کوچۂ سخن

عارف عزیز  اتوار 22 نومبر 2020
 فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

غزل


سرخ چھالوں کے نشاں سارے بدن پر بن گئے
جیسے اندر زخم تھے ویسے ہی باہر بن گئے
میں اکیلا دیکھتا تھا جب تلک کچھ بھی نہ تھا
پھر وہ آنکھیں آ گئیں اور ڈھیر منظر بن گئے
دن چڑھا تو خواب سڑکوں پر لیے پھرتے رہے
رات آئی تو سبھی فٹ پاتھ بستر بن گئے
اک تناسب تک سہی میں نے تپک اُس جسم کی
پھر مری آنکھیں بجھیں اور بازو پتھر بن گئے
یہ زمیں اپنے تغیر کے سبب گھٹتی رہی
جانے کتنے شہر اور صحرا سمندر بن گئے
اُس کے آنے سے ہوا تعمیر مجھ سا منہدم
میرے اندر کھڑکیاں دیواریں اور دَر بن گئے
میر ؔ، غالبؔ کی روایت رہ گئی پیچھے کہیں
بیشتر شاعر مداری اور جوکر بن گئے
خاک اُڑتی ہے بگولے ناچتے ہیں صحن میں
دشت کے سب ضابطے حیدر مرے گھر بن گئے
(فقیہ حیدر۔راول پنڈی)

۔۔۔
غزل


زندگی تھی ہی نہیں، زخم کسی یاد کے تھے
ہم نے وہ دن بھی گزارے جو ترے بعد کے تھے
ہم کبھی کر نہ سکے ورنہ سخن ایسے بھی
جو نہ تحسین کے تھے اور نہ کسی داد کے تھے
اب جو ویران ہوئے ہیں تو یقیں آتا نہیں
ہم وہی لوگ ہیں جو قریۂ آباد کے تھے
آخرِ کار کسی بات پہ دل ٹوٹ گیا
ہم بھی انسان ہی تھے کون سے فولاد کے تھے
جب بھی ناکام ہوا میں تو مرے کام آئے
وہ زمانے جو کسی عرصۂ برباد کے تھے
(مقصود وفا۔ فیصل آباد)


غزل


اتنے اچھے کدھر گئے سب لوگ
تیرے دل سے اتر گئے سب لوگ؟
اس قدر شور تھا مرے دل میں
ڈر گیا میں تو ڈر گئے سب لوگ
جانے کیسے کیے تھے سب وعدے
جانے کیسے مکر گئے سب لوگ
میں تو ہر اک کے ہاتھ چومتا تھا
مجھ سے بھی ہاتھ کر گئے سب لوگ
ٹوٹتا دیکھ کر مجھے شاہدؔ
ساتھ میرے بکھر گئے سب لوگ
(شاہد ریاض۔ ڈیرہ غازی خان)


غزل


گھڑی کی ہلکی سی ٹک ٹک گراں گزرتی ہے
اندھیری رات اکیلے کہاں گزرتی ہے
نکل کے خواب کی دنیا سے آ حقیقت میں
نہیں تو عمر مری رائگاں گزرتی ہے
اسی کے دل پہ اسے ہاتھ رکھ کے سمجھایا
کہ تیری چپ سے ہمارے یہاں گزرتی ہے
کہ جس پہ گزری نہ ہو وہ کہاں سمجھتا ہے
وہی سمجھتا ہے جس پر میاں گزرتی ہے
سنا ہے جب سے وہاں یار مشکلات میں ہے
ہماری جان پہ مشکل یہاں گزرتی ہے
کوئی تو روک لو جاتے ہوئے پرندوں کو
انہیں بتاؤ کہ اب تو خزاں گزرتی ہے
ہمارے کمرے نہیں ہیں کشادہ قبریں ہیں
کہ جن سے بَین کی صورت اذاں گزرتی ہے
وہ ایک شخص مرے گھر سے کیا گیا تحسینؔ
ہوا بھی صحن سے نوحہ کناں گزرتی ہے
(یونس تحسین ۔علی پور چٹھہ)


غزل


یوں ہے ترے خیال سے اشعار کا وجود
جیسے ہے اینٹ، اینٹ سے دیوار کا وجود
قربت کے اک حصار نے گھیرا تو یوں لگا
جیسے بہشت میں ہو گنہ گار کا وجود
پرکار کا وجود ہے نقطے کا اک نشان
نقطے کا اک نشان ہے پرکار کا وجود
ہے آپ کے خیال میں سانسیں مری رواں
دیوار سے ہے سایۂ دیوار کا وجود
تکیے تلے سمیٹ کے رکھتا ہوں خام خواب
بُنتا ہوں روز رات کو دو چار کا وجود
فیضان ؔدیکھ سکتی نہیں ہے ہر ایک آنکھ
ابہام میں رکھا ہوا آثار کا وجود
(فیضان فیضی ۔موسٰی کہوٹ، چکوال)


غزل


ادیب گرچہ ہیں ہر سُو، ادب کہیں بھی نہیں
نوائے نغمۂ چنگ و طرب کہیں بھی نہیں
چہار سمت میں رحم و کرم کی بارش ہے
ظہورِ سنّتِ قہر و غضب کہیں بھی نہیں
وہی مسبّب الاسباب کارفرما ہے
کبھی مَرا ہے کوئی بے سبب، کہیں بھی نہیں
غنی ہے اس لیے سورج کہ وہ نہیں انساں
جہان میں بشرِ بے طلب کہیں بھی نہیں
ندی کا شور بھی مجھ کو گراں گزرتا ہے
قرار پائے دلِ جاں بہ لب کہیں بھی نہیں
بطورِ خاکِ لحد انتظار کر تاثیرؔ
نگار خانۂ دنیا میں رب کہیں بھی نہیں
(تاثیر خان ۔سوات)


غزل


خون کی گردش، کٹاؤجسم کا
روک لوں کیسے بہاؤجسم کا
بیٹیوں کی کھیپ بالغ ہو گئی
گر گیا منڈی میں بھاؤ جسم کا
میں وجودی رابطے میں آ سکوں
آئنہ اتنا دکھاؤ جسم کا
روح کے ٹکڑے الگ رکھنا کہیں
جب کبھی ملبہ اٹھاؤ جسم کا
لاوجودی غیب میں ہے مضطرب
اس کو بھی کچھ گُر سکھاؤ جسم کا
یاد کی کوئی دوا ایجاد کر!
بھر گیا ہے یوں تو گھاؤ جسم کا
یہ تصور ہی جلا دے گا تمھیں
سوچ لو گر تم الاؤ جسم کا
جسم کے ناسور کا ہے یہ علاج
جسم پر مرہم لگاؤ جسم کا
ہو گئے ہم سب ادھورے،روح پر
جب پڑا پہلا پڑاؤجسم کا
(گل جہان۔ جوہر آباد)


غزل


دستِ قاتل جب ہوا موزوں نگینے کے لیے
دُھول بھی رکھی گئی پھر آبگینے کے لیے
کوچۂ دیوانگی سے جب سے نکلے اہلِ دل
عشق کی ذلّت سنبھالی خوں پسینے کے لیے
کیا مجالِ تشنگی جو آئے اپنے روبرو
غم کا ساغر ساتھ رکھّا ہم نے پینے کے لیے
پرسکوں جو لوگ ہیں وہ زندہ لاشیں ہی تو ہیں
اس لیے تو درد رکھتا ہوں میں جینے کے لیے
اِس لیے بدنام ہوں میں یار تیرے شہر میں
نرم لہجہ رکھ نہ پایا میں کمینے کے لیے
اے بھنور مدِ مقابل ہو مگر سن انتباہ!
ہم نے ہستی کو جلایا ہے سفینے کے لیے
پیرہن اِک دل رُبا کا پاس ہے جوگیؔ مِرے
داغ دھونے کے لیے اور زخم سینے کے لیے
(حفیظ جوگیؔ، لاہور)


غزل


دل کے خلاف فیصلے یزداں کے تھے لکھے ہوئے
دکھ کے ہیولے آگئے خوابوں کو روندتے ہوئے
پہلے تو اپنے شوق سے جھگڑا کریں گے رات بھر
نوحہ گری کریں گے پھر قبروں کو لیپتے ہوئے
تیری تلاش میں یہ سوچ پہنچی کہاں کہاں نہیں
پلٹی تو خالی ہاتھ تھی شانے بھی تھے ڈھلے ہوئے
اتنی تھکن ہے اب مجھے بات نہ کر سکوں گا میں
سانسوں کی گرہیں کھل گئیں ہجر کو کھینچتے ہوئے
کل تو وفا کے نام پر اچھا مکالمہ ہوا
مجھ پہ خموشی چھائی تھی اس کے تھے لب سلے ہوئے
لوگو یہ احتجاج ہے میرا مرے خلاف ہی
اب میں قدم اٹھاؤں گا سینے کو پیٹتے ہوئے
ہم نے ہمارے سارے دکھ سینچ کے خود بڑے کیے
سارے ہی آستیں کے سانپ ہاتھوں کے ہیں پلے ہوئے
(ابو لویزا علی۔ کراچی)


غزل


تفاخُرِ کفِ پا! تم نشان میں رہنا
مرے وقار مرے خاندان میں رہنا
بڑے عدو ہیں تمہارے،تمہارے چاروں طرف
ہمارے ہاتھ سے نکلو تو دھیان میں رہنا
کبھی کبھی تو تھکاوٹ سے جاں نکلتی تھی
تری تلاش میں لیکن اڑان میں رہنا
ترے طریق سے خوف آتا ہے مجھے ہمدم
قدم زمیں پہ مگر آسمان میں رہنا
مری طرف سے اجازت ہے تم کو جانے کی
جہاں بھی رہنا خدا کی امان میں رہنا
یہ احترامَِ تعلق بہت ضروری ہے
اور ایک رشتے کا بھی درمیان میں رہنا
(علی اسد منڈی۔ بہائُ الدین)


غزل


شاخِ امید پہ جو پھول ہیں جھڑ جائیں گے
مجھے لگتا ہی نہیں آپ بچھڑ جائیں گے
اعتماد آپ کا ٹوٹے گا نہیں مانتا ہوں
مان لیتا ہوں کہ حالات بگڑ جائیں گے
اپنے دشمن کو منانے کی طرف جائوں گا
اپنی ضد پر جو مرے دوست بھی اڑ جائیں گے
جھوٹ اگر ان کا پکڑ لیں گے بھری محفل میں
شرم کے مارے ہوئے خاک میں گڑ جائیں گے
محفلیں لوگ حسنؔ کیسے بسائیں گے وہ
جن کے دل حرص کی دنیا میں اجڑ جائیں گے
(حسن حنیف اٹک)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔