جی ایس پی پلس؛ ٹیکسٹائل سیکٹر نے پیداواری صلاحیت بڑھانا شروع کردی

بزنس رپورٹر  بدھ 25 دسمبر 2013
خام مال کی خریداری تیز، بھارت سے 70 ہزار بیلز روئی کی درآمد کے سودے۔  فوٹو: فائل

خام مال کی خریداری تیز، بھارت سے 70 ہزار بیلز روئی کی درآمد کے سودے۔ فوٹو: فائل

کراچی: روپے کی نسبت امریکی ڈالرکی قدرمیںکمی کے رحجان سے مقامی ٹیکسٹائل ملزمالکان کی بھارت سے روئی کی درآمدات میں دلچسپی بڑھ گئی ہے اور پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے یورپین یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد اپنی پیداواری استعداد کو توسیع دینا بھی شروع کردی ہے تاکہ وہ سال 2014 کے دوران یورپی ممالک میں اپنی برآمدی سرگرمیوں کو دگنا کرتے ہوئے بھرپوراستفادہ کرسکیں۔

پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے نئی ترجیحات کے مطابق اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے گزشتہ 10 روز کے دوران بھارتی ایکسپورٹرز کے ساتھ 70 ہزار گانٹھوں سے زائد روئی کے درآمدی معاہدے کرلیے جبکہ رواں ہفتے مزید درآمدی معاہدے کیے جائیں گے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ بھارتی روئی جنوری کے پہلے ہفتے سے واہگہ اور کراچی کے راستے پاکستان پہنچنا شروع ہو جائے گی، پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کی خریداری کے بعد بھارت میں روئی کی قیمتوں بڑھ گئی ہیں اور برآمدی روئی کی قیمت 80/81 سینٹ سے بڑھ کر 85/86 سینٹ فی پونڈ تک پہنچ گئی۔

 photo 3_zps4200c2ca.jpg

انہوں نے بتایا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے بعد پاکستان میں 10 لاکھ بیلزروئی کی اضافی کھپت کا امکان ہے اور پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے روئی درآمد کرنے کی یہی وجہ ہے جبکہ پاکستان کو اس سال جرمنی میں منعقد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے ٹیکسٹائل فیئر میں بڑے پیمانے پربرآمدی آرڈرزملنے کی توقع ہے، اسی وجہ سے فیئراس مرتبہ ریکارڈ 226 پاکستانی ٹیکسٹائل ملز شرکت کر رہی ہیں۔ احسان الحق نے بتایا کہ ٹیکسٹائل ملز کے روئی خریدنے کے باعث پاکستان میں بھی روئی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، چند روز میں روئی کی قیمتیں 350 روپے کے اضافے سے 7 ہزار سے 7 ہزار50 روپے فی من تک پہنچ گئی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔