اٹلی میں غیرمعمولی حد تک محفوظ 2 ہزار سال پرانی لاشیں برآمد

ویب ڈیسک  اتوار 22 نومبر 2020
لاشیں قدیم شہر کے زیر زمین چیمبر کی کھدائی کے دوران ملیں، فوٹو : ٹویٹر

لاشیں قدیم شہر کے زیر زمین چیمبر کی کھدائی کے دوران ملیں، فوٹو : ٹویٹر

روم: اٹلی میں آثار قدیمہ کے ماہرین کو کھدائی کے دوران دو افراد کی 2 ہزار سال پرانی جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں جو کہ حیران کن طور پر غیر معمولی حد تک محفوظ ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پومپے سے برآمد ہونے والی لاشیں سنہ 79ء کی ہیں جب آتش فشاں پہاڑ پھٹنے کے نتیجے میں پورا شہر جل کر تباہ ہوگیا تھا۔ ان میں سے ایک لاش 30 سے 40 سالہ شخص کی ہے جب کہ دوسرے کی عمر ممکنہ طور پر 18 سے 23 سال ہوگی۔

اٹلی کے وزیر برائے کلچر کا کہنا تھا کہ عمر میں نسبتاً بڑا شخص امیر شخص تھا کیوں کہ اس کی گردن کے نیچے سے اُون کے بنے چوغے کے نشانات ملے ہیں جب کہ نوجوان اپنے لباس اور جسم پر بنے نشانات سے بہت زیادہ مشقت کرنے والا غلام لگتا ہے۔

زیر زمین چیمبر سے ملنے والی لاشوں کی ہڈیاں اور دانت محفوظ تھے، آثار قدیمہ کے اہلکاروں نے ہڈیوں پر گوشت کی جگہ پلاسٹر چڑھایا جس سے جسم کے خدوخال نمایاں ہوگئے۔ فرانزک جائزے کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔

پومپے آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر ماسیمو اوسانا نے بتایا کہ سنہ 79ء میں روم کے شہر پومپئی میں آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے کے بعد یہ لوگ ممکنہ طور پر پناہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس چیمبر تک آئے لیکن یہاں تک بھی لاوے کی راکھ پہنچ گئی اور وہ جھلس کر اور تھرمل شاک کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔