی ذاتی مفادات بھی ہر چیز پر حاوی ہو جاتی ہے۔ ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ اور ان سب کا اثر بالواسطہ یا بلاواسطہ رشتوں پر پڑتا ہے۔

یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم دوسرے کو ’’اسپیس‘‘ دینا ختم کر دیتے ہیں اور ساری توجہ صرف اپنی ذات پر مرکوز کرتے ہوئے دوسرے فریق کی خواہشات، ضروریات اور ترجیحات کو عملی طور پر ناقابل قبول بنا دیتے ہیں۔

ازدواجی زندگی میں بوجھل پن اور وارفتگی میں کمی آنے کی اکثر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے پر اپنا استحقاق زیادہ سے زیادہ جمانے کی کوشش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ شوہر، بیوی اور اس سے وابستہ چیزوں، باتوں حتیٰ کہ رشتوں تک میں بے جا مداخلت شروع کر دیتے ہیں۔

شوہر حضرات کی طرح بیویاں بھی کچھ کم پیچھے نہیں رہتیں اور وہ اپنے شوہروں کے معمولات اور معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرنے اور نظر رکھنے کی فکر میں اپنے اس خوب صورت مگر نازک رشتے کو ایک اذیت  بنا لیتی ہیں۔ نتیجتاً اس رشتے میں گھٹن آنا شروع ہو جاتی ہے۔ فریقین پہلے تو وضاحتیں دیتے ہیں، پھر کچھ معاملات کو چھپانا شروع کر دیتے ہیں اور جب مصلحتاً معاملات چھپائے جاتے ہیں، تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ رشتہ غیر متوازن ہونے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

زندگی میں رشتوں کی حقیقت ایسی ہے جییسے مدار میں حرکت کرتے ہوئے سیارے۔ جب تک زندگی میں سانسوں کی ڈور ہے ، یہ رشتے اس مدار میں مرکز کی کشش کے ساتھ اپنے دائروں میں چلتے رہتے ہیں۔ ان رشتوں کو بدلا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس مدار سے باہر نکلا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا کیا جائے، تو پورا نظام ہی برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔

یہی نظامِِ قدرت ہے اور اس سے فرار ممکن نہیں۔ تو جب ان ہی رشتوں کے ساتھ رہنا ہے تو کیوں نہ تحمل، درگزر، بردباری اور رواداری سے ان رشتوں کو ایسے نبھایا جائے کہ یہی رشتے زندگی کو گل و گل زار بنا دیں۔ بہ جائے اس کے کہ یہ رشتے فریقین میں تکلیف کا باعث بنیں۔ محبتوں میں ایثار اور میانہ روی اختیار کر کے محبتوں کو اَمر کیا جا سکتا ہے۔ زندگی کے یہ رشتے بہت خوب صورت ہوتے ہیں۔ لیکن ان رشتوں کو سمجھ داری سے خوب صورت بنائے رکھنا ہی ان رشتوں کے حسن کو دوآتشہ کرتا  ہے۔ ایک دوسرے کی پسند، ناپسند، احساسات و جذبات کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا بہت ضروری ہے۔

’’تبدیلی‘‘ کائنات کا ایک خوب صورت حصہ ہے، بہ شرطے کہ یہ مثبت ہو۔ دورِِ حاضر کی دوڑتی بھاگتی زندگی میں سب ہی کچھ لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ جو پہلے تھا وہ اب نہیں، جو اب ہے ویسا کل نہیں ہوگا۔ تو زندگی میں اس تبدیلی کو فراخ دلی سے تسلیم کرتے ہوئے زندگی اور رشتوں کے ہم قدم ہو کر چلنا ہی عقل مندی ہے۔

شروع سے ہم سنتے آئے ہیں کہ اپنے سے منسلک رشتوں کو وقت دینا چاہیے، لیکن آج کل کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں بالکل اسی طرح اپنے سے قریبی ان رشتوں کو کچھ رعایت یا ’’اسپیس‘‘ دینا ضروری خیال کیا جانے لگا ہے۔ اور ان رشتوں سے ذرا سا فاصلہ اختیار کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ساتھ ساتھ خود کو بھی وقت دیجیے، ورنہ یقین کریں، وارفتگی کو بے زاری میں بدلتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ یہ رشتے جتنے مضبوط ہوتے ہیں، اتنے ہی نازک بھی ہوتے ہیں۔ توجہ میں کمی کے علاوہ توجہ کی زیادتی سے بھی یہ رشتے متاثر ہونے لگتے ہیں۔۔۔!

جب ہم ان رشتوں سے ذرا فاصلے کی بات کرتے ہیں، تو اس کا  قطعی طور پر یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ رشتوں یا آپس کے تعلقات میں دوری یا لاتعلقی پیدا کر لی جائے، بلکہ ’اسپیس‘ دینے کا مطلب ایک دوسرے کا خیال کرتے ہوئے، محبت اور اپنائیت سے پیش آنا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ان رشتوں کو سمجھا جائے اور فریقین ایک دوسرے کے مزاج کے مطابق ردعمل دیں۔ یہاں یہ بات بھی سمجھنا اہم ہے کہ ہر شخص کی ضروریات اور ترجیحات کی بنیاد پر ’اسپیس‘ کی تشریح الگ بھی ہوتی ہے۔ کوئی کم ’اسپیس‘ میں خوش ہو جاتا ہے، تو کسی کو زیادہ ’اسپیس‘ کی چاہ ہوتی ہے۔

بعض شریک حیات پر، ملنے والے اس ’اسپیس‘ کے بعد بہت نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا ہے، وہ پہلے سے زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں، ان کی اداسی اور یاسیت کہیں دور بھاگ جاتی ہے اور وہ چاق و چوبند ہو کر بھرپور انداز میں معمولاتِ زندگی میں حصہ لیتے ہیں۔ نتیجتاً ازدواجی زندگی میں بھی ایک مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔

میاں بیوی دن کے 24 گھنٹے، ہفتے کے سات دن، ساری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے ہیں۔ ایسے میں اگر شوہر یا بیوی کچھ وقت خود اپنے ساتھ اپنی مرضی سے رہنا چاہتی ہے، یا اپنے گھر والوں کے ساتھ کچھ وقت الگ سے گزارنا چاہتی ہے، تو یہ اس کا حق ہے، اس حق کو اَنا کا مسئلہ بنا لینا بالکل مناسب نہیں۔ اسی طرح شوہر کو کچھ وقت اپنے دوستوں یا اہل خانہ کے ساتھ گزارنا اچھا لگ رہا ہے، تو بیوی کو یہ سب خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے، کیوں کہ شوہر کا دوستوں کے ساتھ گزارا جانے والا کچھ اچھا وقت جب طبیعت میں خوش گوار تبدیلی لاتا ہے، تو اس کے اثرات ازدواجی زندگی پر بھی نظر آتے ہیں۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق آپ بہ حیثیت جیون ساتھی اپنے شریک حیات کے لیے پوری دنیا اور ہر رشتے کا مکمّل متبادل نہیں ہو سکتے، نہ ہی تمام رشتوں کی کمی پورا کر سکتے ہیں، تو اس رشتے کے ساتھ بھرپور انصاف کیجیے۔ اس طرح اپنی پوری توانائی اس رشتے کو بہترین انداز میں دینے سے آپ زیادہ بہتر محسوس کرتے ہوئے اپنے تعلقات کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپس میں ذہنی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد مزید بڑھ جاتا ہے۔ محبت اور اپنائیت پنپتی ہے۔ ایک دوسرے کی خواہشات کا احترام اور وقت دینے سے یہ رشتے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔

ازدواجیات سے وابستہ نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا شریکِ سفر آپ سے کچھ وقت خود اپنے ساتھ گزارنے کے لیے طلب کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ سے الگ ہونے یا دور ہونے کی بات کر رہا ہے یا یہ اس رشتے کے اختتام کا آغاز ہے، بلکہ وہ اس یک سانیت یا وقتی گھٹن سے باہر نکلنا چاہتا ہے، تو ایسا کرنے میں اس کی مدد کریں، نہ کہ اس کے اندر پیدا ہونے والی گھٹن میں اضافہ کریں۔ ماہرین کے نزدیک ایک دوسرے کو دیا جانے والا فاصلہ یا وقت اس رشتے کو آکسیجن فراہم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے مزید نزدیک لانے کا سبب بنتا ہے۔

مشہور ماہر نفسیات اور رائٹر جون ایکن کہتے ہیں: ’’میاں بیوی کو اپنے اس رشتے میں ایک فاصلے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ گھٹن کا شکار نہ ہوں کچھ وقت ایک دوسرے سے دور اپنے انداز میں گزارنا بالکل صحت مندانہ ہے اور ان کے رشتے میں تازگی لاتا ہے۔‘‘ اگر آپ کا جیون ساتھی آپ سے کچھ وقتی دوری چاہتا ہے تو اس کا مطلب مکمل دوری نہیں ہے۔ یہ دوری کچھ خاص معاملات میں ہو سکتی ہے اور اس پر دونوں بات کر سکتے ہیں تاکہ یہ واضح رہے کہ یہ ’اسپیس‘ کن جگہوں پر موثر رہے گا۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق اس کا مطلب خدانخواستہ ایک دوسرے سے علاحدگی نہیں، بلکہ کچھ معاملات میں اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق زندگی گزارنا ہے جہاں دوسرے شریک حیات کا کوئی عمل دخل نہ ہو اور یہ فطری اور جائز حق ہے۔ اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ البتہ پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب اس خواہش کو غلط طریقے سے سمجھا جائے اور غلط ہی ردعمل دیا جائے، کیوں کہ اس سارے معاملے میں غلط ردعمل ہی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک اچھا اور مثبت ردعمل رشتے کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔

اس میں سب سے عمدہ بات یہ ہوتی ہے کہ شریک حیات اپنے بنیادی معمولات و معاملات میں فرق نہیں آنے دیتے اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ بات چیت کرتے ہیں اور عام معاملات پر گفتگو بھی کرتے ہیں اور ثابت قدمی سے اپنے ساتھی کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں۔ یہی وقت دراصل مزاج کی ہم آہنگی کا امتحان ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر قریبی رشتے یا دوست احباب اپنے معمولات کی وجہ سے پہلا جیسا وقت نہیں دے پا رہے، تو اس بات کو سمجھتے ہوئے مثبت رہنے کی ضرورت ہے نہ کہ برا منا کر اور اٹھے بیٹھے جتا جتا کر جینا حرام کر دیا جائے۔ جتنا وقت ملتا ہے اس کو بہترین بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ گلے شکوے کر کے دل کے دروازے آہستہ آہستہ بند کرتے ہوئے اس پر قفل لگانا شروع ہو جائیں۔ بعض اوقات معمولی گلے شکوے بڑی رنجشیں پیدا کر جاتے ہیں۔ اس وقت جب سامنے والا آپ کی بات یا وضاحت سمجھنے سے قاصر ہو تو اس وقت رک جانا بہترین حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ سارے فیصلے اور گلے شکوے اسی وقت کر لیے جائیں۔ بعض اوقات کچھ گھنٹوں یا کچھ دنوں اس ماحول یا موضوع سے ہٹ جانا دونوں فریقین کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔

ان رشتوں میں ’اسپیس‘ دیے جانے کا عمل ان کے لیے آکسیجن کی طرح کا کام کرتا ہے، لہٰذا اپنے پارٹنر اور قریبی رشتوں کو ان کی خواہش کے عین مطابق اسپیس لینے دیں۔ انہیں ان کے حساب سے زندہ رہنے میں مدد دیں۔ اچھے تعلقات اور رشتے حادثاتی طور پر نہیں بنتے، بلکہ ان کو نبھانے کے لیے بھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر ایک کو اپنی زندگی میں یہ بنیادی منصوبہ بندی کرنے کا ہنر آنا چاہیے، تاکہ رشتے مضبوط ہوں۔ قریبی رشتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک دوسرے پر اپنے تجربات اور مشاہدات کا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں، سامنے والے کو بھی زندگی اپنے تجربات اور مشاہدات کے حساب سے گزارنے کا اتنا ہی حق ہے، جتنا آپ کو ملا ہے۔

آخر میں یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ اگر آپ کو، آپ کی خواہشات، مزاج اور روٹین کی تبدیلی کے احترام میں اسپیس دیا جا رہا ہے، تو اس کو اپنا حق نہ سمجھ لیا جائے، بلکہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان قریبی رشتوں کا بھی ویسا ہی خیال کیا جائے۔ غلط فہمی اور کدورتیں دل میں رکھ کر زندگی کا سفر بہت مشکل، طویل اور بوجھل ہو جاتا ہے۔ محبت، انکساری اور خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کا خیال اور خواہشات کا احترام کرتے ہوئے جتنا بھی چلیں، بھر پور اور خوش اسلوبی سے چلیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔