بنام حزب اختلاف!

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین  پير 23 نومبر 2020

بلاول! تھوڑی دیر کے لیے سوچو! جس شہید ماں نے تمہیںزمانے کے سرد و گرم سے بچائے رکھا، تمہیں تکالیف کی کبھی آنچ تک نہ آنے دی،آج اگر وہ حیات ہوتیں تو کیا اپنے جگر کے ٹکڑے،ایک محنتی سیاست دان اور انتھک جدوجہد کے نشان خاندان کے آخری نرینہ چشم و چراغ کوکورونا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتیں؟ کون کہتا ہے کہ حزب اختلاف کا جمہوریت میں کوئی کردار نہیں لیکن جمہور کی خاطر جمہوریت کا اسٹیج تیار کرنے والے اگر تمام کردار ایک موذی مرض کے نشانے پر ہیں اور خود اُن کی آوازوں پر کان دھرنے والے کو بھنبھوڑنے کے لیے موت کی سیاہ کاریاں دھاک لگائے بیٹھی ہوں تو کون کس کے  لیے لڑے گا؟

اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانات کے علاوہ میں آپ کے ہر جمہوری حق کے ساتھ کھڑا ہوں لیکن مجھے مریم نواز کو وبا کا شکار ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا! مجھے مفتی محمود کے صاحبزادے کو 1973 کے آئین کے لیے آواز بلند کرتے دیکھنا ہے، مصنوعی تنفس کے سہارے سانسیں لینے والا فضل الرحمن مجھ سے نہیں دیکھا جائے گا کہ جس کے ساتھ پانچ حج کی ادائیگی کی ان مٹ یادیں ہیں۔

مریم نواز صاحبہ آپ میری بہن ہیں لیکن میں سیاسی نظریات پر آپ کا ایک مخالف ترین سیاسی بھائی ہوں۔ جناب افتخارحسین صاحب! آپ نے اپنے خاندان کے بچوں کا غم دیکھا اور خود کئی مرتبہ موت کی دلدل میں دھنسنے کے باوجود بخیر و عافیت نکل آئے تو کیا اب آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو خاکم بدہن کورونا کے پنجوںمیں پھنستا دیکھیں؟جناب رانا ثنا اللہ آپ ایک بہادر انسان ہیں،الزامات کا مقابلہ بھی کرتے ہیں اور حوصلوں میں پستی کی ایک ہلکی چیخ تک سنائی نہیں دیتی،آپ کی اس وطن کو ضرورت ہے!جناب خواجہ محمد آصف صاحب،صفدر انکل خوش نہیں ہوں گے کہ اُن کا بیٹا کسی ناگہانی (اللہ محفوظ رکھے)آفت و وبا میں مبتلا ہو۔

انکل آپ کو دیکھ رہے ہیں اور واللہ میرا کسی قسم کا کوئی ایجنڈا نہیں،آپ لوگو ںکی ضد تو پھر آپ ضد ہی کریں لیکن چونکہ میں خود تکلیف کے اِس بدترین وقت سے گذر رہا ہوںاِس لیے نہیں چاہتا کہ آپ سب کو ذرا سی بھی آنچ آئے…….عمران خان اور اُس کے ساتھیوں پر تو آپ ویسے بھی دن رات تبرے پڑھتے ہی رہتے ہیں۔

چینلز موجود ہیں،من پسند آوازیں ساتھ دینے کو تیار ہیں تو دیجیے جتنی گالیاں دینا  ہے لیکن اپنی صحت برباد کر کے نہیں! کل تک تو لاک ڈاؤن کے ثمرات و بعد ازقابوئے حالات پر آپ سب عمران خان کے خلاف تھے!اب اچانک ایسا کیا ہوا؟ کیا ان دیکھا کورونا آپ سے استنبول کے ہوٹلوں یا لندن کے ماربل آرچ کے پاس کسی کونے کھدرے میں چھپے ’’ چائے خانے‘‘ میں  ملنے آتا ہے اورآپ کو تسلیوں کی قتلیاں پیار سے کھلاتے ہوئے یقین دلا کر جاتا ہے کہ ’’میں جلسوں میں نہیں آؤں گا‘‘…….مجھے معلوم ہے بہتوں کو میری باتیں زہر لگ رہی ہوں گی لیکن جس قوم کے ووٹ کی عزت کی خاطر آپ خنکی میں پھیلنے والے کورونا کو خاطر جمع نہیں رکھ رہے اُس کی بے رحمی سے ابھی آپ واقف نہیں ہیں۔

اُسے نگلنے کے لیے انسان چاہیں،پی ڈی ایم یا پی ٹی آئی کے نہیں،اُسے کسی کی سیاسی وابستگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ تو بس لاشیں گننے اور کھلے بالوں سے موت کا رقص کرنے آیا ہے، 356ووٹوں کے ذریعے  ہم اورآپ مل کر ’’ووٹ کو عزت دے تو چکے‘‘ ابھی کتنی مزید دینا باقی ہے؟اور پھر ویسے بھی اے معزز رہنماؤں!ہم ہوتے  ہی کون ہیں کہ کسی کے میلے کفن کو دیکھیں؟ہم سب کی تو اپنی اپنی قبور کے معاملات بڑے سخت ہیں!غضب خدا کا کہ انتخابات میں شکست چنی بابوکی پرانی شراب کی طرح پی ایم ڈی کے دیوداسوں سے ایسی الجھی ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ پارو کسی اور کی ہو چکی مگر ٹھرک ایسی کہ چندر مکھی کے پاس بھی جائیں گے اور مرنے کے لیے پارو کی سسرال ہی آئیں گے…….سب کے سب حساب کے بہت کچے ہیں!!

جانتا ہوں کہ آپ سب نے کرنا وہی ہے جس کا دماغ بنا چکے ہیں لیکن عوام پر رحم فرمائیے! یہاں ویسے ہی نہ آپ قوانین پر عمل کروا رہے ہیں اور سرتاپا جہالت پر مبنی بیانات سے سہمے،پریشاں، لرزاں اور نفرتوں کے پیچیدہ لفظوںکو سلجھاتے سلجھاتے اپنی ہی الجھنوں میںاس قدر گم کہ جیسے سب کو چھوڑچھاڑ کے نکلنے کے لیے کسی راستے کی  تلاش میں ہیں……. اُس قوم کے بارے میں تھوڑا بہت سوچ لیجیے……. مانتا ہوں کہ آپ سب یوٹرن والے نہیں بس ناک کی سیدھ میں چلتے ہوئے ٹکراجانے والے غصیلے ہیں مگر کچھ اپنے لیے بھی کبھی یاد رکھا کیجیے کہ

چل پڑا ہو ں زمانے کے اُصولوں پر محسن

میں اب اپنی ہی باتوں سے مکر جاتاہوں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔