جسمانی اور دماغی صحت کے درمیان مضبوط تعلق کا انکشاف

ویب ڈیسک  جمعـء 20 نومبر 2020
ڈیڑھ لاکھ افراد پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بھرپور جسمانی صحت ہی دماغی صحت کی ضامن ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

ڈیڑھ لاکھ افراد پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بھرپور جسمانی صحت ہی دماغی صحت کی ضامن ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

 لندن: وسیع پیمانے پر کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ دل، پٹھوں، عضلات اور جسم کی فٹنس کا تعلق براہِ راست دماغی صحت سے ہوتا ہے، اگر انسان فٹ نہ ہو تو اس کی دماغی صحت بھی شدید متاثرہوسکتی ہے۔

دوسری صورت میں جسمانی طور پر فٹ نہ ہونے سے خود نفسیاتی اور دماغی عوارض مثلاً ڈپریشن اور انزائٹی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس تحقیق میں 150,000 افراد کا جائزہ لیا گیا۔ آخری نتائج کے مطابق اگر قلب و سانس کی کیفیت بہتر ہے، انسانی پٹھے (مسلز) مضبوط ہیں تو پھر دماغی صحت بھی اتنی ہی اچھی ہوگی اور اگر جسمانی کیفیت کمزور ہو تو اس کا اثر دماغی صحت پر بھی پڑے گا۔

طب میں اکثر کہا جاتا ہے کہ صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ کو جنم دیتا ہے۔ اب لاکھوں افراد پر کئی گئی یہ تحقیق برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں جسمانی تندرستی اور دماغی صحت کے درمیان تعلق تو دریافت ہوا ہے لیکن مزید کئی سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں جن کے جوابات دینے کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں جسمانی سرگرمی، تندرستی اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا ایک وسیع ڈیٹا بیس کئی برس تک دیکھا گیا ہے۔ پورا ڈیٹا بایوبینک سے لیا گیا ہے۔ اس میں 40 سے 69 سال تک کے برطانوی، اسکاٹ لینڈ اور ویلز کے باشندوں کی قلبی اور سانس (کارڈیو ریسپائریٹری) صحت اور ذہنی صحت کے ڈیٹا پر غور کیا گیا۔ مطالعے سے پہلے اور بعد میں انہیں چھ منٹ تک جامد ورزشی سائیکل پر بٹھا کر ان کے سانس اور دل کی کیفیت معلوم کی گئی۔

اس کے علاوہ ان کے ہاتھوں کی گرفت پر بھی تحقیق کی گئی۔ سات سال بعد شرکا سے دوبارہ رابطہ کیا گیا اور ان سے سوال نامے پوچھے گئے جو ڈپریشن اور اینزائٹی کے متعلق تھے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ جن شرکا کی جسمانی صحت خراب تھی ان میں ڈپریشن، اداسی اور مایوسی کا عنصر اسی تناسب سے زیادہ تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔