پنجاب میں لاوارث بچوں کے تحفظ کے ایکٹ کے قواعد وضوابط منظور

آصف محمود  منگل 17 نومبر 2020
چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو ریگولٹری اتھارٹی کا درجہ مل گیا فوٹو: فائل

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو ریگولٹری اتھارٹی کا درجہ مل گیا فوٹو: فائل

 لاہور:  

پنجاب کابینہ نے لاوارث اور بے سہارابچوں کے تحفظ کے ایکٹ کے قواعد وضوابط کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب کی چیئرپرسن سارہ احمد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبائی کابینہ نے لاوارث اوربے سہارا بچوں کے تحفظ کا ایکٹ 2004 ترمیم شدہ 2017 کے رولزاینڈریگولیشنز کی منظوری دے دی ہے۔ قواعد وضوابط کی منظوری کافی عرصہ سے تاخیر کا شکار تھی تاہم انہوں نے چائلڈپروٹیکشن اینڈ ویلیفیئر بیورو کے گزشتہ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب سے خصوصی طور پر رولز کی منظوری کی درخواست کی تھی جس پر کابینہ نے قواعد کی منظوری دے دی ہے۔

چائلڈپروٹیکشن اینڈویلیفیئر بیوروایکٹ ترمیم شدہ 2017 کے رولز کی منظوری کے بعد اب چائلڈپروٹیکشن بیورو کو ریگولٹری اتھارٹی کا درجہ مل گیا ہے۔ سارہ احمد کہتی ہیں اب پنجاب میں جتنے بھی ادارے ، این جی اوز لاوارث اوربے سہارا بچوں کی دیکھ بھال، ان کی پرورش ،تعلیم اورصحت کے حوالے سے کام کررہی ہیں ان کی مانیٹرنگ کی جاسکے گی جب کہ ان این جی اوز اور اداروں کو محکمہ داخلہ، سوشل ویلفیئر کے علاوہ اب چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ساتھ بھی الحاق کرنا ہوگا۔

سارہ احمد نے بتایا کہ اب ہم ان اداروں کی کارکردگی کی جانچ کرسکیں گے کہ وہاں بچوں کوکیاسہولیات دی جارہی ہیں، ان کی صحت، تعلیم سے متعلق ایس اوپیز کیاہیں ۔ اسی طرح یہ ادارے اپنے پاس موجود بچوں کا ڈیٹا بھی چائلڈپروٹیکشن بیورو کے ساتھ شیئر کریں گی۔ خاص طورپرنوزائیدہ لاوارث بچوں کو تحویل میں رکھنے اوریا ان بچوں کو گود دینے سے متعلق بھی چائلڈپروٹیکشن بیورو کے ایس او پیز کوفالوکیاجائیگا

واضع رہے کہ پنجاب میں اس وقت ایدھی فاؤنڈیشن، ایس اوایس ویلیج، آغوش اوردالشفقت سمیت درجنوں ادارے اوراین جی اوز لاوارث بچوں کے حقوق کے تحفظ، ان کی تعلیم، صحت اورانہیں رہائش فراہم کرنے کے حوالے سے کام کررہے ہیں لیکن ان کے پاس کتنے بچے ہیں اوروہ بچے کہاں سے آئے اس سے متعلق کوئی اعدادوشمار کسی حکومتی ادارے کے پاس نہیں ہیں۔

بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنیوالے بعض اداروں کو شبہ ہے کہ لاوارث اور ٹھکرائے ہوئے بچوں کو شیلٹر فراہم کرنے والے بعض ادارے ان بچوں کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہیں جبکہ یہ ادارے جس بچے کو چاہے کسی کو بھی گود دے سکتے ہیں، اس حوالے سے ان اداروں کے اپنے قانون اور ضابطے ہیں ،یہ امر بچوں کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے۔

سارہ احمد کہتی ہیں کہ اس قانون کے بعد اب کوئی بھی ادارہ اوراین جی او کسی بھی لاوارث اور بے سہارا بچے کو عدالتی اجازت کے بغیر گود نہیں دے سکے گی۔ بچوں کی اڈاپشن کے حوالے سے وہی قاعدہ قانون اختیار کرنا ہوگا جو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ہاں رائج ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔