کھوٹے سکوں کے راج میں

عبدالقادر حسن  بدھ 25 دسمبر 2013
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

برصغیر کی اس زمین پر ہماری غلامی کو ڈیڑھ سو برس سے کچھ اوپر کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس میں ہماری آزادی کے 66 برس بھی شامل ہیں لیکن ہماری یعنی عوام کی غلامی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ شعبہ عمرانیات اور انسانی مزاج کے شناسا دانشور بتاتے ہیں کہ ابھی غلامی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور کوئی پیغمبری صفات کا مالک ہی اس قوم کو غلامی کی اس قدیم رسوائی سے نجات دلائے گا۔ تاریخ بڑی کھلی اور واضح ہے۔ 1857میں بیرونی ملک سے آنے والے انگریزوں کا غلبہ شروع ہوا۔ انگریز 1947میں واپس چلے گئے اور دو ملک وجود میں آ گئے بھارت اور پاکستان۔ بھارت لاتعداد رنگ و نسل اور مزاج کے لوگوں کا ایک ملک تھا لیکن پاکستان مسلمانوں کا ملک تھا۔ ایک ایمان اور ایک خدا والوں کا ملک۔

خیال تھا کہ غیر ملکی آقاؤں کے چلے جانے کے بعد پاکستان مسلمانوں کے ایک آزاد ملک کی صورت میں سامنے آئے گا۔ تکنیکی اعتبار سے تو پاکستان ایک آزاد ملک اور اقوام متحدہ کا رکن تھا لیکن اس ملک کے حکمرانوں کے مزاج میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، آزادی کا جذبہ بھی نہیں تھا چنانچہ 1947 کی اس رسمی و سرکاری آزادی کے باوجود یہ ملک اس غلامی سے نجات نہ پا سکا جس میں وہ صدی ڈیڑھ صدی سے پھنسا ہوا تھا البتہ اس کے حکمران بدلتے رہے اور یہ وہ لوگ تھے جو اس کے بانی کے الفاظ میں کھوٹے سکے تھے۔ قائد پاکستان کے یہ الفاظ الہامی تھے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری جیب میں اب تک ایک کے بعد دوسرے کھوٹے سکے جمع ہو رہے ہیں۔ یہ کھوٹے سکے وہ تھے جو انگریزوں کی غلامی میں ڈھالے گئے تھے۔ انگریزوں کے بنائے ہوئے جاگیرداروں اور ان جاگیرداروں کے کارندے اور افسر شاہی کے ملازمین جو اپنے آپ کو انگریزی حکمرانوں کے جانشین سمجھتے تھے اور جن کی مدد سے انگریزوں کی حکومت چلتی تھی۔

یہ سب وہ کھوٹے سکے تھے جن کا ہمارے قائد نے ذکر کیا تھا۔ قائداعظم نے اسٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب میں کھوٹے سکوں کی نشاندہی کی تھی اور قوم کو بتا دیا تھا کہ وہ کس غربت اور قحط الرجال میں آزادی کا سفر شروع کر رہے ہیں۔ قائد کے ان کھوٹے سکوں میں خود ان کی اپنی جماعت کے لیڈر سرفہرست تھے جو جاگیرداروں کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اس تعلق پر فخر کرتے تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جو اپنے لیڈر کی بدقسمتی سے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے دست و بازو بن گئے اور پہلی ہی آزمائش میں ان کا کھوٹ سامنے آ گیا۔ ایوب خان نے جب سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کی تو ایک مسلم لیگ بنا لی جو کنونشن مسلم لیگ کہلاتی تھی۔ اس کے مدمقابل دوسری مسلم لیگ کونسل مسلم لیگ کے نام سے مشہور ہوئی اور یہ تماشا دیکھیے کہ قائد اعظم کی مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے تمام زندہ ارکان ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ یہ ثابت کر دیا کہ یہ سب قائد کے کھوٹے سکوں میں شامل تھے۔

قائداعظم کی مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کا ایک آدھ رکن جو اس سعادت سے محروم رہا وہ ان دنوں ملک سے باہر تھا۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ قائد کے ساتھ کون لوگ تھے اور قائد ان سب کو خوب پہچانتے تھے مگر ان کے پاس تیز رو سیاست میں اتنا وقت نہیں تھا کہ چھانٹی کر سکتے چنانچہ یہی لوگ جو ویسے تو سیاست میں نامور لوگ تھے ان کے ساتھ مل گئے۔ قائداعظم کی مختصر سی پاکستانی زندگی کے بعد یہی لوگ جمہوریت کو چھوڑ کر ایک فوجی آمر کی ماتحتی میں آ گئے کیونکہ وہ کبھی آزاد تھے ہی نہیں، وہ اقتدار کے پروردہ لوگ تھے اور اقتدار کے ساتھ ہی زندگی بسر کرتے تھے۔ کسی نہ کسی کی غلامی ان کے مزاج میں تھی۔

ہمارے قائد کے یہ کھوٹے سکے نسل در نسل آج تک پاکستان پر مسلط ہیں۔ آپ اسمبلیوں میں دیکھیں کہ انھی لوگوں کی اکثریت ہے ،کچھ نئے لوگ بھی دکھائی دیں گے جو زیادہ تر انھی کی سرپرستی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت بعض اوقات روایتی لوگوں سے باہر چلی جاتی ہے۔ یہ باہر کے اکثر لوگ بھی فوجی حکومتوں کی دریافت ہیں یا ضرورت تھے۔ انھی میں کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو نقد رقم دے کر حکومت میں وزیر وغیرہ بن گئے اور اسی دولت کی طاقت سے آگے بڑھتے گئے۔ میں اس سیاسی اور وزارتی سودابازی کی کئی سودابازیوں کا عینی شاہد ہوں اگر میں ان کے حوالے دے دوں تو ناقابل برداشت بن جاؤں لیکن ان کھوٹے سکوں کی حکومت میں ہی ہمیں زندگی بسر کرنی ہے، دوسرے یہ لوگ اب اس قدر مضبوط ہو گئے ہیں کہ میرے جیسے کسی صحافی کے انکشافات سے انھیں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

آپ نے عمران خان کے تازہ جلسے میں ان کے دائیں بائیں کھڑے کئی کھوٹے سکوں کو دیکھا ہو گا۔ عمران خود کھوٹا ہے یا کھرا اس کا فیصلہ تو بعد میں وقت کرے گا لیکن وقت اس کے اردگرد والے کئی لوگوں کا فیصلہ دے چکا ہے۔ یہ لوگ عمران کی جماعت کے سرکردہ لوگ ہیں اور سیاست میں اناڑی عمران خان چاہے نہ چاہے ان لوگوں سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔ یہ اپنے آپ کو کسی لیڈر کے لیے ناگزیر بنانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اسی تجربے اور مہارت پر وہ اقتدار کی سیاست کرتے چلے آ رہے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ آج تک کسی سچے، صاف اور خالص پاکستانی کی حکومت میں نہیں رہے، ہمارے لیے تو آج بھی انگریز حکمران ہے جب کہ اس سے بھی بدترکیونکہ انگریز کی حکومت ہمارے بڑے کہتے ہیں کہ عوام کا دھیان رکھتی تھی لیکن ہمارے یہ حکمران صرف اپنا دھیان رکھتے ہیں کیونکہ یہ سب ہمارے بانی اور قائد کے کھوٹے سکے ہیں جن کو بدلنے کی ہم نے بھی کوشش ہی نہیں کی۔ حکومت تو کیا ہمیں تو اپوزیشن بھی کبھی اچھی نہیں ملی۔ آخر ہو گا کیا۔ ہماری زندگی انھی کھوٹے سکوں کی حکمرانی کی بھینٹ چڑھ جائے گی یا کبھی کوئی بندے کا بچہ یعنی پاکستان کا بچہ بھی ہمارا حکمران ہو گا۔ اگر یہ ملک اللہ تبارک و تعالیٰ کا عطیہ ہے تو پھر وہی اس کی حفاظت بھی کرے گا اس کے بندوں نے تو ہمیں مایوس ہی کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔