ناکام ریاستیں!

راؤ منظر حیات  ہفتہ 21 نومبر 2020
raomanzar@hotmail.com

[email protected]

ریاستیں کیوں ناکام ہوتی ہیں۔ کئی حکومتیں صرف اورصرف پروپیگنڈے کے زور پر کامیابی ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ کامیابی ان کا مقدرہے۔ دروغ گوئی پرمشتمل یہ پروپیگنڈا مقامی لوگوں کے لیے علاج ہے۔ میڈیاکابھرپوراستعمال ناکام ترین ریاستوں کا مثبت خاکہ پیش کرنے کی اہلیت رکھتاہے۔

بین الاقوامی ادارہ Fund for Peace سالانہ ایک تحقیقی رپورٹ شایع کرتا ہے۔ جسےFragile States Indexکہا جاتا ہے۔ اس میں دنیاکے تمام ممالک کو مختلف متعین شدہ پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے۔ صرف ایک کالم کی حدتک تمام پیمانوں کوبیان کرناناممکن ہے۔ مگر خودتجزیہ سے اندازہ ہوجاتاہے کہ ہماراملک کہاں کھڑا ہواہے۔ ہمارا ملک ان بدقسمت ممالک کی فہرست میں ہے جنھیں سیکیورٹی سے لے کر اقتصادی اور امن و امان تک ہرطرح کے خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان کا درجہ، حددرجہ تشویشناک ہے۔ اسے انڈیکس میںAlert کی حیثیت میں رکھاگیاہے۔جس کٹیگری میںمیانمیر،ایتھوپیا،مالی،عراق،برونڈی اور اسی سطح کی بائیس دیگرریاستیں شامل ہیں۔دنیاکے سب سے بہترممالک میں فن لینڈ،ناروے، سوئزرلینڈ اور سویڈن آتے ہیں۔لیکن ان سے ہماراکوئی مقابلہ نہیں۔ ہمارے مسائل بنیادی طرزکے ہیں۔جنھیں پاکستان کی کوئی حکومت حل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔

ہاں باتیں سننی ہوں توآسمان کے قلابے ملانے کے لیے ماشاء اللہ درجنوں،فوکل پرسنز موجود ہیں۔ جنکے چہروں پرناجائزپیسے کی سیاہ روشنائی سے کنداں ہوتا ہے وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔کیونکہ ہمارے ملک میں کسی ادارے اورشخص کوحالات بہتربنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔  طاقتورطبقے کے لیے توبہترہے کہ لوگوں کوہرطرح سے بیوقوف بناتے رہیں۔یہ کھیل کامیابی سے جاری ہے۔

اس اہم ترین تحقیق میں چندبنیادی عناصرہیں،جن پریہ سب کچھ ایستادہ ہے۔ پہلاخانہ،Cohesion indicators کا ہے۔اس میں تین اہم جزو ہیں۔ پہلا سیکیورٹی اپریٹس،دوسرااشرافیہ کی باہمی جنگ اورتیسراکسی بھی ملکی گروہ کی ناراضگی۔ کسی بھی ریاست کو اندرونی اور بیرونی خطرات، بم دھماکے، دہشتگردی کے واقعات شامل ہیں۔یہ بھی دیکھاجاتا ہے کہ شہروں میں جرائم کی شرح کتنی ہے۔ گہرائی سے دیکھیں تویہ تمام سفلی علتیں ہمارے ہاں بلاخوف و تردید موجود ہیں۔ کیا ہمیں شدیدخوفناک دہشتگردی کا سامنا نہیں۔ کیا روز سرحدوں پرہمارے جوان شہید نہیں ہو رہے۔ کیا پولیس کی موجودگی تحفظ کااحساس دلاتی ہے یا زیادہ غیرمحفوظ کردیتی ہے۔ ہم نچلی ترین سطح پرسانس لے رہے ہیں۔

اشرافیہ کی باہمی تفریق کوFactionalized Elitesکانام دیاگیاہے۔اس میں طبقاتی، لسانی، مذہبی،گروہی،قبائلی اورنسلی بنیادپراشرافیہ کی باہمی کشمکش کاذکرہے۔ کسی بھی ناکام ملک کی اشرافیہ لوگوں میں وطن پرستی، ریاست کوجغرافیائی طورپربڑاکرنے کے خواب اورعقیدے کی بنیادپرمعاشرے کوترتیب دیتی ہے۔ دیکھاجائے تویہ سب کچھ ہمارے ملک میں انتہائی سطحی اوربھونڈے طریقے سے مسلسل کیا جارہا ہے۔ آزادی کے تہترسال کے بعدبھی ہمیں ہر وقت بتایا جاتاہے کہ ہم واقعی ایک قوم ہیں۔یہ اتنے تواتر سے کہاجاتاہے کہ ذہن میں مختلف طرح کے شبہات سانپ کی طرح سراُٹھانے لگتے ہیں۔

رپورٹ میں یہاں تک لکھاہواہے کہ اشرافیہ، کسی بھی الیکشن کے نتائج کوکسی صورت میں تسلیم نہیں کرتی اوریہ ہروقت اقتدارحاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہتے ہیں۔کیاآج تک کسی بھی سیاسی فریق نے الیکشن کے نتائج کو مانا ہے۔ بالکل نہیں۔اس میں ہمارے تمام قومی قائدین کا ردِعمل خوفناک حدتک یکساں ہے۔

اگلی درجہ بندیGroup Grievanceکی ہے۔کیا ملک کی قیادت جائز طریقے سے سامنے آتی ہے۔کیانفرت انگیزنعرے اوربیانیے معاشرے میں جڑ تو نہیںپکڑگئے۔کیاایک گروہ ریاست کے وسائل پر قابض تونہیں ہوگیا۔کیاوسائل کی تقسیم کے ثمرات عام آدمی تک پہنچتے ہیں۔کیاملکی قوانین،کسی اُصول پر بنائے جاتے ہیں۔کہیں یہ تونہیں کہ امیرکے لیے ایک قانون ہے اورغریب کے لیے دوسراقانون رائج ہے۔کیا مذہبی آزادی موجودہے۔

کیاکسی ایک مذہبی طبقے کے خلاف اقدامات تونہیں کیے جاتے۔اوربھی بہت سے نکات ہیں۔ہاں ایک عبرتناک سچ درج ہے کہ کیاکوئی ملکی طبقہ ناجائز ذرایع سے امیرہوکرمعاشرے میں سیاسی بالادستی حاصل تونہیں کرچکا اوراسکے بعد،متحارب فریق کے متعلق نفرت انگیزتقاریرتونہیں کررہا۔دل پرہاتھ رکھ کربتائیے کہ کیاGroup Grievanceمیں ایک بھی ایسامنفی نکتہ ہے جس سے ہم انکارکرسکیں۔مجھے تو یوں لگ رہاہے کہ یہ تمام نکات پاکستان کوسامنے رکھ کر بنائے گئے ہیں۔پرایسا نہیں ہے۔اس تحقیق میں دنیاکے تمام ممالک کی میرٹ اورحقیقت کی بنیاد پر درست درجہ بندی کی گئی ہے۔

اگلانکتہ انتہائی مہیب ہے جتناپہلے والا۔یہ اقتصادی صورتحال کے متعلق ہے۔اس میں اقتصادی اَبتری اور غیرمتوازن ترقی جیسے عناصرشامل ہیں۔ یعنی Economic DeclineاورUneven Development۔لکھاگیاہے کہ عام شخص کی اوسط آمدنی کتنی ہے۔ملک میں ضروری اشیاء کی قیمتیں اوران میں اُتارچڑھاؤکی کیفیت کیاہے۔ملکی قرض، روزگارملنے کے مواقعے،بیرونی ممالک کی اس ملک میں سرمایہ کاری،ملک سے دولت کاباہرجانا،منشیات اور اسلحے کی سرِعام تجارت،منی لانڈرنگ اورکرپشن شامل ہے۔

ایک پاکستانی کے طورپر ان نکات پرغورکیجیے تو بغیر کسی ترددکے معلوم ہوجاتاہے کہ ہم میں یہ تمام نقائص موجود ہیں۔اَبتری کاایک ایساسفرہے جسکی کوئی رزیل منزل نظرنہیں آرہی۔آنے والادن،گزرجانے والے وقت سے زیادہ مصائب لے کرآتاہے۔اب غیر متوازن ترقی کی طرف آئیے۔کہنے کوتوہماری اقتصادی صورتحال بہت خراب ہے۔مگرکیاایک مافیاامیرسے امیر ترنہیں ہوگئی۔

چینی، بجلی، سیمنٹ، آٹا اور اسی طرح کے شعبوں کے چندسیٹھوں نے چپکے سے ملک پرقبضہ نہیں کر لیا۔ کیا ہماراپورامعاشرہ،طبقاتی رنگ میں نہیں ڈھل چکا۔ امیر طبقہ کسی صورت میں خونخوارمنافع چھوڑنے کا خواہاں نہیں۔غریب خودکشیاں کر رہے ہیں۔جرائم اور منشیات کی طرف راغب ہیں۔کیااب اس طبقاتی فرق کو کوئی حکومت کم یاختم کرسکتی ہے۔سچ تویہ ہے کہ ہمارا دولتمند طبقہ کسی بھی حکومت کوبنا یاگرا سکتاہے۔ہرحکومت ان کی ٹھوکروں میں ہوتی ہے۔کیاجمہوریت اورکیا غیر جمہوری حکومتیں،سب فریقین کوجلدازجلدامیرہونے کا خبط ہے۔

کوئی بھی ایمانداری پریقین نہیں رکھتا۔ ہاں، اسے نعرے کے طورپر لوگوں کومزیدبیوقوف بنانے کے لیے انتہائی دونمبرطریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ کھربوں روپے نکلنے کے باوجود’’دھیلے کی کرپشن نہ کرنے‘‘ کا وظیفہ جاری رہتا ہے۔ ایک طبقہ،ذاتی جہازوں میں سفر کرتا ہے۔

اگر یقین نہ آئے تواپنے قومی لیڈران اوران کی اولادوں کو دیکھ لیں۔سب کے پاس پرائیویٹ جیٹ ہیں۔ایک وقت توایسابھی تھاکہ سرکاری جہازجوصرف وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے لیے مختص تھا، بے دریغ طریقے سے اولاد، رشتے دار اور دوست استعمال کرتے تھے۔یہ طبقاتی فرق پاکستان میں روزبروزبڑھ رہا ہے۔مگرفکرنہ کیجیے۔ ہمارا امیرطبقہ، لنگر خانے اوریتیم خانے کھول کراپنے جرائم کو آسانی سے چھپالیتاہے۔واہ صاحب، کیا بدقسمت قوم ہے۔ ایک سیٹھ نے اگردس ارب کا چونا لگایا ہے توایک کروڑخیرات کرکے لوگوں کی فلاح وبہبودکے نعرے میں حق بجانب ہوتاہے۔یہ وہ آسان طریقہ ہے جو ہمارے ملک میں بالکل عام ہے اورہرایک کے علم میں ہے۔ مگربات کرنے کی جرات بہت کم لوگ کرپاتے ہیں۔

اگلادرجہ ملک سے ذہین لوگوں کاغیرممالک میں منتقل ہونے کارجحان اورعام لوگوں کاترقی یافتہ ملکوں میں ناجائزطریقے سے جانے کا بھرپور عمل ہے۔ کیا عرض کروں۔ہرنوجوان انسان، ’’پاکستان سے زندہ بھاگنے‘‘ کے فارمولے پر سوچ رہاہے یا عمل کر رہا ہے۔ نوجوان نسل کورہنے دیجیے۔ یہاں توبزرگ بھی رہنے کے لیے تیار نہیں۔سیکڑوں لوگوں کوجانتا ہوں جوملک سے باہر جا کربس رہے ہیں۔یہ قیامت خیزرویہ کسی بھی ملک کی اصل شکل دکھانے کے لیے کافی ہے۔یہ سب کچھ لکھتے ہوئے افسوس ہورہاہے۔میراقلم بارباررک جاتا ہے۔

مگر کیاکروں۔کیسے لکھوں کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔شیراورمیمناایک گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں۔نہیں صاحب،ہم تنزلی کے سفر پراطمینان سے گامزن ہیں۔کسی قسم کاکوئی ملال نہیں۔2020ء کی یہ رپورٹ بہرحال ذہن میں خدشات کاطوفان لے آتی ہے۔مگرمیں کچھ نہیں کرسکتا۔شائدآپ بھی بے بس ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔