پارلیمانی رابطوں کے فروغ کی ضرورت

ایڈیٹوریل  بدھ 25 دسمبر 2013
برصغیر میں پائیدار امن اورعوام کی ترقی و خوشحالی کیلئےامن کا انحصار ہی دونوں ملکوں کے عوام اور منتخب نمایندوں کے مابین تعلقات اور رابطوں کی آزادی میں مضمر ہے۔ فوٹو: آن لائن

برصغیر میں پائیدار امن اورعوام کی ترقی و خوشحالی کیلئےامن کا انحصار ہی دونوں ملکوں کے عوام اور منتخب نمایندوں کے مابین تعلقات اور رابطوں کی آزادی میں مضمر ہے۔ فوٹو: آن لائن

پاکستان اوربھارت کے اسپیکرز نے اس امرپراتفاق کیاہے کہ دونوں ممالک جنوبی ایشیامیں پائیدارامن کے قیام اورتعلقات کومزیدمستحکم بنانے کے لیے پارلیمانی رابطوں کو فروغ دیں گے۔یہ اتفاق دونوں اسپیکرزکے درمیان مالدیپ میں ہونے والی ساتویں سارک اسپیکرزکانفرنس کے دوران ایک ملاقات میںہواجس میں قومی اسمبلی پاکستان کے اسپیکرسردارایاز صادق اوربھارت سے لوک سبھاکی اسپیکرمیراکمارسمیت دونوں ملکوں کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی ۔

برصغیر میں پائیدار امن اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے امن کا انحصار ہی دونوں ملکوں کے عوام اور منتخب نمایندوں کے مابین تعلقات اور رابطوں کی آزادی میں مضمر ہے ، جنوبی ایشیا کو ضرورت امن اور آسودگی کی ہے جس میں پارلیمانی رابطوں سے مفاہمت ،خیر سگالی اور رواداری کو نہ صرف فروغ ملے گا بلکہ پارلیمانی وفود اور نمایندوں کے سرکردہ گروپوں کے دورے کافی مفید ثابت ہوسکتے ہیں ، جس سے کشیدگی کم ہوسکتی ہے اور خطے میں تجارت، دو طرفہ تعلقات کے استحکام کی سمت نتیجہ خیز پیش رفت ممکن ہے، تاہم اس کے لیے کمٹمنٹ کا ہونا ضروری ہے۔ سردارایازصادق نے درست کہاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کوغربت،ناخواندگی اور متعددموذی بیماریوں جیسے بڑی چیلنجوں کاسامناہے۔ اس لیے دونوں ممالک اپنے وسائل دیگرامورپرخرچ کرنے کے بجائے ان اہم عوامی مسائل کوحل کرنے کے لیے خرچ کریں۔ لوک سبھاکی اسپیکرمیراکمار کا کہنا تھا کہ دوستوں کاانتخاب توکرسکتے ہیں مگراپنی مرضی سے ہمسایوں کاانتخاب نہیں کیاجاسکتا اگر مجھ سمیت میرے ہم وطنوں کواس بات کااختیاردیاجائے کہ وہ اپنی مرضی کاہمسایہ چنیں ،تویقیناً ہمارا انتخاب پاکستان ہی ہوگا ۔

انھوں نے کہاکہ منتخب نمایندوں کی ذمے داری ہے کہ وہ بامعنی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں اپناکردارادا کریں ۔ بلاشبہ پارلیمانی رہنمائوں کے مابین جن خیالات کا تبادلہ ہوا اس سے امن کے امکانات روشن ہوتے نظر آئے،اس میں شک نہیں کہ مستحکم جمہوریت، موثرسیاسی نمایندگی کے ذریعے بلاتفریق مساوی،سماجی ومعاشی مواقعوںکویقینی بناتے ہوئے صنفی امتیازات کوختم کیا جاسکتا ہے اورکسی بھی ملک میںمنصفانہ اور پائیدارترقی کوجمہوریت کے ذریعے ممکن بنایاجاسکتاہے۔ اسپیکرز نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مفید تجاویز اور سفارشات پیش کیں اور پاک بھارت تعلقات میں مثبت پیش رفت کے لیے جن خیالات کا اظہار کیا وہ اب عملی اقدامات کے متقاضی ہیں، پاک بھارت اسپیکرز نے خطے کی صورتحال کا عالمانہ جائزہ لیا ہے اور دہشتگردی،معاشی بد حالی اورسیاسی کھینچاتانی جیسے سنگین چیلنجوںکے خاتمے کے ضمن میں جمہوری اداروں کومستحکم بنا کردوستی اورتعاون کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس انداز نظر پیش کیاہے۔ضرورت اب اس پر عملدرآمد کی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔