معتوب سوچ!

راؤ منظر حیات  پير 23 نومبر 2020
raomanzar@hotmail.com

[email protected]

سیدصاحب نے سگریٹ سلگایا۔گہراکش لے کر کہنے لگے۔لکھنا،بولناکوئی مشکل کام نہیں۔ متعدد لوگ بہترین مضامین،کتابیں،کالم لکھتے ہیں۔اس سے بھی زیادہ افراد،مدلل طریقے سے فنِ تقریر  پر عبوررکھتے ہیں۔قادرالکلام ہوتے ہیں۔ لوگ ان کے جملے سن کر سردھنتے ہیں۔

مگر غور کرو تواندازہ ہوتا ہے کہ چند ہفتوں بعدان کی کوئی کہی بات یا لکھا ہواجملہ یادنہیں ہے۔ سیدصاحب کی بات میں کوئی دلچسپ عنصرمحسوس نہیں ہوا۔ مکالمہ جاری رہا۔ہم دونوں،کالونی کے پارک میں واک کررہے تھے۔سیدصاحب سے ملاقات کوئی ایک ڈیڑھ سال سے جاری ہے۔اکثریہ ہوتاہے کہ واک کرنے جاتاہوں،توشاہ صاحب بھی ورزش کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ہم دونوں خاموشی سے چالیس پچاس منٹ پیدل چلتے ہیں اور اس کے بعد گھروں کوروانہ ہوجاتے ہیں۔ سید صاحب،کم بولتے ہیں۔ بلکہ یوں کہناچاہیے کہ خاموش رہتے ہیں۔

دھیمے انداز میں بولے ، جو لوگ رائے عامہ کے مطابق خیالات کو ڈھال لیتے ہیں،وہ کوئی بڑایانیاکام نہیں کرتے۔ نناوے فیصد لوگ وہی کہتے اورلکھتے ہیں،جولوگوں کو پسندہو۔ مگر یہ وقت کے ضیاع کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ میں نے اپنے تئیں دل رکھنے کے لیے پوچھ لیا، سید صاحب!فرمائیے کہناکیاچاہتے ہیں؟ انھوں نے ہلکا ساقہقہہ لگایا اور گویا ہوئے ،اصل لکھاری، دانشور، شاعر، سیاستدان،عالم وہ ہوتے ہیں، جو کسی بھی مقبول سوچ کے متضادلکھنے یااظہارخیال کی ہمت رکھتے ہوں۔وہ لکھتے ہیں،جسے درست سمجھتے ہیں۔بڑے لوگ،وہ بولتے ہیں،جوان کی دانست میں درست ہوتاہے۔

عام آدمی ان لوگوں سے بالکل متفق نہیں ہوتے۔ اکثر اوقات عامیانہ گالیوں سے نوازا جاتاہے۔انھیں معاشرے میں معتوب گردانا جاتا ہے۔ میںبغور شاہ صاحب کی گفتگو سن رہاتھا۔ اگر ان کی باتوں میں دلیل ہے، سچائی اور حقیقت ہے، تو رائے عامہ کے خلاف ہونے کے باوجود وہ لوگ،وقت کی کسوٹی پر کامیاب قراردیے جاتے ہیں۔

شاہ صاحب اُٹھے اورچل دیے۔ میں ان کی  باتوں پر غور کرنا شروع کردیا۔یہ بات بالکل درست نظرآئی کہ جولوگ معتوب ٹھہرائے گئے۔ان کی فکراورسوچ درست تھی، وقت نے انھیں بھلایا نہیں۔ کیونکہ اصل جوہرہی رائے عامہ کے خلاف لکھنا ہے۔ لیکن شرط صرف ایک کہ جوکچھ سوچا، لکھا اور بولا جارہاہے،وہ سچ اورصرف سچ کی بنیاد پر ہو۔ اس میں ذاتی منفعت یاشہرت پانے کی خواہش نہ ہو۔

سترویں اوراٹھارویں صدی کے مابین، بلھے شاہؒ، حددرجہ معتوب انسان تھا۔اپنے آبائی شہر یعنی قصورمیں رہنے کی اجازت تک نہیں تھی۔ وجہ بالکل سادہ ۔بلھے شاہؒ اس وقت کی سیاسی، سماجی، مذہبی طبقے کی دوعملی کے  خلاف لکھتا اور بولتا تھا۔مغل دورکے آخرمیں ہرطرف بدامنی اورتباہی تھی۔بلھے شاہؒ پنجابی زبان میں کمال شاعری کرتاتھا،جس میں انسان دوستی، خواتین کے حقوق،ذات پات سے بغاوت اوروہ نکات بھی تھے، جن کے متعلق بات کرنی تودورسوچنا تک محال تھا۔ بلھے شاہ تمام عمردربدررہا۔مرنے کے بعدجنازہ پڑھانے سے انکارکردیا گیا۔

روایت ہے کہ چندخواجہ سرااوراسی قبیل کے لوگوں نے تدفین کی۔مگرآج دیکھیے۔بلھے شاہ کی شاعری، ایک فلسفہ کادرجہ پاچکی ہے۔دنیاکی اَن گنت زبانوں میں اس معتوب شخص کی شاعری کا ترجمہ ہوچکا ہے۔ایساکیوں ہے؟صرف اس لیے کہ آج سے تین صدیاں پہلے وہ شخص بات ٹھیک کررہاتھا۔اس کابیانیہ سماجی،سیاسی سچ پرقائم تھا۔یہ مثال اس لیے دی کہ ہمارے معاشرے میں وہ تمام لوگ جومنفرد بات کرتے ہیں،انھیں ذلیل کرنے کی بھرپورکوشش کی جاتی ہے۔جیت کس کی ہوتی ہے، یہ وقت بارہا بتاتاہے اوربتاتارہے گا۔

فکری سفرمیں آگے آئیے۔سرسیدکے علمی کام پر نظرڈالیے۔جب انھوں نے کہاکہ مسلمان اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتے جب تک انگریزی زبان میں دورِحاضرکے علوم پردسترس حاصل نہیں کرتے۔ تو شائد کم لوگوں کویقین آئے  گاکہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا۔1857کی جنگ میںعمومی سوچ اوررویوں کے برعکس،سرسیدنے فرنگی خواتین،بچوںاورخاندانوں کی حفاظت کی۔ سرسیدکواپنی سوچ اورعمل کی بے حدبھاری قیمت اداکرنی پڑی۔ مسلمان حلقوں کی اکثریت ان کی بھرپورمخالفت کرتی تھی۔بے عزتی کی جاتی تھی۔ علی گڑھ کالج کو ’’شیطان کاجال‘‘ قراردیا جاتا تھا۔

ہاں!ایک اوربات۔انھیں بعض حضرات نے کافر تک بھی کہا ۔مگروقت نے ثابت کیاکہ مسلمانوں کی ترقی کادوراس وقت سے شروع ہوا، جب انگریزی تعلیم نے انھیں وہ فکری طاقت دی کہ ہندوستان میں اعلیٰ نوکریوں اور دیگر میدانوں میں آگے نکلنے لگے۔ پاکستان کی تحریک پر نظر ڈالیے۔

قائداعظم کے ساتھ اگر علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء جان ودل سے کھڑے نہ ہوتے، تو شائد ہماری غلامی کا سفر مزیدطویل ہوجاتا۔ وقت نے ثابت کیاکہ سرسید درست بات کررہے تھے۔کسی بھی غیرمتعصب شخص سے دریافت کیجیے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی ترقی کی بنیاد سرسیدکے علاوہ کسی نے نہیں ڈالی۔ مسلمان خواتین کوجدید تعلیم دیکرمیدان عمل میں لانے کاسہرا بھی علی گڑھ یونیورسٹی کو جاتا ہے۔ اس سے پہلے،مسلمان خواتین کی فکری حالت کیا تھی۔اس پرصرف افسوس کیا جا سکتا ہے۔ بات کرنی قدرے مشکل ہے۔یہ سب کچھ اپنے زمانے کے متعددحلقوں میں معتوب ترین آدمی یعنی سرسیدنے کرکے دکھایا۔

موجودہ دورکی طرف آجائیے۔ہمارے اندرونی مسائل اپنی جگہ پر۔مگرکیادنیاکے دیگر ممالک سے ہمارے تعلقات واقعی قومی مفادکے طابع ہیں؟ اکثر اوقات یوں لگتاہے کہ ہماری خارجہ پالیسی،ملک کے مفادسے  متصادم بنائی جاتی ہے۔کسی معاشی، عسکری، سماجی،سیاسی برتری کے بغیرہم وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کرتے نظرآتے ہیں،جس میں نقصان ہی نقصان ہے۔اسرائیل کے متعلق بات کرنا کتنا مشکل ہے، سب جانتے ہیں۔پاکستان کی واضح اکثریت اسرائیل کوتسلیم کرنے کے  سخت خلاف ہے۔ مگر جب آپ یہ بات کہتے ہیں کہ سعودی عرب جیسا ملک  جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا لیکن کہیں نہ کہیں اس کے بھی تعلقات ہیں۔ترکی جسے ہم،اپنابھائی قراردیتے ہیں، اس کے اسرائیل سے  سفارتی تعلقات قائم ہیں۔

ترکی کاصدرصرف اورصرف تقاریرکرکے مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتاہے۔اسرائیل سے سفارتی دوری کا بھرپور فائدہ ہمارے دشمن ممالک اُٹھارہے ہیں۔ ہندوستان،اسرائیل کی مددسے ہمیں ہرطرف سے گھیرچکاہے۔ان حالات میں اسرائیل سے دشمنی کوکم کرنا عین دانش مندی ہے۔مگرآپ یہ بات کریں توپوراملک جان کادشمن ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ٹھنڈے دماغ سے غور کریں کہ جب اسرائیل سے کئی مسلمان ممالک سفارتی تعلقات رکھتے ہیں،تو غور کریں ، ہم کہاں کھڑے ہیں؟

جب بھی اہم ترین لوگ درون خانہ گفتگو کرتے ہیںتومانتے ہیں کہ اسرائیل کواپنادشمن بناکر اپنا نقصان کررہے ہیں۔مگرجب یہی لوگ پارلیمنٹ،عوامی جلسوںاورمیڈیاٹاک شوزمیں جاتے ہیں،تو اپنے نجی بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ ریفرنڈم کراکردیکھ لیجیے۔عوام کی اکثریت اسرائیل کے خلاف ہے۔مگر وجوہات پوچھیں کہ کیوں خلاف ہیں توایک خاموشی نظر آتی ہے۔کوئی سیاسی جماعت اتنابڑاسیاسی رسک نہیں لے سکتی۔ لوگ اس وزیراعظم کونکال باہر کریں گے۔ یہ سچائی کاایک رخ ہے۔مگردلیل کی بنیادپرکوئی بات نہیں کرتا۔جذباتیت،ہیجان اورغیرعملیت پسندی سے مغلوب ہوکر،اکثریت کبھی کسی حکومت کو اجازت نہیں دے گی کہ وہ اسرائیل سے مثبت روابط رکھنے کی کوشش کرے۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ جس شخص نے بھی ہماری خدمت کرنے کی کوشش کی ہے یا ہمیں دنیاوی راحتیں دینے کی کوشش کی ہے، ہم نے اسے حددرجہ معتوب قراردیاہے۔قائداعظم جیساعظیم انسان، جسکی بدولت ہم آزادی کے جھنڈے تلے سانس لے رہے ہیں۔ آپ ذرا، اس دورکے طاقتور مسلمان حلقوں کی باتیں یاد کریں۔کون سا طعنہ ہے جواس عظیم شخصیت کونہیں دیا گیا۔

ان کی ذاتی زندگی کے بعض پہلو پر طنز کیا جاتا ہے۔ میں کانگریس کی بات نہیں کررہا،مسلمانوں کی بات کررہا ہوں۔ مگر اس عظیم آدمی کی حددرجہ مثبت سوچ  نے ہمیں ایک بہترین ملک عطاکیا۔یہ الگ بات کہ ہمارے عامیانہ رویوں نے اس نعمت کی قدرنہیں کی۔ بلکہ شدیدناقدری کی۔کئی دن سے سوچ رہا ہوںکہ اگرواقعی ہمارے لیے معدودے چند لوگوںنے کارنامے انجام دیے ہیں،تووہ سارے معتوب گردانے گئے۔شاہ صاحب کی بات کم ازکم مجھے تو درست معلوم ہوتی ہے۔یہ معتوب سوچ ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی کاباعث بنتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔