گلگت بلتستان میں انتخابات کے اثرات

ظہیر اختر بیدری  ہفتہ 21 نومبر 2020
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

گلگت بلتستان کے حوالے سے اپوزیشن نے پورے سج دھج کے ساتھ ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی لیکن عام انتخابات میں عوام نے اپنی پسند کے مطابق اپنے نمایندے چنے۔ عمران خان اس حوالے سے پاپولر فیگر بنے رہے، ہمارا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کے نتائج آنے کے بعد بہت سے سیاستدانوں کو اپنی حقیقت کا پتا چل گیا ہوگا۔

گلگت بلتستان کے عوام نے اپوزیشن جماعتوں کے انتخابی وعدوں کا اثر قبول کرنے کے بجائے اپنے مسائل کو آگے رکھا۔ گلگت بلتستان کے الیکشن اپنے اندر بڑی معنویت رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے ایڑی چوٹی  کا زور لگا لیا ہر طریقہ آزما لیا لیکن نتیجہ شکست کے علاوہ کچھ نہ نکلا۔

گلگت بلتستان کے الیکشن اپنے اندر بڑے معنویت رکھتے ہیں یہ بڑا حساس علاقہ ہے ملک کے اندر ہی کی نہیں بلکہ ملک کے باہر خاص طور پر بھارتی لابی اس حوالے سے بڑی ایکٹیو رہی لیکن نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ وزیر اعظم عمران خان کا بھارت کے حوالے سے نظریہ بہت واضح ہے۔ عمران خان بھارت کی چانکیہ سیاست کے سخت مخالف رہے ہیں۔

گلگت بلتستان پر بھارت کی نہ صرف نظر ہے بلکہ وہ اس علاقے کا متولی بنا ہوا ہے۔ بھارت کی ہوس ملک گیری نے اسے اندھا کر دیا ہے۔کشمیر سے ابھی جان نہ چھوٹی کہ بھارتی وزیر اعظم گلگت بلتستان پر نظر جمائے بیٹھے ہیں اور مودی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ تقسیم ہند کے پیچھے کیا محرکات رہے ہیں اورکس قدر سنگین محرکات رہے ہیں۔

کیا محرکات آج بھی کام کر رہے ہیں ماضی کے شاہوں اور راجوں نے ملک گیری کی ہوس میں ملکوں کو فتح کرنے اور مفتوحہ ملکوں کو اپنے ملک میں ضم کرنے کا جو طریقہ ایجاد کیا تھا وہ دور شاہانہ تھا آج ہم ایک جمہوری دور میں زندہ ہیں اور جمہوری دور میں ملکوں کو فتح کرنے کا رواج نہیں رہا۔

اب ملکوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ اقوام متحدہ سمیت کئی ادارے ہیں جو ملکی سالمیت کا تحفظ کرتے ہیں آج کے دور کو اگر مودی جی شاہوں اور راجوں کا دور سمجھتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔ بلاشبہ کشمیر پر بھارت نے طاقت کے زور پر قبضہ کیا ہے لیکن کشمیری اپنی آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد یا بدیرکشمیری عوام آزاد ہو کر رہیں گے۔

انسان اب رنگ نسل ذات پات کے بھید بھاؤ سے نکل کر آدم کی اولاد کے رشتے میں بندھنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ کوشش جلد یا بدیر رنگ لائے گی۔ آج انسان جن قسم قسموں کی تقسیم در تقسیم کا شکار ہے اس کے سنگین نتائج وہ بھگت رہا ہے لیکن جلد یا بدیر انسان ان خرافات سے نجات پا لے گا۔ انسان کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کی بڑی وجہ بھی انسانوں کی تقسیم ہی ہے۔

جلد یا بدیر ایسی ظالمانہ تقسیم سے نجات ملنا ہے کیونکہ انسان اس تقسیم کی وجہ سے کئی قسم کی منافرتوں سے دوچار ہے اور انسان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک وہ ان شرمناک تقسیموں کی زد سے باہر نہیں نکلتا۔

گلگت بلتستان پاکستان کے لازمی حصے ہیں لیکن بھارت نے ان پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات نے یہ ثابت کر دیا کہ وزیر اعظم عمران خان درست راستے پر چل رہے تھے باقی میک اپ ملیشیا اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود شکست سے دوچار ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گلگت بلتستان کے عوام ملک کے بہتر مستقبل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں یہ ایک واضح پیغام ہے۔

دنیا کو وجود میں آئے ہوئے اب لاکھوں سال ہو رہے ہیں ان لاکھوں سالوں میں دنیا میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں اس کی تاریخ کم ہے لیکن دس پندرہ ہزار سالوں کے دوران کیا کیا تبدیلیاں آئیں اس سے انسان واقف ہے اور اسے ہم انسان کی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ معلوم تاریخ بھی بہت عبرت انگیز ہے۔

انسان نے اس طویل عرصے کے دوران لڑائیوں جنگوں میں ہی اپنی زندگی گزاری۔ بھارت پر مسلمان ایک ہزار سال تک حکومت کرتے رہے لیکن چونکہ لڑائیوں جنگوں کا سلسلہ ہمیشہ چلتا رہا اس لیے ملک ترقی نہ کر سکا۔ تقسیم ہند کی وجہ سے جو المیہ جنم لیا وہ اتنا پرہول ہے کہ کم ازکم اس المیے ہی کے حوالے سے جس میں انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹ دیا گیا تقسیم کے زخم بہت گہرے تھے، انسان مذہب کے حوالے سے وحشی درندہ بن گیا وہ تو متحدہ ہندوستان کے ادیب شاعر اور مفکر تھے۔

جنھوں نے اپنی کوششوں سے یہ زخم بھرے۔ آج یہ بات یوں یاد آئی کہ گلگت بلتستان کے انتخابات نے انسانوں کو سوچنے سمجھنے کے لیے بہت مواقع فراہم کیے ہیں، ملک کو مذہبی سیاست سے نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک یکسوئی سے ترقی کے راستے پر چل سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔